18/08/12

kis ko munsaf banain?

 

کس کو منصف بنائیں ؟
تحریر محمود اصغر چوہدری ایڈیٹر جذبہ اٹلی
 www.mahmoodch.com       mahmoodch1@gmail.com
گزشتہ ماہ سے اٹلی میں قانونی طور پر مقیم تارکین وطن پاکستانیوں کو ایک ایسا مسئلہ درپیش آیا ہے جس نے ساری پاکستانی کمیونٹی میں نہ صرف تشویش کی لہر دوڑا دی بلکہ ان کی حقیقت میں بھی دوڑیں لگوا دیں پاکستانی ایف آئی اے حکام نے ائرپورٹوں پر اٹلی واپس آنے والے ایسے تمام پاکستانیوں کو روکنا شروع کر دیا جوچھ ماہ سے زیادہ عرصہ پاکستان میں رہائش پذیر رہے روکے جانے والے پاکستانیوں کواس امر کی کوئی قانونی وجہ نہیں بتائی گئی اور نہ ہی انہیں کوئی تحریری لیٹر جاری کیا گیا اس لئے ہر پاکستانی اس بندش کو اپنے انداز سے بیان کرنے لگا کوئی کہنے لگا کہ ائرپورٹ پر ”گورا “بیٹھا ہوا تھا جس نے کہاہے کہ اوورسٹے کی وجہ سے آپ اٹلی نہیں جا سکتے یعنی گورا نہ ہوا اکبر بادشاہ ہوگیا جو کسی بھی پاکستانی ائر پورٹ پر آکر کرسی رکھ کر بیٹھ سکتاہے اور وہیں پر اپنے ملک کا امیگریشن لاءاپلائی کر سکتا ہے کسی نے کہا کہ ائر پورٹ انتظامیہ کو اوپر سے آرڈر آئیں ہیں اوپر سے کہاں سے ؟ اس کی وضاحت کوئی نہیں کر سکا اور کوئی حسب سابق کہنے لگا کہ ائرپورٹ حکام نے پچاس ہزار روپے کی رشوت کا مطالبہ کیا یعنی ایسا گھناﺅنا الزام کیا کوئی پاکستانی آفیسر ایسا بھی ہے جو رشوت لے ؟یقین نہیں آتا تھا الغرض جتنے منہ اتنی باتیںبہرحال وجہ کوئی بھی تھی ایف آئی اے حکام نے اس غیر ملکی رٹ کو اپنے ملک میں قائم کرنے میں اتنی مستعدی دکھائی جتنی واپڈا والے لوڈشیڈنگ کرنے میں بھی نہیں کرتے ایک ہی فلائٹ میں 80اسی پاکستانیوں کو اٹلی آنے سے روک دیا گیا رمضان کا مہینہ شروع ہوچکا تھا اس لئے مساوات کا عملی مظاہر ہ کیا گیا اور بغیر کسی اضافی تحقیق کے ہر قسم کی سوجورنو والے کو روک لیا گیاچاہے ان کے پاس اٹلی کافار ایور کا کارڈکیوں نہ تھاان بچوں کو بھی روک لیا گیا جن کی پیدائش اٹلی میں ہوئی تھی اور ان بوڑھوں کو بھی روک لیا گیا جوگزشتہ دو دہائیوں سے اٹلی رہ رہے تھے اور وہ کبھی کبھار اٹلی صرف اپنی پنشن لینے آتے تھے ایک واقعہ تو ایسا بھی پیش آیا جس میں ایک پاکستانی اپنی فیملی کو پہلی بار پاکستان لینے گیا اطالوی ایمبیسی سے ویزہ وغیر ہ لگوانے میں اسے چھ ماہ کا عرصہ لگ گیا لیکن جب وہ اپنی بیوی کو لیکر اسلام آباد ائر پورٹ پہنچا تو اس کی بیوی کو فلائی کرنے کی اجازت دے دی گئی لیکن اس کے شوہر کو یہ کہہ کر روک لیا گیا کہ اسے چھ ماہ سے زیادہ عرصہ پاکستان میں ہو چکا تھا یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ایک غیر ملک میں پہلی بار یہ پاکستانی خاتون اپنے شوہر کے بغیر کیسے ڈاکومنٹس بنوائے گی؟
کون کہتا ہے کہ پاکستان میں قانون پر عمل درآمد نہیں ہوتا ؟یہ واقعات تو بتاتے ہیں کہ جب ملکی معیشت کو زرمبادلہ کی صورت میں آکسیجن مہیا کرنے والے تارکین وطن پاکستانیوں کو تنگ کرنے کا معاملہ ہو تو سارے آفیسران شیر ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان تارکین وطن شہریوں کی کوئی آواز تو ہے نہیں۔ اکثریت کا تعلق گجرات ،سیالکوٹ ، گوجرانوالہ ، منڈی بہاﺅالدین اور پنجاب کے دیگر شہروں سے ہے جبکہ ان کی وزارت برائے اوور سیز کبھی پنڈی میں خوار کی جاتی تو کبھی کراچی پہنچا دی جاتی ہے تاکہ یہ اپنے وزیر سے رابطہ تک بھی نہ کر سکیں اور ویسے بھی یہ کیوں سکون کی روٹی کما کر کھائیں کیوں نہ ان کو بھی لوڈ شیڈنگ کے اندھیروں اور گرمی میں ڈینگی مچھروں کا نظارہ کرایا جائے کون پوچھنے والا ہے ؟ ان پاکستانیوں نے اطالوی ایمبیسی سے رابطہ کیا تو انہیںایک لیٹر جاری کر دیاگیا کہ سفارت خانہ کو کوئی اعتراض نہیں اس لیٹر پر بعض پاکستانیوں کو تو فلائی کرنے کا موقعہ دے دیا گیا لیکن اکثریت کو اس کے باوجود روک لیا گیا
 سب سے پہلے اس مسئلہ کا نوٹس جذبہ ڈاٹ کام نے لیا او ر چیف ایڈیٹر جذبہ اعجاز پیارا نے اٹلی میں موجودپاکستانی ایمبیسی و قونصلیٹ کو اس سلسلہ میں تحریری درخواست دی اس کے بعد میں نے سی جی آئی ایل کی جانب سے تحریری درخواست بھیجی ، سفیر محترمہ بیگم تہمنیہ جنجوعہ ،قونصل جنرل طارق ضمیر صاحب اورہیڈ آف چانسلری شہباز کھوکھر صاحب نے فوری ایکشن لیتے ہوئے پاکستانی وزارت داخلہ اور اسلام آباد میں اطالوی ایمبیسی سے رابطہ کیا اور اس مسئلہ کو حل کروانے کی لئے روزانہ کی بنیاد پر کوششیں تیز کردیں،جذبہ کے صحافی اعجاز وڑائچ ،سجاد کھٹانہ اور محمد انور نے خبروں کے ذریعہ اس مسئلہ کو اجاگر رکھا اس سلسلہ میں پاکستان سے شکیل احمد ذکاءاور چوہدری شبیر ککرالی نے پاکستانی ایف آئی اے حکام سے ملاقات کی اورپاکستانیوں کو روکے جانے کی وجوہات دریافت کی تو ایف آئی اے حکام نے انہیں فرانس ایمبسی کاوہ لیٹر دکھا یا جس میں ایسے تمام تارکین وطن کو روکنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے جو اٹلی سپین یا فرانس کے دستاویزات پر گزشتہ چھ ماہ سے زائد مدت سے پاکستان رہ رہے تھے اس لیٹر کا ملنا تھا کہ اٹلی میں موجود بہت سے لیڈروں نے ایسا پراپیگنڈ ہ شروع کر دیا کہ یہ قانون اٹلی کی طرف سے جاری کیا گیا تھا بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے کمیونٹی کو درخواست بھی کی گئی کہ وہ فی الفور اٹلی واپس آجائیں کیونکہ قانون تبدیل ہوگیا ہے اس کے بر عکس اطالوی ایمبیسی تک کا موقف یہ تھا کہ ایسا کوئی قانون اٹلی میں تبدیل نہیں ہوا خیر سفارتخانہ روم وقونصل جنرل میلان کی تگ و دو کام آئی اور اس سوموار سے شکیل ذکاءکو اطالوی ایمبیسی اسلام آباد نے اس لیٹر کی کاپی دے دی جس کے تحت ایسے پاکستانیوں کو نہ روکنے کا آر ڈرپاکستانی ائیر پورٹ کو جاری کیا گیا ہے جن کے پاس اٹلی کی ویلڈ سوجورنوہے
 یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستانی ایف آئی اے کے لیے یورپ کی کسی ایک ایمبیسی کا لیٹر اتنی زیادہ اہمیت رکھتا ہے کہ وہ اس کی بنا پر دیگریورپی ممالک کے باشندوں کو بھی روک سکتی ہے؟کیا پاکستان میں تارکین وطن کی کوئی آواز نہیں؟ کیا اس مسئلہ کو حل کروانے کے لیے بھی اٹلی میں موجود پاکستانی سفارتخانوں کا ہی خالی فرض بنتا تھا ؟کیا اٹلی میں موجود ہزاروں سیاسی جماعتوں کا اپنے قائدین سے کوئی سوال نہیں بنتا ؟یا پھر وہ یورپ کی ٹھنڈی ہواﺅں میں چھٹیا ں منا کر چلے جاتے ہیں اور ایسا کوئی ایجنڈا اپنے سیاسی منشور میں شامل نہیں کرتے جس میں اوورسیز کے مسائل پر بات ہو ۔کیا ان اسی ہزار پاکستانیوں کا کوئی والی وارث نہیں؟ کیا ہماری دوڑ صرف اپنے ملک کے سفارتخانوں کو بدنام کرنے تک ہے؟ اٹلی میں موجود حکومتی پارٹی کے بعض ممبران نے تو ایف آئی اے کا دفاع کرنا شروع کردیاتھاکہ انہیں خواہ مخواہ بدنام کیا جارہا ہے کیاان کا یہ عمل قابل دفاع تھا؟ کیا ان کو یہ احساس نہیں ہوا کہ اتنی کثیر تعداد میں جو لو گ روکے جارہے تھے ان میں کوئی ایسا بھی ہوسکتا تھا جسکے کاغذات ختم ہونے والے تھے ؟کسی کے بچوں کی تعلیم کا مسئلہ ہوسکتا تھا کیا ان کا فرض نہیں بنتا تھا کہ ایسے کسی سرکلر کی قانونی وضاحت فرانس ایمبیسی سے طلب کرتے یاپھر کسی بھی یورپین ملک کے لیٹر کی حیثیت ہمارے امیگریشن آفیسران کے لئے شاہی فرمان کا درجہ رکھتی ہے ؟اس وقت اٹلی میں مختلف ممالک سے پچاس لاکھ غیرملکی شہری مقیم ہیں اور دنیا کے کسی بھی ائر پورٹ سے انہیں اٹلی فلائی کرنے سے نہیں روکا گیاایسا امتیازی سلوک صرف پاکستانیوں کے ساتھ کیوں ؟جن لوگوں نے ٹکٹوں کی مد میں لاکھوں روپے برباد کئے ان کا ہرجانہ کون ادا کرے گا ؟وہ کن سے منصفی چاہیں کس سے اپنے نقصان کا ازالہ طلب کریں ؟
 اپنے قارئین کو بتاتا چلوں کہ اٹلی میں قانونی طور پر رہائش پذیر تارکین وطن شہریوں کو دنیا کے کسی بھی ائر پورٹ سے نہیں روکا جا سکتا اور نہ ہی اٹلی کے کسی ائیر پورٹ سے انہیں ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے جن کے پاس اٹلی کی ویلڈ سوجورنو ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اٹلی کی سوجورنو لیکر سالوں اٹلی سے باہر رہیں کیونکہ اٹلی کے امیگریشن قانون DPR394/1999کے آرٹیکل 13کے تحت ایسے تارکین وطن شہریوں کی سوجورنوکی تجدید نہیں ہوگی جو عام سوجورنو پر چھ ماہ سے زیادہ یا 2دو سا ل مدت کی سوجورنو پرایک سال سے زیادہ اٹلی سے باہر رہیںان دنوں اٹلی کے بہت سے پولیس اسٹیشن ایسے لوگوں کی سوجورنوکینسل کر رہے ہیں جو لمبی مدت تک اٹلی سے باہر رہے ہاں البتہ اگرکوئی اپنے ملک میں لازمی فوجی ٹریننگ کے سلسلہ میں یا کسی بیماری یا حادثہ کی صورت میںرہاہے تو اس صورت میں متعلقہ کستورا(پولیس اسٹیشن ) اس کی سوجورنو کی تجدید کرنے یا نہ کرنے کااختیار رکھتا ہے فوجی ٹریننگ پاکستان میں قانونی طور پر سب پاکستانیوں کے لئے لازمی نہیں ہے اس لیے یہ بہانہ تو سوجورنو نئی کرانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا ہاں البتہ بیماری یا حادثہ کی صورت میں تمام دستاویزات اطالوی ایمبیسی سے تصدیق و ترجمہ کرا کے لا ئے جا سکتے ہیں اگر دوران سفر کسی کی سوجورنو ختم ہوجائے تو اس صورت میں اسے اٹالین ایمبیسی سے اٹلی آنے کے لیے ویزہ حاصل کرنا ہوگا لیکن اس صورت میں پرمیسو دی سوجورنو کو ختم ہوئے 60 دن سے زیادہ کی مدت نہیں گزرنی چاہئے۔ وہ غیر ملکی جو کہ بیمار ہونے کیوجہ سے اپنے ملک میں رہتے ہوئے سوجورنو ختم کر بیٹھتے ہیں ان کے لیے 60 دنوں کی بجائے سوجورنو ختم ہونے کے بعد 1 سال کا وقت ہوتا ہے اٹالین ایمبیسی متعلقہ اٹالین تھانے سے تصدیق کرے گی اور انٹری ویزہ جاری کرے گی یاد رہے کہ امیگریشن قانون testo unico 286/98کے آرٹیکل 9کوما 7dکے مطابق کارتا دی سوجورنو (لا محدود مدت کی سوجورنو )کے ساتھ اگر آپ 12ماہ کے عرصہ سے زیادہ یورپی یونین کے ایریا سے باہر رہتے ہیں تو آپ کا کارتا دی سوجورنو واپس لیا جا سکتا ہے جس کے دوبارہ حصول کے لیے آپ کو نئے سرے سے تمام شرائط پوری کرنی ہوں گی
 

0 commenti: