13/08/12

سلام پاکستان
یوم آزادی پر خصوصی تحریر
 محمود اصغر چوہدری ایڈیٹر جذبہ اٹلی
www.mahmoodch.com mahmoodch1@gmail.com
 آج پینسٹھ سال بعد دوتاریخوں نے اپنا چکر پوراکرلیا ہے اور یہ دونوں قمری وشمسی کیلنڈر میں ایک دن یکجا ہونے کو ہیں پاکستان جیسا معجزہ ستائیس رمضان المبارک اور 14اگست کی اسلامی اور عیسوی کیلنڈر کے سنگم پرہی اس دنیا میں معرض وجود میں آیا او ر اس سال2012ءمیں پھر انہی تواریخ کو اس مملکت خداداد کا یوم آزادی آنے کو ہے لیکن تاریخ کے اس چکر کے باوجود قوم کا ابھی تک کا سفر کئی لحاظ سے شرمناک اور اشک انگیز ہے پینسٹھ سال پورے ہونے کے بعد حالت یہ کہ اس کا وہ نقشہ بھی پورا سلامت نہیں جواس وقت کے بانیوں نے اس قوم کو دیا تھاملک کے جس حصہ میں اس کی بنیاد کا مطالبہ کرنے والی جماعت نے جنم لیا تھا وہ اب پاکستان نہیں بلکہ بنگلہ دیش کہلاتا ہے روحانی طور پر اس ملک کی مماثلت بہت سے مذہبی نسبتوں سے کی جاتی ہے لیکن حقیقی طور پر اس کی مماثلت اب ترقی پذید ممالک سے بھی کرنا مشکل ہوگیا ہے مثلااس کی مماثلت ریاست مدینہ سے کی جاتی ہے وہ ریاست بھی دو قومی نظریہ کی بنا پر قائم ہوئی تھی جس میںروم کا صہیب ؓ، فارس کا سلمان ؓ، حبش کا بلا لؓ اور عرب کے قریش ایک خاندان تھے اور ایک ہی زبان بولنے والے اور ایک ہی خون و برادری سے تعلق رکھنے والے دوسری جانب ہوگئے تھے بالکل اسی طرح قیام پاکستان میں بھی ظاہری وضع قطع اور کلچر رکھنے والے صرف ایک نظریہ کی بنیاد پر ایک دوسرے سے الگ ہوگئے اوروہ نظریہ تھالا الہ الا اللہ،مماثلت دینے والوں نے قیاس اچھا کیالیکن وقت کی گرد اور عوام اور حکمرانوں کی نالائقیوں نے واضع فرق ڈال دیا کہ ریاست مدینہ تو وہ تھی کہ جس کے قیام کے بعد اس ماڈل ریاست نے دنیا کے تیس لاکھ مربع میل تک اپنا پیغام امن و سلامتی ایک نمونہ کے طور پر پیش کیا جبکہ پاکستان کی حالت یہ ہے کہ آج مصر میں ہیلری کلنٹن کے دورہ پر ایک مصری نوجوان اپنے ایک ہاتھ میں جوتا لیکر سینے پر ایک پلے کارڈ سجاتا ہے جس پر لکھا ہوا ہے کہ مصرکبھی پاکستان نہیں بنے گامماثلتوں میں اس کے بانی کی مثال دی جاتی ہے کہ اس کے قائداعظم کانام محمد علی تھا اور اس ملک پر محمد ﷺاور علی ؑ کے نام کی برکتیں موجزن ہیں لیکن اس قائد کا کردار یہ تھا کہ اس نے برہمن ، انگریز اور اس وقت کے کم فہم ملاﺅںاور دیگر دینی وسیاسی جماعتوں سے بیک وقت محاذجنگ کھول کر کمال کر دیا لیکن آج پینسٹھ سالوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس جیسی عظیم لیڈر شپ کے بعد اس ملک کی قیادت جاگیردار ، تاجر،بنکراور گدی نشین سے ہوتی ہوئی اب پراپرٹی ڈیلراور سینما کی ٹکٹ بلیک کرنے والے تک پہنچ گئی ہے قوموں کا سفر نیچے سے اوپر کی جانب ہوتا ہے اس قوم کا سفر اوپر سے نیچے کی جانب جاری ہے جس ملک کی بنیاد کا خمیر جمہوریت کے اصولوں سے اٹھایا گیا اس کی ترقی کے سفر میں چار جرنیل بغیر کسی عوامی مینڈیٹ کے صرف بندوق کے نوک پر اس کے تینتیس سال کھا گئے
قائد اعظم کاکردار یہ تھا کہ انہوں نے اپنی سیاسی جد وجہد میں دوسروں پر کیچڑ اچھالنے اور اسے گالی گلوچ دینے کی بجائے ایک ماہر وکیل کی طرح دلیل کی میز پر اس کا مقدمہ لڑا اور جیت کے دکھایا آج عالم یہ ہے کہ سیاست نام ہی ایک دوسرے کے اوپر گند اچھالنے کا رہ گیا ہے اگر ایک جانب سے رمضان کے مہینے میں دوسرے سیاسی حریف پر زکوٰة کی کرپشن کاالزام لگایاجاتا ہے تو دوسری جانب سے کرپشن کا سوالنامہ تیار کیا جاتا ہے اس ملک کی آزادی کا کیس ایک وکیل نے لڑا اسکے عوام نے اس کی عدلیہ کی خودمختاری کی طویل جدو جہد کی اور جب وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے ہیں تو آج حکومت اسی عدلیہ کی ناموس تار تار کرنے کو اپنا نصب العین بناکرملک میں انارکی کی صورت حال پیدا کر چکی ہے
لیڈروں کے علاوہ عوام نے جو اخلاقیات کا سفر طے کیا وہ بھی کم حیرت انگیز نہیں ہے پاکستان کے آغاز سے ہی دنیا بھر کے محققین نے کہنا شروع کر دیاکہ دنیا کی تاریخ میں اتنی بڑی ہجرت ، وسائل کی کمی،خزانہ کے خالی ہونے اور انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی ایک نوزائیدہ مملکت کے لیے اتنا بڑا چیلنج تھا کہ اسکے وجود تک کو خطرہ تھا لیکن اس وقت کے قائدین کی قیادت میں قوم کے اندر ایک نظریہ پر اتنا گہرا ایمان اور انکے دلوں میں اخوت ، ایثار وقربانی کا وہ جذبہ تھاکہ انہوں نے خطرہ کی ہر بازگشت کا خاتمہ کرتے ہوئے چند ہی سالوں میں ان چیلنجوں کا مقابلہ کر کے مورخین کے اندیشے غلط ثابت کر دیئے صالح قیادت کے ہٹنے کی دیر تھی کہ خود اعتمادی کے جذبہ سے سرشار قوم نے بھی ترقی کے سفر میںاپنا رخ پیچھے کی جانب کر لیا ،وہ جو کئی لاکھ مہاجرین کو ایک نظریہ پر خوش آمدید کہتے رہے آج اسی ملک کے بعض علاقوں میں اس کا پرچم بلند کرنا نا ممکن ہے ،سندھی پنچابی ، بلوچی پٹھان کی تقسیم تو قصہ پارینہ ہے اب کسی جماعت سے وابستگی کے دعویٰ پر بھی بوری بند لاشیں ملتی ہیں برادشت کا لیول یہ ہے کہ کسی کے نقطہ نظر سے اختلاف اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنا ہے جس قوم نے اس ملک کو ایٹمی طاقت بنا یااس کی سستی کا عالم یہ ہے کہ سوئی تک تیار کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی لیڈروں کی ساٹھ ساٹھ ملین ڈالر کی کرپشن اور اس کو تحفظ دینے کی پالیسی کااتنا گہر اثر لیا گیا ہے کہ شیر خوار بچوں کے لیے دودھ تک خالص نہیں مل سکتا،لیڈروں کی ایفی ڈرین جیسی نشہ آور کیمیکل میں دولت کمانے کے طمع نے قوم کا کردار ایسا بنا دیا ہے کہ وہ زندگی بچانے والی ادویات تک میں موت بانٹنے والی ملاوٹ شامل کرنے سے باز نہیں آتے رمضا ن کے مہینے میں مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی تو ماضی کی بات ہے تکبیر کہہ کر حلال کرنے والے گوشت میں غلیظ پانی انجیکٹ کرنے اور مردہ جانوروںکا گوشت فروخت کرنے میں بھی کوئی شرمندگی نہیں محسوس کرتے اخلاقی پستی کا عالم یہ ہے کہ کم عمر بچوں سے زیادتی ، مرُدوں کی قبر کشائی کے بعد بے حرمتی اورکراچی جیسے شہر میں مخالفین کا سر کاٹنے کے بعد فٹ بال کھیلنے کی خبریں عام ہیں تعلیمی قحط شرمناک سطح تک پہنچ چکا ہے جہاںایک طرف تو حکمرانوں کے جانشین لندن کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کررہے ہوں اور انہیں اس عوام کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے ابھی سے چن لیا جائے جن کے بچے قبرستانوں میں درس وتدریس لے رہے ہوں
جو نوجوان تعلیم حاصل کرگئے ہیں ان کی تربیت اور اخلاق کا نمونہ دیکھنا ہو تو سوشل میڈیا کھول کر دیکھ لو اس قماش کی گندی زبان کا استعمال ملے گاکہ اخلاق بھی پناہ مانگے گا اپنے حریف سیاسی و مذہبی لیڈر کی تصاویرکو جانوروں کے ساتھ متشابہہ کیا گیا ہوگا جب ڈائیلاگ سے ہارنے لگیں تو ایک دوسرے کی ماﺅں بہنوں کی ذاتی زندگی کو زیر بحث لے آئیں گے ، کوئی جرنلسٹ کوئی شاعر کوئی ادیب کوئی آرٹسٹ اگر ایسی بات لکھ دے جو ان کی دانست میں غلط ہو تو اتنی توہین اوراخلاق باختگی کا مظاہرہ کریں گے کہ یہ سوچ کر شرم آئے گی کہ یہ پڑھے لکھے ہیں سرکاری اداروں میں کرپشن کا یہ عالم ہے کہ رمضان کے مہینے میں ان اوورسیزپاکستانیوں کو واپس آنے پرائرپورٹوں پر روک لیاگیا جن کا زر مبادلہ پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوتی ہے کھیل کی سرگرمیوں کا عالم یہ ہے کہ جو ملک کرکٹ ، ہاکی ، سکوائش اور سنوکر کا ورلڈ چمپئن بنا ہو،جس ملک نے ہاکی میں طلائی تمغوں کا ڈیر لگایا ہواور جس نے دوسرے ممالک کے کھلاڑیوں کوٹریننگ دی ہوآج اٹھارہ کروڑ کے اس ملک میںاٹھارہ کھلاڑی بھی ایسے نہیں ملیں گے جو اولمپکس کے مقابلوں میں اسکے عوام کو ایک طلائی تمغہ ہی لا دیں
آج پورے ملک میں افراتفری اور نفسا نفسی کا عالم یہ ہے کہ پارلیمنٹ جمہوری روایات سے نابلدہے جمہوریت کی قبا ءمیں آمریت کا راج پوشیدہ ہے سیاسی جماعتوں میں مفادات کا عروج اصولوں کا جنازہ نکال چکا ہے، سرکاری اداروں میں کرپشن اس حد تک سرایت کرگئی ہے کہ ٹرینوں کے انجن بند ، پی آئی اے کے طیارے زمین پر، اربوں کا خسارے ،بجلی گیس کی عدم موجودگی میں ملکی ترقی ستر سا ل پیچھے جانے کی قریب ،دفاعی حالت کمزور ترین سطح پر، نیٹو سپلائی لائین ،ڈرون حملے، دہشت گردی ، لاقانونیت ، دریا خشک اور ڈیم ٹوٹ پھوٹ کا شکارایسے میں واقعی اس ملک کی آزادی کی تاریخوں کو کسی مذہبی مناسبت میں ڈھونڈنے اور اس کی نسبت سے خدا سے مددمانگنے کو دل کرتا ہے کہ اس کا قرآن بھی رمضان میں اترا اور اس مملکت خدادا د کا تحفہ بھی شب قدر میں ملاجس طرح اس کی حفاظت اس نے خود کی اس کی بھی حفاظت وہ خود کرے جس کے ترانے میں ”پاک سر زمین“ کا لفظ قرآنی تصور ”ارض مقدسہ “سے نسبت رکھتا ہے جس کے پرچم کے سبز رنگ کو گنبد خضراسے نسبت ہے جس کے ابلاغی کوڈ 92کو اسم محمد ﷺ کے عددی شمار (۲۹)سے معنوی نسبت ہے بقول اشفاق احمداس پاکستان جیسے معجزے کی مثال حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی جیسی ہے جو اللہ نے پہاڑ سے پیدا کی اور جس کا احترام کرنے کا حکم انہوں نے اپنی قوم کو دیا لیکن ان کی قوم نے اللہ کی اس نشانی کی قدر نہ کی اور اسے تڑپا تڑپا کر مار دیا پھر اس قوم پر اللہ کا عذاب آیا آج ہمارے لیے وقت ہے کہ ہم اللہ کی اس نشانی کی قدر کریںاس یوم آزادی اسے سلام پیش کریں اور اس کی سلامتی وحفاظت کا وعدہ کریں
بکھر جائیں گے ہم جب تماشہ ختم ہوگا
 مرے معبود آخر کب تماشہ ختم ہوگا

کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے
 یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشہ ختم ہوگا
 

0 commenti: