18/08/12

Eid

راستہ کاٹ کے     ہربار گزرجاتا ہے
جیسے پردیس میں تہوار گزرجاتا ہے
زندگی عشق میں یوں گزری ہے اپنی
جیسے بازار سے  نادار گزر جاتا ہے

0 commenti: