09/08/12

salam Mahe Siam

سلام ماہ صیام
تحریر محمود اصغر چوہدری ایڈیٹر جذبہ اٹلی
www.mahmoodch.com mahmoodch1@gmail.com
   جس طرح موسموں کا اثر زمینی کھیتی پر ہوتا ہے اس طرح بعض اسلامی مہینوں کا گہرااثر مسلمانوں کے دل کی کھیتیوں پر بھی ہوتاہے جس میں سر فہرست رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہے جس طرح بہار آتے ہی ٹنڈ منڈ بنے درختوں کے تنے اور سال بھر پانی سے محروم رہ جانے والے سوکھے پودوں کی ڈالیوں پر سبزشگوفے پھوٹنے لگتے ہیں اور جو پودے پہلے سے ہی تناور ہوتے ہیں ان کی شگفتگی میں حسن جھلکنا شروع ہوجا تا ہے اسی طرح رمضان کی آمد سے اہل ایمان کے چہروں کی رونق بڑھ جاتی ہے اور جن مسلمانوں کے ایمان کاپودا بے ایقانی کے باعث مرجھانا شروع ہوجاتا ہے ان پربھی اس مہینے کی سعادتیں ضرور اثر انداز ہوتی ہیں اگر ان کے اندر ایمان کی تھوڑی سی رمق بھی ٹم ٹما رہی ہوتو اس مہینے میں وہ ایک بار ضرورچنگاری بنتی ہے اور ان کا وہ تعلق جو اپنے مرکز سے کمزور ہونا شروع ہوگیاہوتا ہے پھر سے مضبوط ہونے لگتا ہے
 اگر احساس زندہ ہوتو باہر کی دنیا کا اثر انسان کی اندر کی دنیا پر ضرور رونما ہوتا ہے جیسے بعض آوازیں ہماری دھڑکنوں میں تغیر پیدا کر دیتی ہیں ، جیسے ساون کی پہلی بوندیں ہمیں بے خودی سے متعارف کراتی ہیں ، جیسے پورا چاند ہماری نظریں صرف اپنی طرف ہی جمائے رکھتا ہے ، جیسے خوشبو ہمارے دماغ کی نسوں تک کو تازگی مہیا کرتی ہے اور جیسے رات کا سناٹا ہماری روح تک کو سکون بخشتا ہے بالکل اسی طرح اگر ایمان کا کچھ حصہ ہمارے اندر موجود ہے تو رمضان اس پر اپنا اثر ضرور ڈالتا ہے اگر کسی کو رمضان کے روزو شب سال کے عام دنوں جیسے ہی محسوس ہوتے ہیں اور اس کی طبیعت میں ایقان کی لذت سے کوئی سرشاری یا پھراپنے یقین کے بنجر پن پر شرمساری پیدا نہیں ہوتی تو اسے اپنے ایمان کا معائنہ کسی روحانی معالج سے ضرور کر الینا چاہیے ، سرشاری اور شرمساری سے مراد صرف یہ بھی نہیں ہے کہ وہ ہرصورت میں روزے ہی رکھے تو ہی اس کاایمان سلامت سمجھا جائے گا اللہ تعالی ٰ اپنے کلام میں فرماتا ہے کہ ” تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوںمیں اللہ تم پر آسانی چاہتاہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا “ا س لئے اگر کوئی بیماری یا کسی بھی مجبوری کی بنا ءپر روزہ نہیں رکھا سکا تو بھی کم از کم اسکا احترام ضرور نظر آنا چاہئے
  بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ رمضان کے آتے ہی مسلمانوں کی اکثریت عبادات میں مصروف ہوجاتی ہے اور حتی الوسع کوشش بھی کرتی ہے کہ آداب رمضان بجا لائیں لیکن اس کے باوجود ہماری طبیعت اور کردار میں تبدیلی نہیں آتی ہم جھوٹ سے باز نہیں آتے رشوت کا بازار ہمارے ممالک میں اسی طرح سر گرم رہتا ، بہتان اسی طرح عروج پر رہتا ہے، حرام کی کمائی اسی طرح چلتی رہتی ہے احساس پیداہونے کی بجائے اشیاءکی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں ، ذخیرہ اندوزی پہلے سے کہیں زیادہ ہوجاتی ہے ہمارے ملکوں میں قتل وغارت گری اور ڈکیتی جیسی وارداتیں بھی جاری رہتی ہیں اس پر ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ شیاطین جکڑے گئے ہیں اس کے باوجود بدی کا بازار انہی معاشروں میںاکثر و بیشتر سر گرم رہتا ہے جہاں اس کا سب سے زیادہ اہتمام ہوتا ہے ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ڈھونڈنے کی ضرورت ہم سب کو ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟
   اصل میں ہمارے ہاںعبادت کی تبلیغ میںایک تکنیکی خرابی یہ ہے کہ ہم ہر عبادت کا تعلق ثواب سے جوڑ دیتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ثواب کا بھی کوئی پرسنل کرنٹ اکاﺅنٹ ہوتاہے جس میں آپ اپنا ثواب جمع کراتے رہیںاور ہر ماہ اس کی بڑھوتی دیکھ کر خوش ہوتے رہیں شاید اسی لیے بہت سے لوگ بھری محفل میں بڑے تکبر سے کہتے ہیں میرا کوئی روزہ اتنے سالوں سے مس نہیں ہوا یاپھر میں پانچوں نمازیں ادا کرتا ہوںلیکن اس روز ہ کی عبادت کے پیچھے جو فلسفہ کار فرما ہے اس کی جانب کسی کی نظر نہیں جاتی اس لیے سرکاری اہل کار روزے بھی پورے رکھتا ہے اور عیدی کے نام پر رشوت بھی پوری لیتا ہے ، ایک تاجر روزے بھی پورے رکھتا ہے لیکن ذخیرہ اندوزی سے بھی باز نہیں آتا ، سرمایہ کار لاکھوں روپے کی افطار پارٹی بھی دیتا ہے لیکن مزدور کواس کے خون پسینے کی تنخواہ بھی بروقت نہیں ادا کرتا ، سیاستدانوں میں ڈنر کا سب سے زیادہ فیشن افطار کے دنوں میں ہی نظر آتا ہے لیکن وہ ایک دوسرے پر بہتانوں کی بارش کرنے اور عہد کی پاسداری نہ کرنے،عوام کی جانب سے دی ہوئی اختیار کی امانت میں خیانت کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہیں ایسا لگتا ہے ہے جیسے ہم سب اپنے اکاﺅنٹ میں ثواب جمع کرا کے اس کا حساب برابر کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں 
   رمضان کا لفظ رمض سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے جلا دینے والا یعنی یہ ہمارے گناہوں کو جلا دیتا ہے مزہ تو تب ہے کہ یہ ہمارے دل کے گرد چڑھ جانے والی حرص وہوس اور لالچ وطمع کی کائی کو جلادے ہماری روح کے پودے کے گرد پروان چڑھ جانی والی جھوٹ مکر اور دجل فریب کی جڑی بوٹیوں کو جلا کر خاکستر کردے قرآن مجید میںرب کائنات نے اس کی فرضیت کو تقویٰ کے ساتھ منسلک کیا ہے یعنی رمضان کا مہینہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے لیے اس لئے مخصوص کیا کہ انہیں تقوی ٰ و پرہیزگاری نصیب ہوجائے ، روزہ میں انسان اپنے خالق حقیقی کے حکم کی پابندی کرتے ہوئے صرف اور صرف اسی کا رضا کی خاطر اسی کی جانب سے حلال کی ہوئی تمام اشیاءسے اپنے آپ کو کئی گھنٹوں تک روک لیتاہے روزہ کا تعلق سراسر محبت الہی سے ہے اور صرف محبت ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو کسی کی خاطر بھوکا پیاسا رہنے اور راتوں کے جگرتوں میں قیام کو ہنستے ہنستے سہنے کی ہمت دیتا ہے اسی لیے اللہ تعالی ٰ فرماتا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں اس کی جزا دوں گا یعنی یہ وہ واحد عبادت ہے جس میں ریا کاری نہیں ہوتی جس میں دکھلاوے کی ضرورت نہیں یہ واحد معاملہ جو اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ہے وہ ہمارا راتوں کا جاگنا دیکھ رہا ہے وہ ہمارے دن کو تکلیف کا برداشت کرنا دیکھ رہا ہے
آج یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ کو ہمارے بھوکے پیاسے رہنے سے کیا سروکار ہے یہ ساری محنت تو وہ ہمیں اسی لیے کراتا ہے کہ ہمیں سیلف کنٹرول کی نعمت حاصل ہوجائے ہمیں خواہشات کی بے ہنگم دنیا اور لالچ وطمع کے اس گہرے سمندر میں رکنا آجائے ہمیں خود احتسابی کا موقع میسر آجائے آج اگر ہم حلال چیزوں کی فراوانی کی موجودگی میں اپنے آپ کو روکنا سیکھ لیں توسارا سال اگر ہمیں ہزارہا موقع بھی پرواز میں کوتاہی کرنے کے آئیںتو ہم ان کی طرف دیکھیں گے بھی نہیں اگر ہم ایک مہینہ تک بد اخلاقی ، فحش گوئی اور بدکلامی سے بچ جائیں گے تو اخلاق ہمارا وطیرہ بن جائے گا خوش اسلوبی اور خوش خلقی ہمارے کردار کا حصہ بن جائے گی اگر اس ماہ ہم خدا کے قوانین پر عمل کرنا سیکھ لیں گے تو ہماری ہر جنبش اس قانون اس حد کے اندر ہوگی جس کو خدا نے مقرر کیا ہے اگر آج روزہ ہمیں غیبت اور دروغ گوئی سے بچنا سکھا گیا تو سارا سال ہم کوشش کریں گے جھوٹ ، بدگوئی اور کسی کی دل آزاری سے بچتے رہیں ، اور خدا کی رضا کی خاطر حق بات کے لیے ڈٹ جانے کی کوشش کریں گے اگر آج کی تراویح ہمیں قیام کرنا سکھا دے گی اور کسی امام کے اشارے پر اٹھک بیٹھک سکھا دے گی تو ہم ایسا معاشرہ بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے جہاں قانون کی حکمرانی ہوگی اور عادل کا احترام ہوگا
  یورپ میں رہنے والے مسلمانوں پر لازمی ہے کہ وہ اس ماہ کے احترام کا خاص خیال رکھیں کہ یہی وہ مہینہ جس پر دوسرے مذاہب والے بڑی گہری نظر رکھتے ہیں اگر آپ کسی مجبوری کی بنا پر روزہ نہیں بھی رکھ رہے تو بھی اس کا احترام ضرور کریںاگر روزہ رکھ رہے ہیں تو کام پر یہ کسی بھی جگہ ریاکاری سے بچنے کے لیے ہشاش بشاش اور چاق وچوبند نظر آئیں اپنے انداز و اطوار سے روزے کی کمزوری اور سستی کا اظہار نہ کریں کہ کہیں کسی کوآپ پر ترس آئے اور اسے روزہ فرض قرار دینے والے پرحرف اٹھانے کا موقع ملے ، اگر آپ کا پڑوسی کوئی غیر مسلم ہے تو اس کے آرام کا خیال رکھیں سحری کے وقت کوشش کریں کہ اسے تکلیف نہ پہنچے اور وہ بیدار نہ ہوجائے ،اگر سخت کام کی وجہ سے روزہ میں مشکل پیش آتی ہے تو رمضان میں جعلی میڈیکل سرٹیفیکیٹ بھیج کر روزہ رکھنے کا کوئی فائدہ نہیںکیونکہ روزہ جھوٹ سے ہی تو روکتاہے اس سے بہتر ہے کہ کام سے چھٹی لے لیں اور روزے مکمل کر لیں ، عید کی نماز ادا کرنے کے لئے وقت سے پہلے ہی چھٹی لے لینی چاہیے کیونکہ جھوٹ بول کر کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی ، روزہ میں بھوک کی وجہ سے چڑ چڑا پن آجاتا ہے یہی امتحان ہے اس میں اپنے اخلاق پر ضبط رکھنا یہی روزہ کی اصل روح ہے ۔روزہ کو ہمارے دین نے ڈھال قرار دیا ہے اس ڈھال سے فائدہ اٹھانا چاہئے اورنہایت اہتمام کے ساتھ ہر برائی سے دور رہنے کی بھرپور کوشش کرنا اور زندگی کو پاکیزہ بنانا ہی اس کا حقیقی مقصد ہے اس مہینے میں ایک رات ایسی آئے گی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے سو کوشش کرے کہ اگر آپ سے کوئی ناراض ہے تو اسے منا لیں اگر کسی کا دل دکھایا ہے تو اس سے معذرت کر لیں روزے کی تکلیفوں کو ہنسی خوشی برداشت کرکے بھوک اور پیاس کی شدت یا کمزوری کی شکایت کر کر کے روزے کی ناقدری نہ کریں
جفا جو عشق میںہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں   ستم نہ ہوتو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں


0 commenti: