28/08/12

Mitti

اطالوی پریس میں ایک خبر چھپی ہے کہ بولونیا کے نزدیک ایمولا میں عبدالعزیز نامی ایک بیس سالہ مراقشی نوجوان نے گلے میں پھندا ڈال کر خود کشی کر لی ہے خبر کے مطابق وہ گزشتہ پندرہ سال سے اٹلی میںرہائش پذیر تھا لیکن اس کے علاقہ کی پولیس اسٹیشن نے اس کے کاغذات کی تجدیدصرف اس لیے روک لی کہ عبدالعزیز کے پاس گزشتہ کئی سالوں سے روزگار نہیں تھا اسے ملک چھوڑنے کا نوٹس دے دیاگیا وہ پانچ سال کی عمر میں اٹلی آیا تھا اس کے پاس چھوٹی عمر کی بنیاد پر ملنی والی امیگریشن تھی گزشتہ پندرہ سالوں سے اُس نے اٹلی کی زبان بولتے بولتے اسی کی گلیوں کوچوں کو اپنی گلیاں تصور کیا تھا اس نے اسکی مٹی کو اپنی مٹی سمجھ لیا تھا لڑکپن کی صبح پھوٹنے سے لیکر جوانی کی دوپہر کے آغاز تک اگر اس کے ذہن میں ”ملک “کی کوئی تعریف آتی تھی تو اس تعریف میں اسے اٹلی ہی اپنا ملک اور وطن لگتا تھا اس لئے جب اس مٹی کو چھوڑنے کا نوٹس ملا جسے وہ اپنی سمجھتا تھا تو اس سے یہ صدمہ برداشت نہ ہوا اور اس نے خود کشی کرلی خبر میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ اس کی لاش کو اس مٹی میں دفنایا جائے گا یا اسے بھی ملک بدر کر دیا جائے گا ۔۔۔۔۔ 

0 commenti: