” پاکستان ایکسپریس“ پر تبصرہ و تجزیہ محمو د اصغر چودھری....
جب کسی” چیز “کی ساکھ خراب ہونا شروع ہوتی ہے تو اس کا مول گر جاتاہے لیکن جب کسی قوم یا ملک کی پہچان منفی پراپیگنڈہ کے بہاﺅ میں آجاتی ہے تو اس کا مورال گرنا شروع ہوجاتا ہے برائی چھوٹی سی ہوتی ہے لیکن اچھائی کے مقابلے میںبڑی نظر آتی ہے جیسے دھوپ ہر روزبھی نکلے اسے کوئی اتنی توجہ نہیں دیتا لیکن دھند کی ایک صبح سب کوشاکی کر دیتی ہے سفید چادر پر لگا ہوا اک چھوٹا سا دھبہ اتنی زیادہ توجہ حاصل کرتا ہے کہ چادر کا اصلی حسن زیر بحث ہی نہیں آتا امریکہ میں ہونے والے نائن الیون واقعہ کی سب سے بھاری قیمت جس ملک نے ادا کی وہ پاکستان ہے جس کا ایک بھی باشندہ ان حملوںمیں برائے راست یا بالواسطہ شامل نہیں تھالیکن پاکستان کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ اسکی کم عمری میںہی دنیا میںہونے والی سپر پاورز کی بڑی جنگوں میں اس کی جیوگرافیائی پوزیشن اور نااہل قیادت کے نا عاقبت اندیش فیصلوں کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑاہے جہاں ایک طرف اسلام کے نام پرروس کے خلاف لڑی جانے والی مغربی جنگ کا تحفہ پاکستان کے باسیوں کو ہیروئین اور کلاشنکوف کلچر کی شکل میں ملا اور بھٹی کنارے بیٹھے سفید پوش وطن کے بدن پر جابجا کالک کے دھبے اور سوراخ بنتے رہے وہیں دہشتگردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں فرنٹ لائین اتحادی بننے کی قیمت پاکستان نے دہشت گردوں کے عتاب کا نشانہ بن کرادا کی آج پاکستان نے اس جنگ کے گوشوارہ میں چالیس ہزار جانیں بم دھماکوں میں ضائع کی ہیں لیکن نتیجہ یہ ہے کہ اس کے 24فوجی اسی کے اتحادیوں کے حملے میں مار دئے گئے ہیں یعنی نہ خدا ہی ملااور نہ وصال صنم برائی کو برائی سے ختم کرنے اور خون کو خون سے دھونے کی نادانی میں ریاست کے اندر رویوں اور سوچوں میں متشددانہ روش عروج پکڑگئی چند محدودے لوگوں کی سوچ ہزاروں لاکھوں مثبت ذہن والے پاکستانیوں کے نمائندگی کرنے لگی وارث شاہ ، بابا فرید ، بلھے شاہ ، اشفاق احمد ،محمد علی جناح ، اقبال اور فیض جیسے امن پسند نام منفی رویوں کی سوچ کے دھندلکوں میںغائب ہوتے چلے گئے جذباتی پن سوچوں پر ایسا حاوی ہواکہ خوف کے اس سفر میں اہل قلم بھی مصلحت اندیشی کا سہارا لیکر پاکستان کے اصل چہرہ کو دنیا کے سامنے لانے میں ناکام رہے
حال ہی میں اٹلی میں ایک مراکشی اطالوی جرنلسٹ اور مصنفہ ”انا مھجرباردچی“ کی پاکستانی کلچر پر ایک کتاب منظر عام پر آئی ہے جس کانام بھی ”پاکستان ایکسپریس “ ہے اس میں مصنفہ نے بڑی محنت سے دنیابھر کی نظروں میں پاکستان کے بارے منفی تصور کو زائل کرنے کی کوشش کی ہے دہشت گردی اور مذہبی جنونیت کے دھندلکوں سے پرے اپنے حقوق کی آواز اٹھانے والے شہریوں، پابندیوں سے قطع نظر روک میوزک سننے والے نوجوانوں اور عورت کو غلام بنا کر رکھنے والے تصور سے بہت دور ایک عورت کو مملکت خداداد کا 2دفعہ وزیرا عظم منتخب کرنے والے عوام کا تعارف کرایا ہے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان صرف وہ نہیںہے جو مغربی میڈیا دکھاتا ہے کہ جہاں پر طالبان کا راج ہے جہاں گولیاں چلتی ہیں جہاں گلیوں میں لاشیںگرتی ہیں ،جہاں بچیوں کے سکول گرائے جاتے ہیں بلکہ پاکستان وہ بھی ہے جہاں لوگ دہشت گردی سے نفرت کرتے ہیں جہاں عورتیں اپنے حقو ق کے لیے لڑتی ہیں جہاں میڈیا آزاد ہے جہاں یورپین اسٹائیل میں ایک ڈریگ کوئین ٹی وی پروگرام ہوسٹ کرتی ہے جہاں بیسیوں میوزیکل گروپ ہیںاور کئی انسانی حقوق کی تنظیمات ہیں
کتاب کی انفرادیت یہ ہے کہ مصنفہ خو دپاکستان میں اس شہر میں کئی سال تک رہی جس کا نام ذہن میں آتے ہی پاکستانیوں کے دلوں میں تو امن سکون اور تفریح کا تصور ابھرتا تھا انیسویں صدی میںبرطانوی راج میں ایک انگریز آفیسر سر جیمز ایبٹ کے رہائشی شہر اوراسی کے نام سے موسوم ہونے والا شہر جس نے اس کے حسن اور سادگی کا نقشہ اس طرح کھینچا ” یہ شہر ایک خواب سا لگتا ہے اور میں اس کے قدرتی حسن کے سامنے اپناسر جھکاتا ہوں “ لیکن ٹھیک ڈیڑھ صدی کے بعد 2مئی 2011ءسے جب اس شہرکو عالمی سطح پرپہچان ملی تو وجہ شہرت دہشت گردوںکے سرغنہ کی پناہ گاہ ٹھہری انا ایبٹ آباد میںرہی اور پاکستان میں تعلیم بھی حاصل کرتی رہیں یہ کتاب بھی اسی شہر کی گلیوںکا تذکرہ کرتی ہے جہاں 2مئی تک امریکہ کی دہشت گردی کی جنگ میں ہٹ لسٹ پر پہلے نمبر پر موجود شخص اسامہ بن لادن موجود تھا مصنفہ کے مطابق یہ حسن اتفاق ہے کہ وہ اس گھر سے چند سو میٹر کے فاصلہ پرکئی سالوں تک رہائش پذیر رہی اس لیے وہ اس گلی محلہ میں پھرنے والے لوگوںاور اس بازار میں خرید و فرخت کرنے والے دوکانداروں کے مزاج اور اندازکو بخوبی جانتی ہے
یہ کتاب آپ بیتی طرز میں لکھی گئی ہے لیکن ایک ہی وقت میں سفرنامہ اور افسانوں کا مجموعہ بھی لگتی ہے جس میں لمبے قد ،صاف رنگت ،بچگانہ مسکان اور روشن آنکھوں والی سمیرا کی داستا ن ہے جو کسی سے دوستی کرنے سے پہلے یہ پوچھتی ہے کہ وہ خدا پہ یقین رکھنے والی ہے یا نہیںجو ٹائپ رائٹنگ کی طالبہ ہے جس کی آنکھوں میں فرانس دیکھنے کے سپنے تھے لیکن اسکی داستان کا اختتام اس کزن کے ساتھ شادی پر ہوتا ہے جو اس نے نہیں بلکہ اسے کے والد نے منتخب کیا تھا مصنفہ نے اس معاشرہ پر طنز کے کوڑے بسائے ہیں جہاں ایک مڈل کلاس کی ہونہاربچی کی کہانی کا انجام والدین کی طرف سے طے شدہ شادی پر ہوتاہے لیکن اگر فیملی طاقتور ہو تو اسی ملک کی بچی ملک کی وزیر اعظم بھی بن سکتی ہے وہ لکھتی ہیں کہ پاکستان وہ ملک ہے جہاں کے سب قاعدے سب قانون اور سب اصول متوسط طبقہ کے لوگوں کے لیے ہیں جب کی ہائی کلاس کے پاس اس رقبہ کے محلات ہیں ، ان کی نائٹ لائف اس قدر رنگین ہے ان کی محافل شراب وشباب اور ناچ وموسیقی سے اس طرح لبریز ہیں کہ یورپین معاشرہ کو بھی مات دیتی ہیںوہ اسی کتاب میں پرانے فوجی سامان بیچنے والے اس بوڑھے محمد کا تذکرہ بھی کرتی ہیں جو اپنی دوکان پر بیٹھے”دل دل پاکستان “کے نغمے گا کر خوش ہوتا رہتا ہے جس کی آنکھوں میں کشمیر کے آزاد ہونے کا خواب بستا تھااور جس کابیٹا اس کا یہ خواب پورا کرنے کے لئے کارگل میں لڑتے ہوئے شہید ہوتا ہے لیکن اس وقت کی سیاسی و فوجی قیادت امریکہ کے ایک ہی اشارے پر کارگل کی جنگ ہارجاتی ہے وہ اسی کتاب میں ترقی پسند جرنلسٹ خالد حسن اورسابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیربھٹو سے ملاقات کا تذکرہ بھی کرتی ہے کہیں وہ لال مسجد کی خود پر پابندیوں کا مطالبہ کرتی عورتوں کا تذکرہ کرتی ہے تو کہیں کراچی میںویمن ایکشن فورم کی صدر فاطمہ سے ملاقات کا تفصیلی واقعہ سناتی ہے جو عورتوں کے حقوق کےلئے دھمکیاں وصول کرتی ہے ایک جانب وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ٹی وی چینل میں بیگم نوازش علی کے شو کی تذکرہ کرتی ہے جو درمیانی جنس کی نمائندگی کرتا ہے تودوسری جانب جنون گروپ کے صوفی میوزک گروپ کو دادو تحسین دئیے بغیر نہیں رہ سکتی اسی ملک میں مارکیٹوں میں کلاشنکوفوں کے سایہ میںشاپنگ کا تذکرہ کرتی ہیں تو کہیںانتہا پسندوں پر کامیڈی لکھنے والے یونس بٹ کو خراج تحسین پیش کرتی ہےں وہ20فیصد لوگوں کے متشدد مذہبی رویہ کو80فیصد صوفی اسلام کے ماننے والوں پر تھوپنے والوںکو موضوع بحث بناتی ہے تو خو دکش حملوں کو جواز بنانے والے کے مقابلے میں مفتی احمد رضانعیمی کی شہادت کا واقعہ بیان کرتی ہے اور تصوف کے پر امن اسلام کی تشریح کرتی ہے مصنفہ کی بحیثیت رائٹر یہ کامیابی ہے کہ اس نے اپنی کتاب کااختتام افسردہ اور غمگین کرنے والا نہیںبلکہ خوف اور دہشت کے اس ماحول میں امید کی کرن پر کیا ہے
مصنفہ نے ایک ہی کتاب میں پاکستان کی تاریخ ،جغرافیہ ، تفریح ، مذہب ، تصوف ،ادب ، سیاست ، تہذیب اور معاشرہ کا متنجن اس انداز سے پلیٹ میں رکھا ہے کہ پڑھنے والادم بخو د ہوکر رہ جاتا ہے اس نے کتاب کی دلچسپی اس طرح برقراررکھی کہ اس نے اپنی یاداشتوں میں پاکستانی کچن کی ہر ڈش اور ہر مشروب کو محفوظ کر لیاہے اور ہر باب میں بیان کیے گئے مشروبات اورکھانوں کی ترکیب باب کے آخر میں تحریر کردی ہے اٹلی بسنے والی پاکستانیوں کی نئی نسل کے لیے یہ کتاب پاکستان کے بارے بہت سی معلومات کے علاوہ پاکستانی کچن کی ڈشز کی ترکیبات کے لیے بڑی موزوں ہوگی جس میں سیخ کباب سے لیکر چکن بریانی تک ، چائے ،دودھ پتی سے لیکر لسی اور پاکولا تک کی ساری ترکیبیات اور اجزائے ترکیبی کی تفصیل بیان کی گئی اس لیے خوف و دہشت کی داستانوں میںمشکلات کا مقابلہ کرتے پاکستانیوں کے تناول کاتذکرہ قاری کوزیادہ دیر کے لئے افسردہ اور غمگین نہیں رکھے گا جن لوگوں کی توجہ پیٹ کی خوراک سے زیادہ روح کی خوراک میں ہے اور جن کی پیاس مشروبات سے نہیں بجھتی بلکہ وہ علم ودانش اورہوش و خرد کے چشموں کے متلاشی ہوتے ہیںان کے لئے کتاب کے ہر باب کا آغاز پاکستان کے کسی شاعر ادیب یا کسی بڑی ہستی کے فرمان یا قول سے ہوگا، اقبال سے لیکر منیر نیازی تک اور کشور ناہید سے لیکر افتخار چوہدری تک کے فرمان یا اشعار موجود ہیں
وہ خو د لکھتی ہیں کہ”آج پاکستان طالبان اور دہشت گردوں کی آماجگاہ کے نام سے جانا جاتا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں کام، کھیل ، تفریح اور مسائل میںگھرے ہوئے عام لوگ اپنی زندگی کیسے بتا رہے ہیں ، حیران کن بات یہ ہے کہ اسلامی انتہا پسندی اور عام معمولات زندگی ایک ساتھ انہی گلیوں ، انہی پارکوں اور گھروں میں ایک دوسرے کے ساتھ گزارا کر رہے ہیںمیں طلباء، محنت کشوں ، صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے جات کے لوگوں سے ملی طالبان اور دہشت گردوں کے سائے میں رہتے ہوئے بھی ان کی آنکھوں میں ہماری ہی طرح کے خواب اور ہمار ی ہی طرح کے مستقبل کی امیدیں ہیںان کے کھانے ،عربی، ہندوستانی اور ایرانی کچن کا حسین امتزاج ہیں جن کی خوشبو اور ذائقہ ناقابل فراموش ہے “ وہ مزید لکھتی ہیں کہ دہشت گردوں کے کسی ایک سربراہ کو مار دینے سے دہشت گردی کی شکست نہیں ہوسکتی بلکہ اس آئیڈیالوجی کو کمزور کرنا ضروری ہے اور یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب اس کتاب میں رقم کئے گئے بہت سے کرداروں کو آواز اور مدد بہم پہنچائی جائے جو ایک آزاد معاشرے اور انسانی حقوق کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں“سچ تو یہ ہے کہ وہ پاکستانیوں کی زبان میںہی پاکستانیوں کے مقبول گانے کو موضوع بنا کر یہ بتانے میں کامیاب ہوئی ہے کہ
یہ ہم نہیں ۔ یہ ہم نہیں ۔ یہ ہم نہیں
جیسے شام آتے ہی کوئی رستہ ہم بھلا بیٹھے
اندھیروں سے ڈرے اتنا کہ ہم گھر ہی جلا بیٹھے
یہ کیا چاروں طرف اڑتی ہوئی رائیگانی ہے
ہمارے نام سے پھیلی ہوئی جھوٹی کہانی ہے
یہ ہم نہیں ۔۔ یہ ہم نہیں ۔۔ یہ ہم نہیں


0 commenti:
Posta un commento