جو چیزیں انسا ن کوراحت کا احساس دلاتی ہیںان کا انحصار اس بات پرہے کہ وہ انسان کی طبیعت کوکتنی بھلی محسوس ہوں جیسے خوبصورت رنگ اور سبزہ آنکھوں کوسکون دیتا ہے اسی طرح قدرتی مناظراور بہتا پانی ذہن کو ، عقل و شعور کی باتیں دماغ کو، خو شبوناک اور سونگھنے کی حس کو ، لذیذ کھانے قوت ذائقہ کواور دلکش و سریلی آوازیں کانوں کو راحت پہنچاتی ہیںلیکن راحت اور مسرت کے لئے ضروری ہے کہ کوئی ایسا عمل ہو جو انسانی احساسات میں ارتعاش پیدا کرے اور مسرت سے آگاہی ممکن بنائے خوشی کا احساس اس آگ کی طرح ہوتا ہے جو پتھر میں پوشیدہ تو ہوتی ہے لیکن عام حالات میں نظر نہیں آتی لیکن جوں ہی اس پتھر پر ضرب لگائی جائی تو اس کے اندر ارتعاش پیدا ہوتے ہی وہ اپنے اندر چھپی آگ کو باہر نکال دیتا ہے پرندوں کی چہچہاہٹ ، عصر کی اذان ، صبح کی تلاوت اور نعت کے میٹھے بول یہ سب ایسے سریلے احساسات ہیں جن کے سننے سے انسان کی اندورنی دنیا میں راحت و فرحت پیدا ہوتی ہے انسانی طبیعت میں یہ فرحت یہ خوشی پہلے سے موجود ہوتی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ انسان کے پتھر دل پر ضرب لگانے کے لئے کسی آرٹسٹ کی ضرورت ہوتی ہے جو اس احساس کو باہر نکالنے کا سبب بنے انسان کی خوشی اس بات میں بھی مضمر ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو پہچان لے کہ کونسی ضرب اس کے پتھر دل میں ارتعاش پیدا کرنے اور اس کے اندر ونی حرارت باہر نکالنے کا سبب بن سکتی ہے انسان کی طبیعت شاد ہو تو فطری سے بات ہے کہ وہ کچھ گنگناتا شروع کر دیتا ہے زیادہ پرانی بات نہیں ہے جب انسانی معاشرہ میںمادیت پرستی نے عروج نہیں پکڑ اتھا اور انسان نے خواہشات کے گودام بھرنے کا مشغلہ نہیں اپنا یا تھاتو شام ڈھلتے ہی دیہات کے پر سکون ماحول میں ایک طرف فضاﺅں میں قطار در قطار پنچھی اپنے ٹھکانوں کو لوٹتے تھے تو دوسری جانب کہیں دن بھر کھیتوں میں مشقت کرنے والا کسان اپنے ڈھور ڈنگر کے ساتھ” ماہیے “گنگناتا واپس گاﺅں کولوٹتا تھاتو کہیں شہر کا فیکٹری ورکر اپنی سائیکل پر شاداں وفرحاں اپنے راہ تکتے گھروالوں کے پاس لوٹنے کے لئے اپنے ہونٹوں پرہلکی سی سیٹی سجاتا تھا یوں تو ”سیٹی گم ہونا “کامحاورہ کسی مشکل میں پھنس جانے کی طرف اشارہ کرتی ہے لیکن پاکستانی بالخصوص خوش ہونا اور خوشی سے محظوظ ہونا بھول گئے ہیں اس بات کا اندازہ مجھے گزشتہ دنوں اٹلی کے شہر میلان میں پاکستان کی دنیائے موسیقی کے شہنشاہ راحت فتح علی خان کا کنسرٹ دیکھنے سے ہوا راحت ان دنوں ورلڈ ٹور پر تھے اور ان کے ٹور کا آخری پروگرام فیشن کی دنیا میں اپنا بلندمقام رکھنے والے شہر میلان میں تھا
راحت فتح علی خان کو کون نہیں جانتا اس وقت انڈین، پاکستانی اور بنگلہ دیشیوں کے علاوہ شایدہی کوئی ایسا اردو سمجھنے والا ہو جو اس کی شہرہ آفاق موسیقی سے بے خبر ہو ،راحت فتح علی خان کے تعارف کراتے ہوئے انہیں نصرت فتح علی خان کا بھتیجا بتا نا ان کے فن کے ساتھ ناانصافی ہے کیونکہ جب اتنا بڑا نام ان کے ساتھ جڑتا ہے تو ان کا قد چھوٹا لگنا شروع ہوجاتا ہے جیسے کسی چوٹی کا مقابلہ کسی بلند پہا ڑسے نہیں کرنا چاہیے اسی طرح ان کے تعارف میں نصرت فتح علی کا حوالہ نہیں دیا جانا چاہیے اگرکچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قسمت کی دیوی راحت فتح علی خان پر مہربان ہے تو انہیں شاید راحت کو سننے کا موقع نہیں ملا کیونکہ وہ اگر انہیں سن لیں تو انہیں اندازہ ہوکہ راحت کی کامیابی میں قسمت کی بجائے اس کی ذاتی محنت کا کتنا بڑا عمل دخل ہے
پاکستانیوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ انہیں اپنے ہیرے کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ کسی غیر کے ماتھے پر چمکنا شروع ہوتا ہے راحت فتح علی خان کی عالمی سطح پر کامیابیوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب وہ پڑوسی ملک کے فلم سازوں کے ہاتھ آیااورانڈیامیں کامیاب ہونے والی فلمیں اس کے ہر دلعزیز گیتوں کی مرہون منت ہونے لگیں فلم" دبنگ " کے ایک گیت پر انہیں چار ایوارڈ ملے جن میں آئیفا ایوارڈ سرفہرست ہے 2010ءمیں شاہ رخ خان کی فلم " مائی نیم از خان" کے لئے راحت کے میوزک نے وہ مقام بنایا کہ اٹلی میں اس کی جب اطالوی ڈبنگ ریلیز ہوئی تو وہ اطالوی بھی اس پر سر دھنتے پائے گئے جنہیں اردو کی سمجھ ہی نہیںہے بالی وڈ فلموں میں اسکے گیت سال کے سب سے زیادہ سنے جانے والے گانوں کا ٹائیٹل بھی لینا شروع ہوگئے اور آخر راحت فتح علی خان کے گانے " تیری میری ، میری تیری پریم کہانی"کی دنیا بھر میں مچی دھوم کی بدولت انڈیا کی معمولی نوعیت کی فلم بھی ڈیڑھ ارب روپے کا ریکارڈ بزنس کرگئی گزشتہ دنوں انہیں اسی گیت کی بنا پر لندن میں اس عشرے کا بیسٹ ایشیائی سنگر کے ایوارڈسے بھی نواز ا گیا
راحت نے 2003ءمیں بھارتی فلموں سے گیتوں کا سفر شروع کیا توہٹ گانوں کی لائین لگادی اخبارات میں یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ راحت فتح علی خان بیرون ممالک میں ایک پروگرام کا معاوضہ ایک لاکھ امریکی ڈالر لینے والے پہلے پاکستانی گلوکار بھی بن گئے ہیںایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق وہ پہلے پاکستانی گلوکار ہیں جنہیں امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور یورپ سمیت دیگر ممالک میں پرفارم کرنے کے فی شو ایک لاکھ امریکی ڈالر ادا کئے جارہے ہیں جبکہ وہ پاکستان میں ایک شو میں پرفارم کرنے کا معاوضہ بیس سے پچیس لاکھ روپے وصول کرتے رہے ہیں راحت فتح علی خان کے منیجرکے مطابق ایک لاکھ امریکی ڈالر صرف راحت فتح علی خان کی پرفارمنس فیس ہے جبکہ بیرون ملک جانے کے لئے بیس سے زائد افراد پر مشتمل ٹیم کی ائیر ٹکٹنگ، فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام اور دیگر مراعات کے اخراجات پروموٹرز کے ذمے ہوتے ہیںڈیڑھ ارب کے باسیوںکا ملک انڈیا جن کا اوڑھنا بچھونا موسیقی ہے اور جو موسیقی کو اپنی دیوی ”سرس وتی “ کی دَین سمجھتے ہیں ان کے ملک میں جاکرہمارے سنجیدہ گائیک اپنے فن کا لوہا منوارہے ہیں اور ان سے اپنے گھٹنوں کو ہاتھ لگوا رہے ہیں اور دوسرے جانب ہمارے ملک کی حالت یہ ہے کہ ہم بازاری گانوں اور گھٹیا شاعری کو عروج دے رہے ہیں تاکہ اس ملک سے آرٹ و فن کا دیوالیہ نکل جائے
میلان میں ہونے والے شو میں اٹلی میں پاکستانی قونصلیٹ سے قونصل جنرل زاہد علی خان کے علاوہ پاکستانیوں کی قلیل تعداد موجود تھی لیکن انڈیا اور بنگلہ دیش کے شہری اپنی اپنی فیملیوں کے ہمراہ بڑے پر جوش طریقے سے اس کنسرٹ میں شامل ہوئے اس بات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم پاکستان سے آنے والے سیاسی کلاکاروں کے جھانسے میں آکر تو ہزاروں یورو خرچ کر سکتے ہیںلیکن ہم نہ تو فن کے قدر دان ہیں اور نہ ہی ہم آرٹ شناس ہیں چھ سات سو شائقین ِموسیقی میں فخر پاکستان راحت فتح علی خان کے اپنے دیس سے شامل ہونے والے اوورسیز پاکستانیوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی لیکن راحت فتح علی خان بڑے فخر سے اپنا اور اپنے گروپ کا تعارف بحیثیت پاکستانی ہی کراتے رہے
اگرکوئی شخص کسی بھی فن ،کھیل یا آرٹ میں اپنا لوہا منوا لے تواس کے چاہنے والوں میں سرحدوں کی بندش ختم ہوجاتی ہے جب لوگ کسی کی عزت اسکے فن کی بنا پر کرنے لگیں تووہ سب کے دلوں پر راج کرنا شروع ہوجاتا ہے کسی بھی صحت مند معاشرے کی ترویج میں فن اور آرٹ مثبت کردار ادا کرتے ہیں بین الاقوامی سطح پر امن کی کاوشوں میں سب سے اہم کردارکسی بھی ملک کے آرٹسٹ ، کھلاڑی ، فنکار اور گلوکار ہی بہتر طریقے سے ادا کرسکتے ہیں کیونکہ ان کے فن کے مظاہرہ میں کسی ہتھیار ، کسی بندوق اور کسی بارود کی ضرور ت نہیں ہوتی اور نہ ہی فن وآرٹ کی دنیا کسی ملک ،کسی علاقہ یا کسی سرحد کی جاگیر ہوتی ہے جب کوئی آرٹسٹ سب میں ہر دلعزیز ہوجاتا ہے تو پھر ہر ملک کے شہری کو وہ اپنا لگتا ہے میلان کنسرٹ میں بھی راحت کی موسیقی نے پاکستانی، انڈین ، بنگلہ دیشی ، افغانی اور اطالوی باشندوں کو ایک لڑی میں پرو دیا تھاان کی درمیان دوریوں کی دیواریں ہٹ گئی تھیں اور وہ اسی کے رنگ میں رنگے گئے ان کے چہرے پر ابھرنے والی شادمانیوں سے اندازہ ہوتاتھا کہ راحت فتح علی خان کو پتھر دلوں پر ضرب لگا کر خوشی کی حرارت باہر نکالنے کا فن آتا ہے وہ گا تو بیٹھ کر رہے تھے لیکن ان کے فن میں اتنی طاقت تھی کہ سامنے کرسیوں پر بیٹھنے والے بار بار پاﺅں پر کھڑے ہوجانے پر مجبورہوجاتے تھے راحت نے کنسرٹ ہال کی انتظامیہ اور موسیقی سننے آنے والے اطالوی باشندیوں کے سامنے یہ ثابت کر دیا کہ اگر انسان کے فن میں کمال ہو تووہ اچھل کود کئے بغیر ”اللہ ہو اللہ ہو “کی ضرب لگا کر لوگوں کو دلوں پر دستک دے سکتا ہے اور ان پر وجدکی کیفیت طاری کر سکتا ہے

0 commenti:
Posta un commento