Mahmood Asghar CH محمود اصغر چوہدری
ترقی یافتہ معاشروں میں معاشرتی برائیوں سے آگاہی اورلوگوں کی تربیت کے لئے تدریس وتبلیغ کے مختلف طریقہ کار اختیار کئے جارہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں محراب ومنبر سے لیکر سیاسی و سماجی محاذوں پرصدیوں سے تربیت کا ایک ہی طریقہ رائج ہے اور وہ ہے ”ون مین شو“والا یعنی کسی بھی مسئلہ پر بات چھیڑنی ہوتو مذہبی ، سیاسی یا سماجی تنظیمات کی جانب سے بڑی تیاری کی ساتھ ایک اسٹیج سجایا جاتا ہے اسکے بعد ایک مہمان بلایا جاتا ہے جو دو دو تین گھنٹے بلاتکان بولتا ہے اور ایسی ایسی سریں لگاتا ہے کہ سننے والا کشمکش میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ بات کرنے والا مبلغ ہے، معلم ہے یا گلوکار ؟ اس ون مین شو میں اس کے سامنے ایک ہجوم اکٹھا کیا جاتا ہے جس میں سے کسی کو اس بات کی اجازت نہیں ہوتی کہ وہ خطاب کے آخر میں کسی قسم کا سوال کرے اور اگر کہیں کوئی سوال کرنے کی جسارت کر بیٹھے تو اس کی ایسی درگت بنائی جاتی ہے کہ آئندہ وہ کسی بھی محفل میں سوال کی کوشش نہ کرسکے سیاسی محفلوں میں میزبان اعلان کر دیتا ہے کہ کوئی بھی سیاسی سوال نہیں کیا جا سکتا عجیب معمہ بن جاتا ہے کہ سیاسی قائد سے سیاسی سوال نہ کریں تو کیا صرف و نحو پر گفتگو کی جائے سوال کیا جانا برائے راست قائد کی توہین کے مترادف سمجھا جاتا ہے مذہبی محافل میں سوال کر نے والے کے سر پر یہ خوف تلوار کی طرح لٹکتا رہتا ہے کہ اگر مبلغ کوسوال کو جواب نہ آتا ہوا تو وہ سیدھا سیدھا کافر کا فتوی ٰ لگا کر دائرہ اسلام سے خارج ہی نہ کر دے جدید دنیا میں انسان کی تربیت میں فلم اور تھیٹر کا بھی بہت اہم کردار ہے لیکن پاکستان جیسے معاشرے میں فلم اور تھیٹر کو اکثریت تو ویسے ہی گناہ خیال کرتی ہے اور جو لوگ اس کو گناہ نہیں سمجھتے وہ بھی ان کی مدد سے معاشرتی برائیوں کی بجائے فحاشی اور بے ہودگی کو ترویج تو دیتے ہیں لیکن ان کی مدد سے کسی سماجی مسئلہ کو خال خال ہی زیر بحث لاتے ہیں
جو چیزیں انسا ن کوراحت کا احساس دلاتی ہیںان کا انحصار اس بات پرہے کہ وہ انسان کی طبیعت کوکتنی بھلی محسوس ہوں جیسے خوبصورت رنگ اور سبزہ آنکھوں کوسکون دیتا ہے اسی طرح قدرتی مناظراور بہتا پانی ذہن کو ، عقل و شعور کی باتیں دماغ کو، خو شبوناک اور سونگھنے کی حس کو ، لذیذ کھانے قوت ذائقہ کواور دلکش و سریلی آوازیں کانوں کو راحت پہنچاتی ہیںلیکن راحت اور مسرت کے لئے ضروری ہے کہ کوئی ایسا عمل ہو جو انسانی احساسات میں ارتعاش پیدا کرے اور مسرت سے آگاہی ممکن بنائے خوشی کا احساس اس آگ کی طرح ہوتا ہے جو پتھر میں پوشیدہ تو ہوتی ہے لیکن عام حالات میں نظر نہیں آتی لیکن جوں ہی اس پتھر پر ضرب لگائی جائی تو اس کے اندر ارتعاش پیدا ہوتے ہی وہ اپنے اندر چھپی آگ کو باہر نکال دیتا ہے پرندوں کی چہچہاہٹ ، عصر کی اذان ، صبح کی تلاوت اور نعت کے میٹھے بول یہ سب ایسے سریلے احساسات ہیں جن کے سننے سے انسان کی اندورنی دنیا میں راحت و فرحت پیدا ہوتی ہے انسانی طبیعت میں یہ فرحت یہ خوشی پہلے سے موجود ہوتی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ انسان کے پتھر دل پر ضرب لگانے کے لئے کسی آرٹسٹ کی ضرورت ہوتی ہے جو اس احساس کو باہر نکالنے کا سبب بنے انسان کی خوشی اس بات میں بھی مضمر ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو پہچان لے کہ کونسی ضرب اس کے پتھر دل میں ارتعاش پیدا کرنے اور اس کے اندر ونی حرارت باہر نکالنے کا سبب بن سکتی ہے