اطالوی پریس میں ایک خبر چھپی ہے کہ بولونیا کے نزدیک ایمولا میں عبدالعزیز نامی ایک بیس سالہ مراقشی نوجوان نے گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کر لی ہے خبر کے مطابق وہ گزشتہ پندرہ سال سے اٹلی میںرہائش پذیر تھا لیکن اس کے علاقہ کی پولیس اسٹیشن نے اس کے کاغذات کی تجدیدصرف اس لیے روک لی کہ عبدالعزیز کے پاس گزشتہ کئی سالوں سے روزگار نہیں تھا اسے ملک چھوڑنے کا نوٹس دے دیاگیا وہ پانچ سال کی عمر میں اٹلی آیا تھا اس کے پاس چھوٹی عمر کی بنیاد پر ملنی والی امیگریشن تھی گزشتہ پندرہ سالوں سے اُس نے اٹلی کی زبان بولتے بولتے اسی کی گلیوں کوچوں کو اپنی گلیاں تصور کیا تھا اس نے اسکی مٹی کو اپنی مٹی سمجھ لیا تھا لڑکپن کی صبح پھوٹنے سے لیکر جوانی کی دوپہر کے آغاز تک اگر اس کے ذہن میں ”ملک “کی کوئی تعریف آتی تھی تو اس تعریف میں اسے اٹلی ہی اپنا ملک اور وطن لگتا تھا اس لئے جب اس مٹی کو چھوڑنے کا نوٹس ملا جسے وہ اپنی سمجھتا تھا تو اس سے یہ صدمہ برداشت نہ ہوا اور اس نے خود کشی کرلی خبر میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ اس کی لاش کو اس مٹی میں دفنایا جائے گا یا اسے بھی ملک بدر کر دیا جائے گا ۔۔۔۔۔


0 commenti:
Posta un commento