کیا مقابلہ ان قوموں کا جو ہر افتاد کی توجیہہ تلاش کرنے اور اس کا تدارک کرنا قومی فریضہ سمجھیں اس قوم سے جو ہر مصیبت اور کٹھن لمحہ میں صرف اور صرف تقدیر کو مورد الزام ٹھہر ا کر اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرے کیا مقابلہ اس قوم کا جو کسی سانحہ پر تدبر ، تجزیہ اور سوچ کی راہ اختیار کرے اس قوم کے ساتھ جو ہر بات کو غیروں کی سازش قرار دے کر ساری ذمہ داری دوسروں پر ڈال دے اٹلی کی عدالت نے ایک قدرتی آفت پر تاریخی فیصلہ دیکر پوری دنیا کوسوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ اٹلی والوں کے لئے ان کے شہریوں کی جان کی کیا قیمت ہے اٹلی کے شہر لا قولہ میں سال 2009ءکے ایک زلزلہ کے نتیجہ میں ہلاک ہونے والے چند شہریوں کے جانب سے حکومت کے خلاف کئے گئے ایک کیس میں عدالت نے ساڑھے تین سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے ملک کے قدرتی خطرات کے سب سے بڑے کمیشن کے سات اعلی ٰ عہدہ داران اور ملک کے نامی گرامی سائنسدانوں کو 6چھ سال قید کی سز ا سنادی ہے اور ملک کی وزارت عظمی ٰ کو مجرم قرار دیتے ہوئے متاثرین کو7.8ملین یورو ہرجانہ ادا کرنے کاحکم جاری کیاہے
واقعہ کچھ یوں ہے کہ اٹلی کے لاقولہ شہر میں دسمبر 2008ءمیں زلزلوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس میں وقفہ وقفہ سے ہلکے زلزلے آرہے تھے لوگ خوف اور ڈر کی کیفیت میں گھروں کے اندر سونہیں رہے تھے حکومتی سطح پر قدرتی آفات کے خطرہ کے لئے ایک کمیشن قائم ہے جس نے مورخہ 31مارچ 2009ءکو ایک اہم اجلاس بلایا جس میں ماہرین نے ان زلزلوںکی صورت حال اور مستقبل کی پشین گوئی کرناتھی صرف 45منٹ کے اجلاس کے بعد کمیشن نے اپنے علم و تجربات کی بنیا دپر اعلان کیا کہ شہر میں مزید کسی بڑے زلزلہ کا کوئی خطرہ نہیں ہے لوگوں نے حکومت کی جانب سے قائم کردہ اس اہم کمیشن کے اعلان پر بھروسہ کر لیا اور اپنے گھروں میں سکون کی نیند لینا شروع کر دی لیکن اس اعلان کے ٹھیک 5دن بعد مورخہ 6 اپریل 2009ءکو لاقولہ میں ہی 6.3درجہ سکیل کا زلزلہ آیا اورسارا شہر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں 309لوگ ہلاک اور 1500افراد زخمی ہوگئے
اٹلی کی عدالت نے31مارچ 2009ءکی میٹنگ میں خطرہ نہ ہونے کااعلان کرنے والے اس وقت کے کمیشن کے صدرفرانکو باربیری اور کمیشن کے دیگراہم ممبران یعنی نائب صدرسول پروٹیکشن ، صدر برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ،صدر زلزلہ ڈیپارٹمنٹ اور جینوا یونیورسٹی کے فزکس کے ایک پروفیسرکو 29افراد کے قتل اور چار آدمیوں کے زخمی ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے 6سال قید کی سز ا سنائی ہے اور ملک کی وزارت عظمی ٰ کو بھی اس فیصلہ میں ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اسے حکم دیاہے کہ وہ متاثرہ علاقہ کو 7ملین یورو کا ہرجانہ ادا کرے
سزاﺅں کی تاریخ میں یہ انوکھی اور بھاری سز اہے کیونکہ متاثرین کے وکلاءنے ماہرین کے لئے صرف 4سال قید کی سز ا کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن جج نے چھ چھ سال کی قید کی سزا سنائی ہے عدالت نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ ماہرین کی جانب سے ”پیشہ وارانہ تجاہل “ سے کام لیا گیا ہے جو ”خطرہ کی ناقص پشین گوئی“ کا سبب بنا اورجس کے نتیجہ میں جو معلومات دی گئی وہ ”نامکمل ، غلط، اور خطرہ کی نشاندہی کے حوالہ سے متضاد تھیں “
اس فیصلہ کے بعداٹلی میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کیونکہ زلزلہ جیسی قدرتی آفات کے بارے میں وقت سے پہلے سو فیصدصحیح پشین گوئی نہیں کی جا سکتی حکومت کا موقف ہے کہ اس فیصلہ کے بعد ملک کے ماہر ین و سائنسدان اس اہم شعبہ میں کام کرنے سے کنی کترائیں گے اور مستقبل میں کسی ممکنہ سز ا کے خطرہ کے باعث یہ نوکری اختیار نہیں کریں گے لیکن میرے خیال میں اس قسم کے فیصلہ قوموں کی تقدیر بدلنے اور انہیں خدا کی کائنات میں پوشیدہ رازوں سے آشکار کرنے کے لئے مدد گار ثابت ہوتے ہیں
آپ اپنے ملک پاکستان کا مقابلہ اس واقعہ سے کریں تو صرف 2005ءمیں آنے والا زلزلہ 82ہزار لوگوں کی ہلاکت کا سبب بنا اور حکومتی اداروں اور انتظامیہ کی معلومات کا عالم یہ تھا کہ ابتدائی لمحات میں انہیں پتہ ہی نہیں چل سکا تھا کہ کتنی بڑی تباہی ہوئی تھی حکومتی ترجمان بی بی سی کو ایک ہزار متاثرین کی اطلاعات دے رہی تھیں ، سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے اس وقت کے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے راولپنڈی میں صرف ایک بچی کے مرنے کی اطلاع دی جو سکول سے واپس گھر آرہی تھی ملک کے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اسلام آباد میں ایک بلڈنگ کے نیچے ایک درجن افراد کے مرنے کی اطلاع دنیا کو دی چلیں یہ تو ابتدائی اطلاعات تھیں لیکن زلزلہ کے بعد حکومت نے کیا اقدامات کئے؟ کون سے شعبہ نے مستقبل کی کیا پالیسی مرتب کی ؟اس کے بارے کوئی نہیں جانتا صدر مشرف نے ماہرین پر نہیںبلکہ فوجیوں پر مشتمل جو ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا شعبہ بنایا اس کی کیا رپورٹ تھی؟
چلیں خیر قدرتی آفات کی تو ذمہ داری پاکستان میں کون لے گا ہمارے ہاں تو عید کے دن ٹی وی پر خبر آتی ہے کہ ایک باپ عید قربان پراپنے پانچ بچے موٹر سائیکل پر بٹھا کر دوسرے شہر قربانی دکھانے لے جا رہا تھا اور انہیں شالیمار ایکسپریس نے اڑا دیا گھر میں صف ماتم بچھ گئی اس پر بھی ذمہ دار تقدیر کو ہی ٹھہرایا گیا ہوگااس قسم کے موٹر سائیکل سواروں کو کہاں سے ایسا لائسنس جاری ہوتا ہے جس کے تحت اتنی چھوٹی سی سواری پر پانچ بچے بٹھائے جا سکتے ہیں
ابھی ڈیڑھ ماہ پہلے لاہور کی ایک جوتا فیکٹری میں 29لوگ جل کر مر گئے بتایا گیا کہ فیکٹری کا جنریٹر ناقص تھا جس کی وجہ سے آگ لگ گئی اسی روز کراچی میں ایک اور فیکٹر ی میں 9آدمی جل کر مر گئے اس میں بھی خراب جنریٹر کو موردالزام ٹھہرایا گیا ان جنریٹر وں کا سرٹیفیکیٹ کون جاری کرتا ہے؟اور کیا کسی الیکٹریشن یا کسی جنریٹر کمپنی کوقیمتی جانوں کے ضیائع پر سزا ملتی ہے ستمبر کے ہی مہینے میں کراچی کی ایک ٹیکسٹائیل فیکٹری میں 300سے زیادہ لوگ جل کر راکھ ہوگئے اور ان پر انحصار کرنے والے ہزاروں افراد بے یارو مدد گار ہوگئے ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا کہ فیکٹری کا گزشتہ نو سال سے الیکٹریکل معائنہ نہیں ہواتھا فائر برگیڈ کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ فیکٹری کے اندر آگ بجھانے کا کوئی بندوبست نہیں تھا ، الیکٹرک فٹنگ ناقص اورخطرناک تھیں فیکٹری سے نکلنے کے سارے دروازے بنداور ایمرجینسی دروازہ پر تالاتھا اوپر والی منزلوں میں جو کھڑکیاں تھیں ان میں لوہے کی مضبوط سلاخیں تھیں جنہیں توڑنااور وہاں سے چھلانگ لگانا ناممکن تھا ہمارے ملک میں ان واقعات پر ہر دفعہ یہی خبر آتی ہے کہ صدر نے نوٹس لے لیے لیکن اس نوٹس کا کیا بنتا ہے اس کی کوئی خبر نہیں ملتی
حکومت پاکستان نے 1953ءسے بین الاقوامی کنونشن بھی سائین کیا ہوا ہے جس کے تحت فیکٹریوں اور کام کے دیگر شعبہ جات میں ورکروں کی سیکورٹی کے لئے انسپکشن حکومتی ماہرین پر لازم ہے ،پاکستان کے آئین کے تحت مزدوروں کے جان اور صحت میں خطرہ کی صورت میں حفاظت پاکستانی قوانین میں لازمی ہے لیکن حالت یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے دئے گئے آخری اعداد وشمار کے مطابق صرف سال 2008ءمیں 419ایسے حادثات ہوئے ہیں جن کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ کام کے سیکورٹی سے متعلق قوانین کی پابندی نہیں کی گئی تھی اس عید کی بھی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ کراچی ہی میں شیرشاہ میں گلبائی چوک کے قریب واقع کیمیکل فیکٹری میں اچانک لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری فیکٹری کو لپیٹ میں لے لیا، شہربھرکے فائربرگیڈرات بھرامدادی کام میں مصروف رہے کیمیکل کے ڈرم پھٹنے سے فیکٹری میں کئی دھماکے ہوچکے ہیں آگ نے فیکٹری کےساتھ اناج کے گوادم کو بھی لپیٹ میں لے لیا
ہمارے ملک میں ہر سال سیلاب ہماری فصلوں اور میویشیوں کو تباہ کر کے چلا جاتا ہے ، ٹریفک حادثات ہزاروں زندگیوں کو خاک کے طرح اڑا دیتے ہیں ،دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا اژدھاہزاروں انسانی جسموں کو نگل گیاہے ، ملاوٹ شدہ ادویات کئی زندگیوں کا چراغ گل کر گئی ہیں ،ہماری سڑکیں ریت کے طرح اڑجاتی ہیں ،پل کاغذ کی طرح بہہ جاتے ہیں ، بلڈنگیں زمین بوس ہوجاتی ہیں ، بچوں تک کے سکولوں کی چھتیں گر جاتی ہیں ، بسوں کو آگ لگ جاتی ہیں، ٹرینیں حادثوں کا شکار ہوجاتی ہیں ،بچے گٹروں کے ڈھکنوں کی عدم موجودگی میں گر کر ہلاک ہوجاتے ہیں ، ریلوے پھاٹک غائب ہوجاتے ہیں ، واپڈا کی تاریں ننگی ملتی ہیں لیکن کبھی کسی عدالتی قانون میں کبھی کسی انجینئر کو سز ا نہیں ہوتی ، کسی ٹھیکیدار کو عدالت کے سامنے نہیں لایا جاتا ،کسی میڈیکل کمپنی کسی ڈاکٹرکو سزا نہیں سنائی جاتی ، ایفی ڈرین تک کے کیس کو سیاسی سازش قرار دیا جاتا ہے ، ڈینگی مچھر کے تدارک نہ کرسکنے والی ماہرین کی کسی ٹیم کو سزا نہیں سنائی جاتی ٹریفک حادثہ میں کبھی کسی ایسی انسپکشن ٹیم کو قانون کے کٹہرے میں نہیں کھڑا کیا جاتا جس نے ناقص گاڑیوں کو لائسنس جاری کیاکبھی کوئی ایسا سروے نہیں کیا جاتا کہ کتنی فیکٹریاںانسانی جان کی حفاظت کے قوانین پر پوری اترتی ہیں کتنے سکول بچوں کی تعداد کے لحاظ سے مناسب سیکورٹی انتظامات رکھتے ہیں کیونکہ انفرادی و اجتماعی طور پر ہم نے ہر سانحہ اور حادثہ کی ساری ذمہ داری تقدیر پر ڈالنا ہوتی ہے تدبیر سے ہمارا کوئی سرو کار نہیں اسی لیے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے کبھی اپنی اونٹنی کا گھٹنا باندھنا ضروری نہیں سمجھتے
واقعہ کچھ یوں ہے کہ اٹلی کے لاقولہ شہر میں دسمبر 2008ءمیں زلزلوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس میں وقفہ وقفہ سے ہلکے زلزلے آرہے تھے لوگ خوف اور ڈر کی کیفیت میں گھروں کے اندر سونہیں رہے تھے حکومتی سطح پر قدرتی آفات کے خطرہ کے لئے ایک کمیشن قائم ہے جس نے مورخہ 31مارچ 2009ءکو ایک اہم اجلاس بلایا جس میں ماہرین نے ان زلزلوںکی صورت حال اور مستقبل کی پشین گوئی کرناتھی صرف 45منٹ کے اجلاس کے بعد کمیشن نے اپنے علم و تجربات کی بنیا دپر اعلان کیا کہ شہر میں مزید کسی بڑے زلزلہ کا کوئی خطرہ نہیں ہے لوگوں نے حکومت کی جانب سے قائم کردہ اس اہم کمیشن کے اعلان پر بھروسہ کر لیا اور اپنے گھروں میں سکون کی نیند لینا شروع کر دی لیکن اس اعلان کے ٹھیک 5دن بعد مورخہ 6 اپریل 2009ءکو لاقولہ میں ہی 6.3درجہ سکیل کا زلزلہ آیا اورسارا شہر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں 309لوگ ہلاک اور 1500افراد زخمی ہوگئے
اٹلی کی عدالت نے31مارچ 2009ءکی میٹنگ میں خطرہ نہ ہونے کااعلان کرنے والے اس وقت کے کمیشن کے صدرفرانکو باربیری اور کمیشن کے دیگراہم ممبران یعنی نائب صدرسول پروٹیکشن ، صدر برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ ،صدر زلزلہ ڈیپارٹمنٹ اور جینوا یونیورسٹی کے فزکس کے ایک پروفیسرکو 29افراد کے قتل اور چار آدمیوں کے زخمی ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے 6سال قید کی سز ا سنائی ہے اور ملک کی وزارت عظمی ٰ کو بھی اس فیصلہ میں ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اسے حکم دیاہے کہ وہ متاثرہ علاقہ کو 7ملین یورو کا ہرجانہ ادا کرے
سزاﺅں کی تاریخ میں یہ انوکھی اور بھاری سز اہے کیونکہ متاثرین کے وکلاءنے ماہرین کے لئے صرف 4سال قید کی سز ا کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن جج نے چھ چھ سال کی قید کی سزا سنائی ہے عدالت نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ ماہرین کی جانب سے ”پیشہ وارانہ تجاہل “ سے کام لیا گیا ہے جو ”خطرہ کی ناقص پشین گوئی“ کا سبب بنا اورجس کے نتیجہ میں جو معلومات دی گئی وہ ”نامکمل ، غلط، اور خطرہ کی نشاندہی کے حوالہ سے متضاد تھیں “
اس فیصلہ کے بعداٹلی میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کیونکہ زلزلہ جیسی قدرتی آفات کے بارے میں وقت سے پہلے سو فیصدصحیح پشین گوئی نہیں کی جا سکتی حکومت کا موقف ہے کہ اس فیصلہ کے بعد ملک کے ماہر ین و سائنسدان اس اہم شعبہ میں کام کرنے سے کنی کترائیں گے اور مستقبل میں کسی ممکنہ سز ا کے خطرہ کے باعث یہ نوکری اختیار نہیں کریں گے لیکن میرے خیال میں اس قسم کے فیصلہ قوموں کی تقدیر بدلنے اور انہیں خدا کی کائنات میں پوشیدہ رازوں سے آشکار کرنے کے لئے مدد گار ثابت ہوتے ہیں
آپ اپنے ملک پاکستان کا مقابلہ اس واقعہ سے کریں تو صرف 2005ءمیں آنے والا زلزلہ 82ہزار لوگوں کی ہلاکت کا سبب بنا اور حکومتی اداروں اور انتظامیہ کی معلومات کا عالم یہ تھا کہ ابتدائی لمحات میں انہیں پتہ ہی نہیں چل سکا تھا کہ کتنی بڑی تباہی ہوئی تھی حکومتی ترجمان بی بی سی کو ایک ہزار متاثرین کی اطلاعات دے رہی تھیں ، سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے اس وقت کے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے راولپنڈی میں صرف ایک بچی کے مرنے کی اطلاع دی جو سکول سے واپس گھر آرہی تھی ملک کے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اسلام آباد میں ایک بلڈنگ کے نیچے ایک درجن افراد کے مرنے کی اطلاع دنیا کو دی چلیں یہ تو ابتدائی اطلاعات تھیں لیکن زلزلہ کے بعد حکومت نے کیا اقدامات کئے؟ کون سے شعبہ نے مستقبل کی کیا پالیسی مرتب کی ؟اس کے بارے کوئی نہیں جانتا صدر مشرف نے ماہرین پر نہیںبلکہ فوجیوں پر مشتمل جو ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا شعبہ بنایا اس کی کیا رپورٹ تھی؟
چلیں خیر قدرتی آفات کی تو ذمہ داری پاکستان میں کون لے گا ہمارے ہاں تو عید کے دن ٹی وی پر خبر آتی ہے کہ ایک باپ عید قربان پراپنے پانچ بچے موٹر سائیکل پر بٹھا کر دوسرے شہر قربانی دکھانے لے جا رہا تھا اور انہیں شالیمار ایکسپریس نے اڑا دیا گھر میں صف ماتم بچھ گئی اس پر بھی ذمہ دار تقدیر کو ہی ٹھہرایا گیا ہوگااس قسم کے موٹر سائیکل سواروں کو کہاں سے ایسا لائسنس جاری ہوتا ہے جس کے تحت اتنی چھوٹی سی سواری پر پانچ بچے بٹھائے جا سکتے ہیں
ابھی ڈیڑھ ماہ پہلے لاہور کی ایک جوتا فیکٹری میں 29لوگ جل کر مر گئے بتایا گیا کہ فیکٹری کا جنریٹر ناقص تھا جس کی وجہ سے آگ لگ گئی اسی روز کراچی میں ایک اور فیکٹر ی میں 9آدمی جل کر مر گئے اس میں بھی خراب جنریٹر کو موردالزام ٹھہرایا گیا ان جنریٹر وں کا سرٹیفیکیٹ کون جاری کرتا ہے؟اور کیا کسی الیکٹریشن یا کسی جنریٹر کمپنی کوقیمتی جانوں کے ضیائع پر سزا ملتی ہے ستمبر کے ہی مہینے میں کراچی کی ایک ٹیکسٹائیل فیکٹری میں 300سے زیادہ لوگ جل کر راکھ ہوگئے اور ان پر انحصار کرنے والے ہزاروں افراد بے یارو مدد گار ہوگئے ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا کہ فیکٹری کا گزشتہ نو سال سے الیکٹریکل معائنہ نہیں ہواتھا فائر برگیڈ کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ فیکٹری کے اندر آگ بجھانے کا کوئی بندوبست نہیں تھا ، الیکٹرک فٹنگ ناقص اورخطرناک تھیں فیکٹری سے نکلنے کے سارے دروازے بنداور ایمرجینسی دروازہ پر تالاتھا اوپر والی منزلوں میں جو کھڑکیاں تھیں ان میں لوہے کی مضبوط سلاخیں تھیں جنہیں توڑنااور وہاں سے چھلانگ لگانا ناممکن تھا ہمارے ملک میں ان واقعات پر ہر دفعہ یہی خبر آتی ہے کہ صدر نے نوٹس لے لیے لیکن اس نوٹس کا کیا بنتا ہے اس کی کوئی خبر نہیں ملتی
حکومت پاکستان نے 1953ءسے بین الاقوامی کنونشن بھی سائین کیا ہوا ہے جس کے تحت فیکٹریوں اور کام کے دیگر شعبہ جات میں ورکروں کی سیکورٹی کے لئے انسپکشن حکومتی ماہرین پر لازم ہے ،پاکستان کے آئین کے تحت مزدوروں کے جان اور صحت میں خطرہ کی صورت میں حفاظت پاکستانی قوانین میں لازمی ہے لیکن حالت یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے دئے گئے آخری اعداد وشمار کے مطابق صرف سال 2008ءمیں 419ایسے حادثات ہوئے ہیں جن کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ کام کے سیکورٹی سے متعلق قوانین کی پابندی نہیں کی گئی تھی اس عید کی بھی تازہ ترین خبر یہ ہے کہ کراچی ہی میں شیرشاہ میں گلبائی چوک کے قریب واقع کیمیکل فیکٹری میں اچانک لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری فیکٹری کو لپیٹ میں لے لیا، شہربھرکے فائربرگیڈرات بھرامدادی کام میں مصروف رہے کیمیکل کے ڈرم پھٹنے سے فیکٹری میں کئی دھماکے ہوچکے ہیں آگ نے فیکٹری کےساتھ اناج کے گوادم کو بھی لپیٹ میں لے لیا
ہمارے ملک میں ہر سال سیلاب ہماری فصلوں اور میویشیوں کو تباہ کر کے چلا جاتا ہے ، ٹریفک حادثات ہزاروں زندگیوں کو خاک کے طرح اڑا دیتے ہیں ،دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا اژدھاہزاروں انسانی جسموں کو نگل گیاہے ، ملاوٹ شدہ ادویات کئی زندگیوں کا چراغ گل کر گئی ہیں ،ہماری سڑکیں ریت کے طرح اڑجاتی ہیں ،پل کاغذ کی طرح بہہ جاتے ہیں ، بلڈنگیں زمین بوس ہوجاتی ہیں ، بچوں تک کے سکولوں کی چھتیں گر جاتی ہیں ، بسوں کو آگ لگ جاتی ہیں، ٹرینیں حادثوں کا شکار ہوجاتی ہیں ،بچے گٹروں کے ڈھکنوں کی عدم موجودگی میں گر کر ہلاک ہوجاتے ہیں ، ریلوے پھاٹک غائب ہوجاتے ہیں ، واپڈا کی تاریں ننگی ملتی ہیں لیکن کبھی کسی عدالتی قانون میں کبھی کسی انجینئر کو سز ا نہیں ہوتی ، کسی ٹھیکیدار کو عدالت کے سامنے نہیں لایا جاتا ،کسی میڈیکل کمپنی کسی ڈاکٹرکو سزا نہیں سنائی جاتی ، ایفی ڈرین تک کے کیس کو سیاسی سازش قرار دیا جاتا ہے ، ڈینگی مچھر کے تدارک نہ کرسکنے والی ماہرین کی کسی ٹیم کو سزا نہیں سنائی جاتی ٹریفک حادثہ میں کبھی کسی ایسی انسپکشن ٹیم کو قانون کے کٹہرے میں نہیں کھڑا کیا جاتا جس نے ناقص گاڑیوں کو لائسنس جاری کیاکبھی کوئی ایسا سروے نہیں کیا جاتا کہ کتنی فیکٹریاںانسانی جان کی حفاظت کے قوانین پر پوری اترتی ہیں کتنے سکول بچوں کی تعداد کے لحاظ سے مناسب سیکورٹی انتظامات رکھتے ہیں کیونکہ انفرادی و اجتماعی طور پر ہم نے ہر سانحہ اور حادثہ کی ساری ذمہ داری تقدیر پر ڈالنا ہوتی ہے تدبیر سے ہمارا کوئی سرو کار نہیں اسی لیے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے کبھی اپنی اونٹنی کا گھٹنا باندھنا ضروری نہیں سمجھتے

0 commenti:
Posta un commento