عورتوں کی تو بہت سی قسمیں ہوسکتی ہے لیکن مرد صرف دو طرح کے ہی ہوتے ہیں ایک وہ جو بہت خوش و خرم زندگی گزارتے ہیں اور دوسرے وہ جن کی شادی ہوجاتی ہے یا جنہیں کسی عورت سے محبت ہوجاتی ہے کہتے ہیں کسی جنگل میں شیر کی شادی میںایک چوہا اچھل اچھل کر ناچتا اور گاتاجارہا تھا کہ ”آج میرے بھائی کی شادی ہے“سب جانوروں نے کہا کہ کہاں تم اور کہاں جنگل کا راجہ شیر؟چوہے نے جواب دیا کہ”نہیں نہیں آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے شادی سے پہلے میں بھی شیر ہی تھا“ایک غمگین شخص نے اپنے ایک دوست سے سرد آہ بھرتے ہوئے پوچھا یار ذرا بتاو ¿ تو خوشی کیا ہوتی ہے.دوست نے حیرت سے کہا ” خوشی ؟؟؟ میں کیا جانوں خوشی کسے کہتے ہیں، میری تو کم عمری میں ہی شادی ہوگئی تھی “کہتے ہیں کہ حسین لڑکیاںکبھی بھی ڈاکٹر یاانجینئر بننے کی کوشش نہیں کرتی ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ کوئی ایک بیوقوف ہے جو اس کی جگہ ڈاکٹر یا انجینئر بننے کے لئے رات دن محنت کررہا ہے ہمارے ہاں تو ایک عام سی عورت جس کانام وزیر ہواگر وہ اعظم نامی کسی شخص سے شاد ی کر لے توبڑی آسانی سے ” وزیر اعظم “کہلا سکتی ہے کہتے ہیں ایک باپ اپنے بیٹے کو چڑیا گھر سیر کرانے لے گیا تو وہاں دونوں نے ایک گدھا اور گدھی کا جوڑا دیکھا باپ نے بیٹے سے پوچھا ”پاپا وہ گدھے کے ساتھ کون ہے “ تو اسے کے باپ نے جواب دیا “بیٹا وہ اسکی بیوی ہے “بیٹا پوچھنے لگا کہ ”پاپا کیا گدھے بھی شادی کرتے ہیں “ تو اس کے والد نے کہا ”ہاں بیٹاصرف گدھے ہی شادی کرتے ہیں “بقول مشہور شاعر شفیق بٹ
شادی تو میری ہوئی ہے اے بٹ یہ شہر کیوں مجھے ”سائیں سائیں “کہتا ہے
گزشتہ دنوں ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا جس کا موضوع تھا ”اسٹالکنگ“یعنی تعاقب کا قانون ۔ اصل میں اطالوی گورنمنٹ نے مورخہ 23فروری 2009ءسے اسٹالکنگ کے نام سے ایک قانون بنایا ہے جس کے تحت اگر کوئی بھی شخص کسی بھی دوسرے فرد کو تنگ کرنے کے لیے اس کا پیچھا کرتا ہے اور اس کو نفسیاتی طور پر ٹارچر کرتا ہے تو اُسے اس جرم ِتعاقب کی پاداش میں چھ ماہ سے لیکر چار سال تک کی سزا ہوسکتی ہے دلچسپ بات یہ کہ سرکاری اعداد و شمارکے مطابق اس قانون کی زد میں 55% وہ مرد آتے ہیں جن کی بیوی یا سنگ دل محبوب انہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور وہ بےچارے اپنے محبوب کو منانے کے لئے یا تو فون کال، ایس ایم ایس اور ای میل کا سہارا لیتے ہیں یا ان کے پیچھا کر کے انہیں منانے کی کوشش کرتے ہیںاس موقع پر شفیق بٹ کہتے ہیں
وہ تیری بدنصیبی کہ ”اسٹالکنگ“ کا قانون آگیا دل ِنا سمجھ میری بات مان اسے بھول جا
میرے ایک دوست کا کہنا تھا کہ یہ قانون تو سیدھا سیدھا محبت کے دشمنوں کا بنایا ہوالگتا ہے کیونکہ اگر محبت کے اظہار کے لئے کوئی اپنے محبوب کا تعاقب نہیں کرے گا تو اس سے اپنی محبت کا اظہار کیسے کر سکے گا اسی طرح اگر کسی کا دلبر جانی ناراض ہوجائے تو اگراسے اپنی غلطی کی معافی مانگنے کا موقع بھی نہ دیا جائے تو ”دلبرداشت “ہوجائے گامیں نے اسکا فقرہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا کہ دلبر داشت کو ئی لفظ نہیں ہوتا بلکہ ” دلبرداشتہ“صحیح لفظ ہوتا ہے کہنے لگا”داشتہ تو مونث ہوتی ہے ۔او ہو۔ یعنی لفظوں میں بھی مردوں کے ساتھ امتیازی سلوک رکھا گیا ہے “کہنے لگا شکر ہے تعاقب کا ایسا کوئی قانون ہمارے ملکوں میں نہیں بنتا ورنہ ہماری تو ساری پریم کہانیاں نا ممکن ہوجاتی ہمارے ہاںتو اصلی مجنوں ہی اسے سمجھا جاتا ہے جو محبوب کو بدنام کردے اپنے سر پر خاک ڈال کر لیلیٰ لیلیٰ کہتے گلیوں میں گھومتا رہے ہمارے ہاں تو اتنے لیچڑ قسم کے عاشق ہوتے ہیں کہ اگر لڑکی کسی اور سے بھی بیاہی جائے تو اسے کے گھر کے باہر سبزیوں اورخشک میوں کی ریڑھی لگالیتے اور بقول مشہور شاعر شفیق بٹ یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں
تم اگر بھول بھی جاﺅ تو یہ حق ہے تمہیں میری بات اور ہے میںروز بادام کھاتا ہوں
واقعی اس قانون کی وجہ سے تو ہماری ساری فلمیں بھی فلا پ ہونے کا خطرہ ہے ہمارے تو ہیرو بھی وہی ہیں جو ”کک کک۔۔۔ کرن “کہتے ہوئے ہیروئین کے پیچھے پڑ جائیں یا ”روک اسٹار“ بن کر ایک شادی شدہ عورت کا پیچھا بھی ”پراگ “تک کریںمیرا دوست کہنے لگا اس قانون نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ یورپی معاشرہ مردوں کے خلاف ہے اسی لیے یورپ میں زیادہ تر قوانین عورتوںکے لئے بنائے جاتے ہیںاس کی بات سچ بھی ہے کیونکہ یورپ میں اپنی بیویوں یا محبوباﺅں کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے والے مردوں کی تعدا د میں خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے بلکہ اب تو باقاعدہ ایسی تنظیمیں بھی بن چکی ہیں جو مردوںپر عورتوں کی جانب سے ہونے والے تشدد کی رپورٹس جمع کر رہی ہیںاٹلی کے سابق وزیر اعظم برلیسکونی پر ایک کیس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنی ایک مراکشی محبوبہ روبی کو ”منہ بند رکھنے “کے لئے پانچ ملین یورو دیئے تھے دیکھ لیں مرد عورت کا منہ کھولنے سے کتنے پریشان ہوتے ہیں ایک دفتر میں جب باس نے دیکھا کہ اس کا ایک ملازم تیس منٹ سے فون کا ریسیور کانوں سے لگائے خاموش بیٹھا ہوا تھا تو اس کے باس نے ڈانٹتے ہوئے کہا ”میں نے کہا نہیں تھا کہ دفتر کا فون بیویوں سے کال کرنے کے لیے نہیں ہے “ بقول مشہور شاعر شفیق بٹ
او نادان پرندے! گھر آجا تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا
میںنے اپنے دوست کو سمجھا یاکہ یورپ ہی نہیں پاکستان میں بھی مردوں کی ذات بڑی مظلوم ہے بلکہ لڑکپن سے ہی اگر وہ گھر میں بیٹھے تواسکے والد اسے ڈانٹنا شروع کردیں گے کہ سارا دن عورتوںکی طرح گھر بیٹھے رہتے ہو شرم نہیں آتی اگر وہ باہر نکل کر گلی کی کسی نکڑ پر کھڑا ہو تو چند ہی لمحوں میں کوئی” ماسی شریفاں“ ٹائپ کی آنٹی لعن طعن شروع کردے گی کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی گلی میں کھڑے ہومسٹنڈوں کی طرح! یہاں سے محلہ کی عورتوں نے گزرناہوتا ہے“ اگر وہ باہر جا کر کرکٹ کھیلنا شروع کرے تولوگ کہنا شروع کردیں گے کہ فلاں کا لڑکا بڑا ”کھویڈل “ہے تعلیم کی طرف اس کا کوئی دھیان نہیں اگر وہ مسجد چلا جائے تو مولوی صاحب ڈانٹنا شروع کر دیتے ہیں ”مسجد آگئے ہو ۔۔ضرور امتحان قریب ہوں گے“ فوزیہ وہاب مرحومہ نے حقوق نسواں کے عالمی دن کے موقع پر بیان دیا تھا کہ ”مرد سارے نالائق ہوتے ہیں“ ان کی بات ایک لحاظ سے بالکل ٹھیک بھی تھی کیونکہ پاکستان میں یہ فقرہ تو عام ہے کہ بزرگ کہتے ہیں ”اونالائقا۔۔“‘لیکن یہ کبھی سننے میں نہیں آیا کہ ”اوئے نالائقے ۔۔“ یعنی لفظ نالائق صرف مردوں کے لئے بنا ہے پاکستان میں اگر کوئی لڑکا بس میں چڑھ جائے تو کنڈکٹر آواز لگادیتا ہے لڑکے چھت پرہوجائیں اگر وہ بجلی کا بل جمع کرانے جائے لمبی لائین میںانتظار کرے ، اور اگر باری آجائے توکسی خاتون کے آجانے پر بنک کیشئر اسے پیچھے کر دیتا ہے کہ صبر کروپہلے عورتوںکو جمع کرانے دوپاکستان میں کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ جھگڑنے کا توسوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ قصور کسی کا بھی ہو پورا محلہ اکٹھا ہوکر مرد کوہی برا بھلا کہے گابقول شفیق بٹ صاحب
کسی نے اہل ستم سے اک حرف بھی نہ کہا سبھی نے مل کر میری ہی ٹھکائی کی
زندگی کے دیگر معاملات دیکھو توان میں بھی ساری لعن طعن مردوں کے لئے ہے اگر کوئی لڑکی قہقہہ لگائے تو اس ہنسی کو شاعرلوگ” جھرنے“ کی آوازسے مشابہت دیں گے جبکہ اگر کوئی لڑکا ذرا زور سے ہنسے تو اسے ”ڈنگر “کہنا شروع کردیا جاتا ہے اگر لڑکی خاموش رہے تواسے ”سنجیدہ “ خیال کیا جاتا ہے اور اگر کوئی لڑکا خاموش رہنا شروع کردے تو پوچھتے ہیں ”بھئی کہیں شادی تو نہیں کرا لی۔۔۔ “اگر لڑکی اخلاق کا مظاہرہ کرے توکہتے ہیں ”بڑی پیاری باتیں کرتی ہے “ اگر کوئی مرد تھوڑی سی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرے تو کہا جاتا ہے ”ایک نمبر کا فراڈیا ہے۔۔ “اگر کسی کی بیوی اسے دبا کر رکھے تو کہا جاتا ہے کہ ”ان کی بڑی انڈر اسٹینڈگ ہے “ جبکہ مر د کو کہاجاتا ہے کہ ”نیچے لگا ہوا ہے “ ہمارے تو اردو ادب تک میں چاہے محبوبہ کوئی عورت ہی کیوں نہ ہو اسے سنگدل محبوب ،اور ظالم جیسے مذکر جنس سے ہی مخاطب کیا جاتا ہے
میری ساری تقریر و تشریح سن کر میرا دوست کہنے لگا کہ باقی سب باتیں تو ٹھیک ہیں لیکن یہ شعر شفیق بٹ کے تو نہیں ہیں میں نے کہا میں جانتا ہوںوہ میرا دوست ہے اور بہت اچھا مزاح نگار ہے لیکن کافی عرصہ سے اس نے کوئی مزاحیہ کالم نہیں لکھا میں نے یہ شعر اس لئے اس کے نام سے منسوب کئے ہیں تاکہ وہ دوبارہ مزاحیہ کالم لکھنا شروع کردے کہیں اٹلی کے اردو ادب کا یہ خلا بھی مجھے ہی نہ پرُ کرنا پڑے باقی جہاں تک تعلق ”اسٹالکنگ “ کے قانون کاہے کہ تو اٹلی میںرہنے والے پاکستانیوں کو بھی اس قانون کو سمجھنا چاہیے کہ کسی کے بھی سر پر اگر سوار رہیں یا اسکاتعاقب کرتے ہوئے اس کی زندگی اجیرن کر دیں تو چاہے اسے کوئی جسمانی تشدد نہ بھی پہنچائیں تو بھی اس قانو ن کے تحت وہ آپ کو چھ ماہ سے چار سال تک کی سزا دلوا سکتا ہے اوریاد رہے یہ قانون صرف عورتوں کے لئے نہیں ہے اس قانون کی ذد میں آپ کا پڑوسی ، کام کا کولیگ اور فیملی ممبربھی آسکتا ہے اس لئے ایسے قوانین کی موجودگی میں ہمیں دل کو سمجھانا ہو گا کہ
دل ِسادا !تجھے یہ باور کرانا جسے تم یاد کرتے ہو اسے اب بھول جانا
شادی تو میری ہوئی ہے اے بٹ یہ شہر کیوں مجھے ”سائیں سائیں “کہتا ہے
گزشتہ دنوں ایک سیمینار میں شرکت کا موقع ملا جس کا موضوع تھا ”اسٹالکنگ“یعنی تعاقب کا قانون ۔ اصل میں اطالوی گورنمنٹ نے مورخہ 23فروری 2009ءسے اسٹالکنگ کے نام سے ایک قانون بنایا ہے جس کے تحت اگر کوئی بھی شخص کسی بھی دوسرے فرد کو تنگ کرنے کے لیے اس کا پیچھا کرتا ہے اور اس کو نفسیاتی طور پر ٹارچر کرتا ہے تو اُسے اس جرم ِتعاقب کی پاداش میں چھ ماہ سے لیکر چار سال تک کی سزا ہوسکتی ہے دلچسپ بات یہ کہ سرکاری اعداد و شمارکے مطابق اس قانون کی زد میں 55% وہ مرد آتے ہیں جن کی بیوی یا سنگ دل محبوب انہیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور وہ بےچارے اپنے محبوب کو منانے کے لئے یا تو فون کال، ایس ایم ایس اور ای میل کا سہارا لیتے ہیں یا ان کے پیچھا کر کے انہیں منانے کی کوشش کرتے ہیںاس موقع پر شفیق بٹ کہتے ہیں
وہ تیری بدنصیبی کہ ”اسٹالکنگ“ کا قانون آگیا دل ِنا سمجھ میری بات مان اسے بھول جا
میرے ایک دوست کا کہنا تھا کہ یہ قانون تو سیدھا سیدھا محبت کے دشمنوں کا بنایا ہوالگتا ہے کیونکہ اگر محبت کے اظہار کے لئے کوئی اپنے محبوب کا تعاقب نہیں کرے گا تو اس سے اپنی محبت کا اظہار کیسے کر سکے گا اسی طرح اگر کسی کا دلبر جانی ناراض ہوجائے تو اگراسے اپنی غلطی کی معافی مانگنے کا موقع بھی نہ دیا جائے تو ”دلبرداشت “ہوجائے گامیں نے اسکا فقرہ ٹھیک کرتے ہوئے کہا کہ دلبر داشت کو ئی لفظ نہیں ہوتا بلکہ ” دلبرداشتہ“صحیح لفظ ہوتا ہے کہنے لگا”داشتہ تو مونث ہوتی ہے ۔او ہو۔ یعنی لفظوں میں بھی مردوں کے ساتھ امتیازی سلوک رکھا گیا ہے “کہنے لگا شکر ہے تعاقب کا ایسا کوئی قانون ہمارے ملکوں میں نہیں بنتا ورنہ ہماری تو ساری پریم کہانیاں نا ممکن ہوجاتی ہمارے ہاںتو اصلی مجنوں ہی اسے سمجھا جاتا ہے جو محبوب کو بدنام کردے اپنے سر پر خاک ڈال کر لیلیٰ لیلیٰ کہتے گلیوں میں گھومتا رہے ہمارے ہاں تو اتنے لیچڑ قسم کے عاشق ہوتے ہیں کہ اگر لڑکی کسی اور سے بھی بیاہی جائے تو اسے کے گھر کے باہر سبزیوں اورخشک میوں کی ریڑھی لگالیتے اور بقول مشہور شاعر شفیق بٹ یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں
تم اگر بھول بھی جاﺅ تو یہ حق ہے تمہیں میری بات اور ہے میںروز بادام کھاتا ہوں
واقعی اس قانون کی وجہ سے تو ہماری ساری فلمیں بھی فلا پ ہونے کا خطرہ ہے ہمارے تو ہیرو بھی وہی ہیں جو ”کک کک۔۔۔ کرن “کہتے ہوئے ہیروئین کے پیچھے پڑ جائیں یا ”روک اسٹار“ بن کر ایک شادی شدہ عورت کا پیچھا بھی ”پراگ “تک کریںمیرا دوست کہنے لگا اس قانون نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ یورپی معاشرہ مردوں کے خلاف ہے اسی لیے یورپ میں زیادہ تر قوانین عورتوںکے لئے بنائے جاتے ہیںاس کی بات سچ بھی ہے کیونکہ یورپ میں اپنی بیویوں یا محبوباﺅں کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے والے مردوں کی تعدا د میں خاطر خواہ اضافہ ہورہا ہے بلکہ اب تو باقاعدہ ایسی تنظیمیں بھی بن چکی ہیں جو مردوںپر عورتوں کی جانب سے ہونے والے تشدد کی رپورٹس جمع کر رہی ہیںاٹلی کے سابق وزیر اعظم برلیسکونی پر ایک کیس میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنی ایک مراکشی محبوبہ روبی کو ”منہ بند رکھنے “کے لئے پانچ ملین یورو دیئے تھے دیکھ لیں مرد عورت کا منہ کھولنے سے کتنے پریشان ہوتے ہیں ایک دفتر میں جب باس نے دیکھا کہ اس کا ایک ملازم تیس منٹ سے فون کا ریسیور کانوں سے لگائے خاموش بیٹھا ہوا تھا تو اس کے باس نے ڈانٹتے ہوئے کہا ”میں نے کہا نہیں تھا کہ دفتر کا فون بیویوں سے کال کرنے کے لیے نہیں ہے “ بقول مشہور شاعر شفیق بٹ
او نادان پرندے! گھر آجا تمہیں کچھ نہیں کہا جائے گا
میںنے اپنے دوست کو سمجھا یاکہ یورپ ہی نہیں پاکستان میں بھی مردوں کی ذات بڑی مظلوم ہے بلکہ لڑکپن سے ہی اگر وہ گھر میں بیٹھے تواسکے والد اسے ڈانٹنا شروع کردیں گے کہ سارا دن عورتوںکی طرح گھر بیٹھے رہتے ہو شرم نہیں آتی اگر وہ باہر نکل کر گلی کی کسی نکڑ پر کھڑا ہو تو چند ہی لمحوں میں کوئی” ماسی شریفاں“ ٹائپ کی آنٹی لعن طعن شروع کردے گی کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی گلی میں کھڑے ہومسٹنڈوں کی طرح! یہاں سے محلہ کی عورتوں نے گزرناہوتا ہے“ اگر وہ باہر جا کر کرکٹ کھیلنا شروع کرے تولوگ کہنا شروع کردیں گے کہ فلاں کا لڑکا بڑا ”کھویڈل “ہے تعلیم کی طرف اس کا کوئی دھیان نہیں اگر وہ مسجد چلا جائے تو مولوی صاحب ڈانٹنا شروع کر دیتے ہیں ”مسجد آگئے ہو ۔۔ضرور امتحان قریب ہوں گے“ فوزیہ وہاب مرحومہ نے حقوق نسواں کے عالمی دن کے موقع پر بیان دیا تھا کہ ”مرد سارے نالائق ہوتے ہیں“ ان کی بات ایک لحاظ سے بالکل ٹھیک بھی تھی کیونکہ پاکستان میں یہ فقرہ تو عام ہے کہ بزرگ کہتے ہیں ”اونالائقا۔۔“‘لیکن یہ کبھی سننے میں نہیں آیا کہ ”اوئے نالائقے ۔۔“ یعنی لفظ نالائق صرف مردوں کے لئے بنا ہے پاکستان میں اگر کوئی لڑکا بس میں چڑھ جائے تو کنڈکٹر آواز لگادیتا ہے لڑکے چھت پرہوجائیں اگر وہ بجلی کا بل جمع کرانے جائے لمبی لائین میںانتظار کرے ، اور اگر باری آجائے توکسی خاتون کے آجانے پر بنک کیشئر اسے پیچھے کر دیتا ہے کہ صبر کروپہلے عورتوںکو جمع کرانے دوپاکستان میں کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ جھگڑنے کا توسوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ قصور کسی کا بھی ہو پورا محلہ اکٹھا ہوکر مرد کوہی برا بھلا کہے گابقول شفیق بٹ صاحب
کسی نے اہل ستم سے اک حرف بھی نہ کہا سبھی نے مل کر میری ہی ٹھکائی کی
زندگی کے دیگر معاملات دیکھو توان میں بھی ساری لعن طعن مردوں کے لئے ہے اگر کوئی لڑکی قہقہہ لگائے تو اس ہنسی کو شاعرلوگ” جھرنے“ کی آوازسے مشابہت دیں گے جبکہ اگر کوئی لڑکا ذرا زور سے ہنسے تو اسے ”ڈنگر “کہنا شروع کردیا جاتا ہے اگر لڑکی خاموش رہے تواسے ”سنجیدہ “ خیال کیا جاتا ہے اور اگر کوئی لڑکا خاموش رہنا شروع کردے تو پوچھتے ہیں ”بھئی کہیں شادی تو نہیں کرا لی۔۔۔ “اگر لڑکی اخلاق کا مظاہرہ کرے توکہتے ہیں ”بڑی پیاری باتیں کرتی ہے “ اگر کوئی مرد تھوڑی سی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرے تو کہا جاتا ہے ”ایک نمبر کا فراڈیا ہے۔۔ “اگر کسی کی بیوی اسے دبا کر رکھے تو کہا جاتا ہے کہ ”ان کی بڑی انڈر اسٹینڈگ ہے “ جبکہ مر د کو کہاجاتا ہے کہ ”نیچے لگا ہوا ہے “ ہمارے تو اردو ادب تک میں چاہے محبوبہ کوئی عورت ہی کیوں نہ ہو اسے سنگدل محبوب ،اور ظالم جیسے مذکر جنس سے ہی مخاطب کیا جاتا ہے
میری ساری تقریر و تشریح سن کر میرا دوست کہنے لگا کہ باقی سب باتیں تو ٹھیک ہیں لیکن یہ شعر شفیق بٹ کے تو نہیں ہیں میں نے کہا میں جانتا ہوںوہ میرا دوست ہے اور بہت اچھا مزاح نگار ہے لیکن کافی عرصہ سے اس نے کوئی مزاحیہ کالم نہیں لکھا میں نے یہ شعر اس لئے اس کے نام سے منسوب کئے ہیں تاکہ وہ دوبارہ مزاحیہ کالم لکھنا شروع کردے کہیں اٹلی کے اردو ادب کا یہ خلا بھی مجھے ہی نہ پرُ کرنا پڑے باقی جہاں تک تعلق ”اسٹالکنگ “ کے قانون کاہے کہ تو اٹلی میںرہنے والے پاکستانیوں کو بھی اس قانون کو سمجھنا چاہیے کہ کسی کے بھی سر پر اگر سوار رہیں یا اسکاتعاقب کرتے ہوئے اس کی زندگی اجیرن کر دیں تو چاہے اسے کوئی جسمانی تشدد نہ بھی پہنچائیں تو بھی اس قانو ن کے تحت وہ آپ کو چھ ماہ سے چار سال تک کی سزا دلوا سکتا ہے اوریاد رہے یہ قانون صرف عورتوں کے لئے نہیں ہے اس قانون کی ذد میں آپ کا پڑوسی ، کام کا کولیگ اور فیملی ممبربھی آسکتا ہے اس لئے ایسے قوانین کی موجودگی میں ہمیں دل کو سمجھانا ہو گا کہ
دل ِسادا !تجھے یہ باور کرانا جسے تم یاد کرتے ہو اسے اب بھول جانا

0 commenti:
Posta un commento