10/09/12

غم

بعض غم گناہوں کے اس بوجھ کی طرح ہوتے ہیں جن کی کبھی معافی نہیں آتی
 عمر قید کے نتیجے میں ملنے والی اس  جیل کی چکی کی طرح ہوتے ہیں جسے  چلاتے چلاتے ہاتھ شل ہوجائیں لیکن ان سے رہائی موت سے پہلے ممکن نہیں ہوتی
جو جوتے میں چبھے ہوئے اس کانٹے کی طرح ہوتے ہیں جو سارا رستہ آ پ کے پاءوں کو زخمی کرتے رہتے ہیں اور اس جوتے کو اتارنے یا بدلنے کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا
وہ خون میں سرایت اس سرطان کی طرح ہوتے کہ جس پر ہر طبیب نے بھی اپنے ہاتھ کھڑے کر دئے ہوں کہ وہ بے بس ہے
 جوہاتھوں سے سرکنے والی ریت کے ان ذروں کی طرح ہوتے ہیں جنہیں جتنا زیادہ مٹھی میں دبایا جاءے دنیا سے چھپایا جاءے کہ کسی کو نظر نہ آئیں  اتنا ہی زیادہ پھسلتے ہیں کہ سب کو نظر آجاتے ہیں
بعض غم لاعلاج ہوتے اس عشق کی طرح جس میں وصال نہ ہوسکا اور ہجر قسمت ٹھہر گئی  

0 commenti: