13/02/13

ویلنٹائین

  وہ کہنے لگا ”بابا جی مجھے محبت سے نفرت تھی “ بابا جی کے چہرے پر اچھنبے کی ہلکی سی شکن ابھری اور غائب ہو گئی اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ”اصل میں بچپن سے ہی میں فیوچر کانشس ثابت ہوا تھا مجھے لگتا تھا پیار،محبت ، رشتے یادوستیاںکامیابی کے راستے میں پاﺅں کی بیڑیاں ثابت ہوتے ہیں میرا خیال تھا جب کسی بچے کی ماںکہتی ہے کہ اس کا بیٹا مسلسل محنت سے تھک گیا ہوگا تو وہ اسے کام چور بناتی ہے جب کوئی طالبعلم اپنے دوست کو کہتا ہے کہ آﺅ گھومنے چلیں تو وہ پڑھائی سے اس کی توجہ ہٹاتا ہے“ وہ کہنے لگا” میں مادیت پرست یا دولت کی دوڑ میں شامل ہونے والالا لچی یا بخیل نہیں تھابس میں کامیاب انسان بننا چاہتا تھا اور میرامانناتھا کہ محبتیں انسان کو کمزوراورمستقبل کی فکر سے بے پرواہ کرتی ہیں عشق انسان کو نکما بنا دیتاہے وہ شاعروں کی طرح کاہل اور ادیبوں کی طرح سست ہوجاتا ہے وہ زندگی کی دوڑ میں ناکام نہ بھی ہو تو بہت پیچھے ضرور رہ جاتا ہوگا محبت کے بارے ان نظریات نے مجھے صنف نازک سے بھی کوسوں دور رکھا لیکن پھر وہ آئی ۔۔“اس نے تھوڑا سا توقف کیا اور باباجی کے چہرے کی کیفیت بھانپنا چاہی لیکن وہ کمال بے نیازی اور انہماک سے اس کی داستان سن رہے تھے اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا
 ” اس کی آمد ایسے ہی تھی جیسے جھیل کے ٹھہرے پانیوں میں کوئی کنکر پھینک دے اور لہریں محو رقص ہوجائیں ، جیسے کسی وادی پر ایک دم سے کوئی چشمہ پھوٹ پڑے اور اسکا شور جلترنگ پیدا کر دے ،جیسے کسی تاریخی گنبدکے موت جیسے سکوت میں کوئی سیٹی بجادے اوراس کی باز گشت پوری عمارت کی خاموشی توڑدے، جیسے چھم سے کوئی بدلی برسنا شروع ہوجائے اور رم جھم کا سماں باندھ دے وہ ایک طوفان کی طرح آئی اور میری ذات اور میرے نظریات کے بخیے کر گئی “ وہ کچھ توقف کے بعد بولا ”بابا جی یہ نظریات بھی بڑے ظالم ہوتے ہیں یہ اصول یہ ضابطے اوران کی پابندی بھی ایک قسم کی غلامی ہی ہوتی ہے انسان ساری غلامیوں سے لڑکر آزادی حاصل کر سکتا ہے لیکن اپنے اصولوں کے حصار سے چھٹکارا نہیں پا سکتا “ایک ہلکی سی مسکان نے بابا جی کے چہرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا وہ کہنے لگا ” اس نے مجھے پہلی بار محبت کے لمس سے آشنا کرایا ۔راتوں کی بے خوابی کا مزہ کیا ہوتا ہے ،تخیل کی خلوتوں میں محفل کیسے سجتی ہے ،بیرونی سکوت میں اندرونی شور کتنا پیارا ہوتا ہے ،تنہائیاں کیسے مسکرانا شروع کر دیتی ہیں ۔۔ میں نہیں جانتا تھامیرے لیے یہ سب نیا تھا، یہ سب اچھوتااور دلنشین تجربہ تھا لیکن کیا کرتا کہ میری ذات کے اردگرد میرے اپنے ہی بنائے ہوئے قواعد و ضوابط کی اتنی موٹی زنجیریں تھیں کہ میں ان سے آزادی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا میں وہ پرندہ تھا جو اپنے پنجرے کاعادی تھا ۔بابا جی !لیکن و ہ آندھی کی طرح آئی تھی اور طوفان کی طرح چلی گئی وہ بھی سیلاب کی طرح ہی ثابت ہوئی جو ٹنڈمنڈ سی حالت چھوڑجاتا ہے لیکن اس کھڑے پانی کی طرح نہیں ہوتا جو بنیادیں ہل جانے تک اور دیوا ر گر جانے تک کا انتظار کرتا ہے ۔۔“بابا جی کہنے لگے”پھر اس کے جانے کا تمہیں کیا گلہ ہے تم اپنے اصولوں کے سنگھاسن پر تو برا جما ن رہے۔۔“
وہ گویا ہوا ”بابا جی! آپ نے نظا م شمسی کی بنیاد کا قصہ تو سائنسدانوں سے سنا ہو گا کہ لاکھوں سال پہلے ایک بہت بڑا سیارہ سورج کے پاس سے گزرا تھا جس کی کشش سے سورج کے کئی ٹکڑے ہوئے اور زمین بھی انہیں ٹکڑوں میں اسے ایک ٹکڑا ہے “بابا جی نے اثبات میں سر ہلایا وہ کہنے لگا ”میرے زندگی میں وہ اسی سیارے کی طرح ثابت ہوئی جو میری ذات کے اتنے قریب سے گزری کہ اپنی مقناطیسی کشش سے میرے ذات کے اتنے ٹکڑے کئے کہ اب چین ، سکون ، ذوق ِتنہائی سب میری ذات سے جد ا ہوکر ہوا میں معلق ہوگئے ہیںیہ سب نظام شمسی کے ٹکڑوں کی طرح میرے ارد گرد اپنے اپنے مداروں میں مسلسل حرکت کرتے رہتے ہیں لیکن میری ذات کا حصہ نہیں بنتے اور اضطراب میرا مقدر ٹھہر گیاہے‘ ‘ باباجی کہنے لگے ”بیٹا ! عورت اور مرد میں یہی فرق ہے عورت میں قدرتی طور پر مشکلات کا مقابلہ کرنے کی زیادہ سکت ہوتی ہے وہ کبھی ٹوٹ کر نہیں بکھرتی کیونکہ اسے سنبھلناآتا ہے وہ جب ایک کواڑبند کرتی ہے تو پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتی وہ محبت کے معاملہ میں بھی ایسی ہی ہے وہ بڑے مان سے کہ سکتی” میں بدلنے والوں میں سے نہیں“ لیکن جب بدلتی ہے تو پتہ بھی نہیں چلتا “وہ کہنے لگے ”ٹوٹ کر کی جانے والی محبت میں صرف عورتیں ہی کامیاب ہوسکتی ہیں مردوں کااتنا حوصلہ ہی نہیں ہوتاکہ وہ بکھر کر سنبھل سکیں ۔۔کیا تم نے کسی عورت کے دیوداس بننے کی داستان سنی ہے ؟کبھی سنا کہ کوئی عورت مجنوں کی طرح اپنے سر پر خاک ڈالتی رہی کہیں پڑ ھا کہ اس نے رانجھے کی طرح جوگ لے لیا ۔۔“
 اس نے مضطرب نظروں سے بابا جی کی طرف دیکھا اور پوچھنے لگا ”باباجی۔میری ادھوری محبت کی اس پوری کہانی میں میری غلطی کیا تھا؟ میںنے اسے شروع نہیں کیا تو پھر سب سے بڑی سزا مجھے کیوں ملی؟ میں تو مزے سے اپنی بے سرور زندگی میں بھی خوش تھا پھر بے چینی میرا مقدر کیوں بن گئی ہے؟ میری داستا ن میں کوئی ویلنٹائین ہمارے ہاتھوں میں سرخ گلاب پکڑانے کیوں نہیں آیا؟ہمارے ارد گرد سفید کبوتروں کے جوڑے ہوا میں کیوں نہیں اڑے ؟اور کیا میرے دل کواب کبھی سکون میسر نہیں آئے گا ؟ “
 باباجی کے چہرے پر عجیب سی طمانیت تھی جیسے غم جاناں کے بکھیڑوں سے ان کا کوئی لینا دینا نہ ہو وہ مسکرائے اور کہنے لگے” میں تمہیں ایک واقعہ سناتا ہوں “اسے باباجی کی بھول بھلیوں والی یہی عادت عجیب لگتی تھی کہ وہ کبھی کسی بات کا دو ٹوک جواب نہیں دیتے تھے وہ گویا ہوئے
 ”ایک دفعہ ایک صحر ائی گاﺅں کے ایک باسی نے ایک مسئلہ کے لئے حاکم وقت سے ملاقات کے لئے سفر اختیار کیا تو راستہ میں اسے ایک میٹھے پانی کا کنواں ملااس نے اس کنویں سے پانی پیااتنا میٹھا پانی اس نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں پیا تھا وہ سمجھا شاید یہ پانی کی کوئی انمول اورنایاب قسم ہے اس نے سوچا کہ وہ بادشاہ سے ملنے جارہا ہے تو کیوں نہ اس کے لئے بھی تحفے کے طور پریہ پانی لے جائے جب وہ بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا تو اس نے بادشاہ کو اپنی درخواست پیش کی اور وہی پانی تحفے کے طور پر بادشاہ کو یہ کہتے ہوئے دیا کہ”بادشاہ سلامت آپ نے اتنا میٹھا پانی اپنی زندگی میں کبھی نہیں پیا ہوگا“ بادشاہ نے پانی پیا اسے اس پانی میں کوئی خاص بات نظر نہ آئی لیکن اس نے اس کا مسئلہ حل کیا اور انعام وکرام دیکر رخصت کیا لیکن اس پرایک شرط عائد کی کہ وہ اپنا سفر یہیں ختم کرے گا اور یہیں سے واپس اپنی بستی لوٹ جائے گا“ اس نے بادشاہ کے حکم کی تکمیل کی اور انعامات لیکر واپس لوٹ گیا بادشاہ کے وزیروں نے اس سے دریافت کیا کہ ”عالی پناہ!آپ نے اس صحرائی کو یہیں سے واپس لوٹ جانے کا کیوں کہا؟اور اس پانی میں کیاخاص بات تھی؟ “ تو بادشاہ کہنے لگا ” وہ بے چارا اتنا بھولا اور سادہ لوح ہے کہ پانی کی میٹھے ذائقہ سے ہی آشنا نہیں تھا اور ایک عام پانی کو بڑا نایاب سمجھ رہا تھا میں نے اسے یہیں سے واپس اسے لیے بھیج دیاہے کہ وہ اگر میرے دوسرے شہروں میں جاتا تو دیکھتا کہ اس سے بھی بہتر پانی ہمارے ملک میں موجو د ہے وہ اگر پانی کے اصلی ذائقہ سے آشنا ہوجاتا تو اسے نایا ب نہیں سمجھتا اور شاید اسی قسم کے پانی کا مطالبہ سارے علاقے کے لیے کر دیتا“یہ واقعہ سنا کر بابا جی کہنے لگے ”اصل میں اس سے ملنے سے پہلے تم بھی محبت کے اس ذائقہ سے آشنا نہیں تھے اس لیے تمہاری زندگی سکون سے گزر رہی تھی اور تم بھی کڑوے پانی کو ہی میٹھا سمجھ رہے تھے لیکن جب سے اس نے تمہیں میٹھے پانی کی اصلی مٹھاس سے آشنا کراد یاہے تمہاری زندگی سے سکون غائب ہوگیا ہے اور یہ سکون اب کبھی آئے گا بھی نہیں۔۔۔“ اس نے اضطرب بھرے لہجے میں پھر سوال کیا ”تو کیا پھر میں اس بے سکونی و بے چینی کو اپنا مقدر سمجھ لوں“
بابا جی پھر مسکرائے اطمینان نے پھر ان کے چہرے کو اپنی آغوش میں لے لیا کہنے لگے” نہیں۔ بالکل نہیں۔ تم اس محسن کے دئے ہوئے اس انمول ونایاب تحفے کو لوگوں میں بانٹ دو۔۔اس مٹھاس کو اپنے لہجے میں لے آﺅ۔۔محبت چھیننے یا فتح کرنے کا نام نہیں یہ بانٹنے اور تقسیم کرنے والی شے ہے ۔۔۔جس میں انس نہیں وہ انسان نہیں ہے ۔۔جوحب سے نا آشنا ہے اسے محب ، محبوب اور حبیب میں سے کوئی درجہ نصیب نہیں ہوتا ۔۔ محبت کے وجود سے ناآشناشخص کی زندگی پھیکے شربت اورکاغذی پھول جیسی ہے۔ ۔جس سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ۔۔۔جو محبت کی حلاوت سے آشنا ہوجاتا ہے اس کے لہجے میں مٹھاس آجاتی ہے لیکن جو ناکام رہ جاتا ہے ۔۔وہ بھی نرم و گدازطبیعت ہوجاتا ہے ۔۔“ با با جی کہنے لگے ” تمہیں کیوں کسی ویلنٹائین کی تلاش ہے تم خود یہ کردار ادا کرنے کی کوشش کیوں نہیںکرتے ۔۔۔میں جانتا ہوں اس مٹھاس کا قحط تمہیں تاریکی میں جلنے والی شمع کی طرح کر دےگا اور لمحہ بہ لمحہ تمہارا وجود اس بے چینی کی آگ میں جل کر کم ہونا شروع جائے گا۔۔ لیکن یاد رکھوکہ شمع خود تو جل کر راکھ ہوجاتی ہے لیکن اس کی روشنی کئی گم راہ مسافروں کو جانب ِمنزل سفر کا موقع دے دیتی ہے۔۔۔“باباجی پھر مسکرائے لیکن ان کی آنکھوں میں نمی سی تیرنا شروع ہوگئی تھی جیسے وہ بھی تاریکی میں جلنے والی کوئی شمع ہوں۔۔۔۔۔۔۔

0 commenti: