اطالوی زبان میں پاکستان انٹرنیشنل کی پی آئی اے فلائٹ کو” پیا“ کہا جاتا ہے لیکن شایدانہیں معلوم نہیں کہ پی آئی اے والے مسافروں کے ساتھ سلوک بھی ”پیا “جیسا ہی کرتے ہیں دوسری ائیر لائین کمپنیوںکا عملہ تو مسافروں کے ساتھ بڑے سلیقے سے پیش آتاہے لیکن یہ پاکستانیوں کے ساتھ” صرف“ سلیقے سے پیش آتے ہیںپی آئی اے والوں کی شکایت ہے کہ پاکستانی مسافر بھی جہازکے اندرداخل ہوتے ہی وہی رویہ اپنا لیتے ہیں جو پیا کے گھر میں داخل ہوتے اپنا یا جاتا ہے ایک یورپی نے ایک پاکستانی سے سوال پوچھا کہ جب کسی پاکستانی عورت کا ”پیا “یعنی خاوندفوت ہو جاتا ہے تو وہ اس کے افسوس میں اپنی ساری چوڑیاں توڑ دیتی ہے اور اگر خدانخواستہ کسی پاکستانی مرد کی بیوی فوت ہوجائے تو وہ کیا توڑتا ہے؟تو اس پاکستانی نے جواب دیا کہ ”اس کی عورت مرنے سے پہلے گھر میں کچھ توڑنے کے لئے باقی چھوڑتی ہی نہیں تو وہ کیا توڑے۔۔ ؟ پی آئی اے کی فلائٹ میں داخل ہوں تو یہ احساس بھی فوراً ہو جاتا ہے کہ اس میں توڑپھوڑ کرنے والے اسے بنانے والے یا سنوارنے والوں سے زیادہ ہاتھ دکھا گئے ہیں جو لوگ یہ پراپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں کہ پاکستانی بڑے سست الوجودہیں اور تاش جیسی بیٹھی کھیلوں کے شوقین ہیں انہوں نے شاید پی آئی اے کے اندر پاکستانیوں کونہیں دیکھا کہ جو سیٹیں مل جانے پر بھی اپنے قدموں پر کھڑا رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔جہازکا عملہ بار بار یہ آواز لگاتا رہے کہ اپنی اپنی سیٹوں پر بیٹھ جائیں تاکہ اندازہ ہو کو ن کس سیٹ پر بیٹھا ہوا ہے لیکن مسافر عملے کو بھی تسلی دیتے رہتے ہیں کہ کوئی مسئلہ نہیں جہاں سیٹ مل جائے گی بیٹھ جائیں گے اپنی ہی فلائیٹ ہے۔۔
گزشتہ دنوں مجھے بذریعہ پی آئی اے پاکستان سفر کرنے کا موقع ملاتمام سیٹیوں کی بورڈنگ نمبر کے لحاظ سے ہوتی ہے لیکن فلائیٹ کے اندر یہ تکلفات ختم ہوجاتے ہیں ایک پاکستانی پچھلی سیٹ سے اٹھ کر آیا اور اپنے دوست سے کہنے لگا ”جگہ ملی آ؟۔۔ پچھے آجا میں جگہ بنائی اے “ ایسے جیسے ”پرالی“ ڈال کر انتظام کیا ہو میلان سے اگر آپ فلائی کریں تو پی آئی اے کی فلائیٹ پہلے پیرس جاتی ہے اس لیے اکثر آپ سنیں گے” او یار!فکر نہ کر پیرس جا کر ساری خالی ہوجائے گی ۔۔“ میلان سے اڑنے والے مسافر پانچ منٹ کے اندر اندر تحقیق کرلیتے ہیں کہ پیرس کتنے اترنے والے ہیں لیکن انہیں اس بات کا اندازہ نہیںہوتا کہ اترنے کے بعد وہاں سے بھی مسافر چڑھیں گے وہ اتنی بے فکری سے تین تین سیٹوں پر بے دھڑک سو جاتے ہیں جیسے اب یہاں کوئی نہیں ۔۔کوئی نہیں آئے گا۔۔ بعض مسافرعملے سے فورا ً کھڑکی کی سیٹ کے لئے ضد کرنا شروع کر دیتے ہیں ایک موصوف تو بحث کر رہے تھے کہ انہیں دمہ ہے اور وہ کھڑکی والی سائیڈ پر اس لئے بیٹھنا چاہتے تھے کہ ہوا لگتی رہے ۔۔۔ایک مسافر کو مطالعہ کا شوق تھا وہ کھڑکی کی طرف اس لئے بضد تھا کہ روشنی آتی رہے۔۔۔ بعض لوگ سیٹ پر بیٹھے ہی اپنے جوتے اور جرابیں اتار دیتے ہیں تاکہ جہاز کے اندر کا موسم گل و گلزارہوجائے ۔۔۔
جہاز میں بیٹھتے ہی مسافروں کی شکایات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ایک مسافرکہہ رہا تھا کہ اپنے ملک کی فلائیٹ سمجھ کر بیٹھ جاتے ہیں باقی جہاں تک عملے کے رویہ کی بات ہی دل ہی نہیں کرتا۔۔آپ ان ائیر ہوسٹس کو دیکھیں ساری کی ساری بوڑھی آنٹیاں ہیں ۔وہ اتنا کہہ رہا تھا کہ فلائیٹ اڑنے سے پہلے ہی ساری آنٹیاں وی آئی پی کلاس میں بھیج دی گئیں اور اس کی تواضع کے لئے داڑھی والے انکل بھیج دئے گئے کہنے لگا ”لو کر لو گل ۔۔۔ “ خواتین ایر ہوسٹس وہ آنٹیاں ثابت ہوتی ہیں جو ہر وقت بچوں کو ڈانٹتی رہتی ہیں اور سیٹ پر بٹھا دیتی ہیں ان کے پاس ایک اضافی دھمکی بھی ہوتی ہے کہ حفاظتی بند باندھ لیں موسم خراب ہورہا ہے ایک مسافر کو جہاز کی انٹریر ڈیکوریشن پر اعتراض تھا کہنے لگا اس کے قالین دیکھیں لگتا ہے کسی ٹینٹ سروس سے لئے گئے ہیں ۔۔۔ایک مسافر کے پیٹ میں گڑبڑ تھی اس نے ائیرہوسٹس سے پوچھا ”اجوائین مل جائے گی ۔۔“ ایک طالبہ اپنے ساتھ اپنا لیپ ٹاپ کمپیوٹر لے آئی تھی اور عملے سے یہ پوچھ رہی تھی کہ اس کو چارج کیسے کروں “اسٹیورڈ انکل کہنے لگے ” بی بی آپکا لیپ ٹاپ ہے آپ کو پتہ ہو گا اس کو کیسے چارج کرنا ہے “ اس نے جھنجھلا کر کہا کہ ”کیا جہاز میں کمپیوٹر چارج کرنے کا کوئی سسٹم نہیں ہے “ جواب انکار میں پا کر اس نے آسمان سر پر اٹھا لیا ایک مسافر ذرا مذہبی واقع ہوئے تھے انہوں نے جہاز کے واش روم میں وضو کے لیے مناسب انتظام نہ ہونے کی شکایت کی تو عملہ نے کہا جناب آپ مسح کرلیں اور پانی ضائع نہ کریں وہ محترم جواب دینے لگے ”کہ میں نے ٹکٹ کے پیسے پورے دئے ہیں میں وضو کر وں یا اپنی بھینس نہلاﺅں تمہیں کیا تکلیف ہے ۔۔ “
پی آئی اے کی تمام فلائٹ ایک بات میں اقبال کی پوری پوری نقل کرتے ہیں انکا اصول ہے کہ جیسے اقبال لیٹ آتا تھا اسی طرح اقبال کے ملک کے شاہینوںیعنی فلائیٹوں کو بھی ہمیشہ لیٹ آنا چاہیے پی آئی اے جہازوں میں کبھی ایک ہی ٹی وی ہوتا تھا جس پر ایک فلم لگا دیتے تھے اور پورا راستہ وہی چلتی رہتی تھی بلکہ جو رہ جاتی تھی وہ واپسی کی فلائیٹ میں دیکھی جا سکتی تھی لیکن اب انہوں نے ہر سیٹ کے پیچھے ایل سی ڈی ٹی وی لگا دیے ہیں جس پر ویڈیواور آڈیو کے درجنوں چینل ہیں لیکن جس جہاز میں ہم نے سفر کیا اس کی حالت یہ تھی کہ دائیں طرف والی سیٹیوں والوں کے ٹی وی تو چل رہے تھے لیکن بائیں طرف والوں کے سارے ٹی وی سیٹ پر کچھ بھی نہیں آرہا تھا وہ ان اسکرینوں سے آئینے کا کام لیکر اپنے بال سیٹ کر رہے تھے دائیں طرف والے اپنے کانوں میں ہیڈ فون لگا کر سر دھن رہے تھے اور بائیں طرف والے انہیں دیکھ کرپاگل خیال کر رہے تھے جن مسافروں کے رشتہ داریا دوست فلائٹ میں پھیلے ہوئے تھے وہ تو سیٹیں بدل بدل کر کبھی راحت کی قوالی انجوائے کر لیتے تو کبھی مسڑ بین کے سین اکٹھے دیکھ لیتے تھے لیکن جو تنہا سفر کر رہے تھے وہ حسرت کا شکار ہو رہے تھے ایک مسافر نے ایک آنٹی ٹائپ کی ائیر ہوسٹس سے شکایت کی ۔۔۔ تو اس نے کہا اچھا ابھی اس کا حل نکالتی ہوں وہ گئی اور ٹیکنشن سے بات کی” جہاز کی بائیں جانب والے مسافر کچھ نہیں دیکھ پارہے “تو ٹیکنشن کہنے لگا ”اگر وہ دیکھ نہیں سکتے تو اس کے لیے تو ڈاکٹر کو بلاﺅ میں کیا کر سکتا ہوں؟ بہرحال اس نے بٹن گھمایا تو اب مکافات عمل کی طرح بائیں طرف والے سارے ٹی وی سیٹ آن ہوگئے لیکن دائیں طرف والے ساری اسکرینیں آف ہوگئیں ،راحت اب ایک جانب والوں کو میسر آیا تو دوسری جانب والوں کی شکایات بڑھ گئیں آنٹی کو غصہ آگیا اور اس نے جا کر سوئے ہوئے ٹیکنشن کو دوبار ہ جگایا اس نے غصہ میں سارے ٹی وی آف کر دئے اور سب کی اسکرینوں پر ایک ہی ویڈیو چلا دی کہ باقی کا سفر کٹنے میں ابھی پانچ گھنٹے ہیں
پی آئی اے میں بیل سسٹم کام نہیں کرتا یعنی آپ گھنٹی بجا کر ائیر ہوسٹس کو نہیں بلا سکتے ان کا نظریہ ہے کہ اس سے بادشاہی نظام کی بو آتی ہے اس لئے اب انہوں نے شاید اپنی پالیسی بنا لی ہے کہ عملہ کا کوئی بھی بندہ گھنٹی بجانے پر یہ پوچھنے نہیں آتا کہ کیا پرابلم ہے جس مسافر کو کوئی بھی مسئلہ ہوتو وہ خود اٹھے اور کیبن میں جاکر پانی کی بوتل لیکر آئے میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مسافر ایسے لائین میں لگے ہوئے تھے جیسے داتا دربار میں لنگر لینے کے لئے لگتے ہیں ایک عورت نے اپنے بچے کے لیے دودھ کا فیڈر بھرنے کی درخواست ائیر ہوسٹس سے کی تو وہ کہنے لگی کہ آپکو خود جا کر کیبن میں فیڈر دھوکر بھرنا ہو گاایرہوسٹس کا کیبن کسی مچھلی منڈی کا سا منظر پیش کر رہا تھا جس میں ایک مسافر پوچھ رہا تھا ”یار ایک کافی مل سکتی ہے “ تو جواب آیا جی سوری دودھ ختم ہوگیا ہے“ اب کوئی پوچھے کافی میں دودھ کا کیا کام؟کھانے میں سنا تھا کہ اب روایتی بریانی کی بجائے گوشت روٹی بھی دی جاتی ہے لیکن ائیرہوسٹس کسی سے پوچھنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتی کہ” آپ کی چوائس کیا ہے “ بس ایسے ہی کھانا تقسیم کیا جاتا ہے جیسے کسی درگاہ پر سب کو ایک ہی حلیم بانٹی جاتی ہے
ایک مسافر کو سردی لگ رہی تھی اس نے اسی آنٹی ائیر ہوسٹس سے کمبل مانگا تو وہ کہنے لگی کہ کمبل ختم ہوگئے ہیں “ختم ہونے والی بات میری سمجھ سے باہر تھی کیا میلان اترنے والے مسافر اپنے ساتھ کمبل اٹھا کر لے گئے تھے کہ ختم ہوگئے؟ خیروہ مسافر بھی بڑا دلیر ثابت ہوا اس نے اپنے لہجے میں کرختگی لائی ہی تھی کہ موصوفہ دوڑتی ہوئی گئی اورتین چارکمبل اٹھا لائی ایسے لگتا تھا کہ کسی سوئے ہوئے مسافر کے اوپرسے اٹھا لائی ہو پی آئی اے کی خواتین ائیر ہوسٹس کا رویہ کسی بھی مسافر سے اتنا روکھا ہوتا ہے کہ وہ شعر یاد آجاتا ہے کہ
اسے اب کسی کی محبت کا اعتبار نہیں رہا
اسے شاید زمانے نے ستا یا بہت ہے
پی آئی اے کے بعض ”بیوڑے“ مسافروں کی ایک شکایت یہ بھی ہے کہ ہر سیٹ کے پیچھے لکھا ہوا ہے کہ پی آئی اے یعنی کہیں باہر سے ہی پی آئیں جہاز کے اندر پینے پلانے کا کوئی انتظا م نہیں ہے جب بھی جہاز ڈولنا شروع ہوتا ہے مسافر یا اللہ خیر کی صدائیں لگا نا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ ہر فلائیٹ کا نمبر ہی ”پی کے “ہوتا ہے جب اس طرح کی باتیں ہوں گی تو خوف آنا ظاہری سی بات ہے اکانومی کلاس کے چارمیں سے 2واش روم صرف تین گھنٹوں میں ہی ناقابل استعما ل ہوچکے تھے سمجھ نہیں آئی کہ قصور عملہ کا تھا یا ان مسافروں کا جو صرف آٹھ گھنٹوں کے سفرمیں ہی پیٹ کے ہلکے ثابت ہوئے اور انہوں نے اپنی ٹکٹ کا پورا پورا استعمال کرنا ضروری سمجھا ۔۔۔سب سے خوبصورت منظر وہ ہوتا ہے جب پی آئی اے کی فلائٹ لینڈ کر تی ہے تو جہاز کے عملہ کے بار بارہدایت کے برخلاف پاکستانی مسافر کھڑے ہوجاتے ہیں اوراپنا اپنا سامان کندھوں پر لٹکا لیتے ہیں پھر چاہے انہیں آدھا گھنٹہ کھڑا رہنا پڑے وہ بیٹھیں گے نہیں دروازہ اوپن ہوتے ہیں ایسی دوڑ لگاتے ہیںجیسے بچے سکول سے بھاگتے ہوئے نکلتے ہیں
پی آئی اے کے مقابلے میں دوسری فلائیٹں سستی ہیں اور سہولیات کے لحاظ سے کافی بہتر بھی ہیں لیکن لاکھ شکایتوں کے باوجود پاکستانی تقریباً 80سے لیکر 100یورو مہنگی ٹکٹ صرف اس لئے خریدتے ہیں کہ انہیں اس قومی ائیر لائین سے محبت ہے اور محبت میں جفا تو برداشت کرنا ہی پڑتی ہے
گزشتہ دنوں مجھے بذریعہ پی آئی اے پاکستان سفر کرنے کا موقع ملاتمام سیٹیوں کی بورڈنگ نمبر کے لحاظ سے ہوتی ہے لیکن فلائیٹ کے اندر یہ تکلفات ختم ہوجاتے ہیں ایک پاکستانی پچھلی سیٹ سے اٹھ کر آیا اور اپنے دوست سے کہنے لگا ”جگہ ملی آ؟۔۔ پچھے آجا میں جگہ بنائی اے “ ایسے جیسے ”پرالی“ ڈال کر انتظام کیا ہو میلان سے اگر آپ فلائی کریں تو پی آئی اے کی فلائیٹ پہلے پیرس جاتی ہے اس لیے اکثر آپ سنیں گے” او یار!فکر نہ کر پیرس جا کر ساری خالی ہوجائے گی ۔۔“ میلان سے اڑنے والے مسافر پانچ منٹ کے اندر اندر تحقیق کرلیتے ہیں کہ پیرس کتنے اترنے والے ہیں لیکن انہیں اس بات کا اندازہ نہیںہوتا کہ اترنے کے بعد وہاں سے بھی مسافر چڑھیں گے وہ اتنی بے فکری سے تین تین سیٹوں پر بے دھڑک سو جاتے ہیں جیسے اب یہاں کوئی نہیں ۔۔کوئی نہیں آئے گا۔۔ بعض مسافرعملے سے فورا ً کھڑکی کی سیٹ کے لئے ضد کرنا شروع کر دیتے ہیں ایک موصوف تو بحث کر رہے تھے کہ انہیں دمہ ہے اور وہ کھڑکی والی سائیڈ پر اس لئے بیٹھنا چاہتے تھے کہ ہوا لگتی رہے ۔۔۔ایک مسافر کو مطالعہ کا شوق تھا وہ کھڑکی کی طرف اس لئے بضد تھا کہ روشنی آتی رہے۔۔۔ بعض لوگ سیٹ پر بیٹھے ہی اپنے جوتے اور جرابیں اتار دیتے ہیں تاکہ جہاز کے اندر کا موسم گل و گلزارہوجائے ۔۔۔
جہاز میں بیٹھتے ہی مسافروں کی شکایات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ایک مسافرکہہ رہا تھا کہ اپنے ملک کی فلائیٹ سمجھ کر بیٹھ جاتے ہیں باقی جہاں تک عملے کے رویہ کی بات ہی دل ہی نہیں کرتا۔۔آپ ان ائیر ہوسٹس کو دیکھیں ساری کی ساری بوڑھی آنٹیاں ہیں ۔وہ اتنا کہہ رہا تھا کہ فلائیٹ اڑنے سے پہلے ہی ساری آنٹیاں وی آئی پی کلاس میں بھیج دی گئیں اور اس کی تواضع کے لئے داڑھی والے انکل بھیج دئے گئے کہنے لگا ”لو کر لو گل ۔۔۔ “ خواتین ایر ہوسٹس وہ آنٹیاں ثابت ہوتی ہیں جو ہر وقت بچوں کو ڈانٹتی رہتی ہیں اور سیٹ پر بٹھا دیتی ہیں ان کے پاس ایک اضافی دھمکی بھی ہوتی ہے کہ حفاظتی بند باندھ لیں موسم خراب ہورہا ہے ایک مسافر کو جہاز کی انٹریر ڈیکوریشن پر اعتراض تھا کہنے لگا اس کے قالین دیکھیں لگتا ہے کسی ٹینٹ سروس سے لئے گئے ہیں ۔۔۔ایک مسافر کے پیٹ میں گڑبڑ تھی اس نے ائیرہوسٹس سے پوچھا ”اجوائین مل جائے گی ۔۔“ ایک طالبہ اپنے ساتھ اپنا لیپ ٹاپ کمپیوٹر لے آئی تھی اور عملے سے یہ پوچھ رہی تھی کہ اس کو چارج کیسے کروں “اسٹیورڈ انکل کہنے لگے ” بی بی آپکا لیپ ٹاپ ہے آپ کو پتہ ہو گا اس کو کیسے چارج کرنا ہے “ اس نے جھنجھلا کر کہا کہ ”کیا جہاز میں کمپیوٹر چارج کرنے کا کوئی سسٹم نہیں ہے “ جواب انکار میں پا کر اس نے آسمان سر پر اٹھا لیا ایک مسافر ذرا مذہبی واقع ہوئے تھے انہوں نے جہاز کے واش روم میں وضو کے لیے مناسب انتظام نہ ہونے کی شکایت کی تو عملہ نے کہا جناب آپ مسح کرلیں اور پانی ضائع نہ کریں وہ محترم جواب دینے لگے ”کہ میں نے ٹکٹ کے پیسے پورے دئے ہیں میں وضو کر وں یا اپنی بھینس نہلاﺅں تمہیں کیا تکلیف ہے ۔۔ “
پی آئی اے کی تمام فلائٹ ایک بات میں اقبال کی پوری پوری نقل کرتے ہیں انکا اصول ہے کہ جیسے اقبال لیٹ آتا تھا اسی طرح اقبال کے ملک کے شاہینوںیعنی فلائیٹوں کو بھی ہمیشہ لیٹ آنا چاہیے پی آئی اے جہازوں میں کبھی ایک ہی ٹی وی ہوتا تھا جس پر ایک فلم لگا دیتے تھے اور پورا راستہ وہی چلتی رہتی تھی بلکہ جو رہ جاتی تھی وہ واپسی کی فلائیٹ میں دیکھی جا سکتی تھی لیکن اب انہوں نے ہر سیٹ کے پیچھے ایل سی ڈی ٹی وی لگا دیے ہیں جس پر ویڈیواور آڈیو کے درجنوں چینل ہیں لیکن جس جہاز میں ہم نے سفر کیا اس کی حالت یہ تھی کہ دائیں طرف والی سیٹیوں والوں کے ٹی وی تو چل رہے تھے لیکن بائیں طرف والوں کے سارے ٹی وی سیٹ پر کچھ بھی نہیں آرہا تھا وہ ان اسکرینوں سے آئینے کا کام لیکر اپنے بال سیٹ کر رہے تھے دائیں طرف والے اپنے کانوں میں ہیڈ فون لگا کر سر دھن رہے تھے اور بائیں طرف والے انہیں دیکھ کرپاگل خیال کر رہے تھے جن مسافروں کے رشتہ داریا دوست فلائٹ میں پھیلے ہوئے تھے وہ تو سیٹیں بدل بدل کر کبھی راحت کی قوالی انجوائے کر لیتے تو کبھی مسڑ بین کے سین اکٹھے دیکھ لیتے تھے لیکن جو تنہا سفر کر رہے تھے وہ حسرت کا شکار ہو رہے تھے ایک مسافر نے ایک آنٹی ٹائپ کی ائیر ہوسٹس سے شکایت کی ۔۔۔ تو اس نے کہا اچھا ابھی اس کا حل نکالتی ہوں وہ گئی اور ٹیکنشن سے بات کی” جہاز کی بائیں جانب والے مسافر کچھ نہیں دیکھ پارہے “تو ٹیکنشن کہنے لگا ”اگر وہ دیکھ نہیں سکتے تو اس کے لیے تو ڈاکٹر کو بلاﺅ میں کیا کر سکتا ہوں؟ بہرحال اس نے بٹن گھمایا تو اب مکافات عمل کی طرح بائیں طرف والے سارے ٹی وی سیٹ آن ہوگئے لیکن دائیں طرف والے ساری اسکرینیں آف ہوگئیں ،راحت اب ایک جانب والوں کو میسر آیا تو دوسری جانب والوں کی شکایات بڑھ گئیں آنٹی کو غصہ آگیا اور اس نے جا کر سوئے ہوئے ٹیکنشن کو دوبار ہ جگایا اس نے غصہ میں سارے ٹی وی آف کر دئے اور سب کی اسکرینوں پر ایک ہی ویڈیو چلا دی کہ باقی کا سفر کٹنے میں ابھی پانچ گھنٹے ہیں
پی آئی اے میں بیل سسٹم کام نہیں کرتا یعنی آپ گھنٹی بجا کر ائیر ہوسٹس کو نہیں بلا سکتے ان کا نظریہ ہے کہ اس سے بادشاہی نظام کی بو آتی ہے اس لئے اب انہوں نے شاید اپنی پالیسی بنا لی ہے کہ عملہ کا کوئی بھی بندہ گھنٹی بجانے پر یہ پوچھنے نہیں آتا کہ کیا پرابلم ہے جس مسافر کو کوئی بھی مسئلہ ہوتو وہ خود اٹھے اور کیبن میں جاکر پانی کی بوتل لیکر آئے میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ مسافر ایسے لائین میں لگے ہوئے تھے جیسے داتا دربار میں لنگر لینے کے لئے لگتے ہیں ایک عورت نے اپنے بچے کے لیے دودھ کا فیڈر بھرنے کی درخواست ائیر ہوسٹس سے کی تو وہ کہنے لگی کہ آپکو خود جا کر کیبن میں فیڈر دھوکر بھرنا ہو گاایرہوسٹس کا کیبن کسی مچھلی منڈی کا سا منظر پیش کر رہا تھا جس میں ایک مسافر پوچھ رہا تھا ”یار ایک کافی مل سکتی ہے “ تو جواب آیا جی سوری دودھ ختم ہوگیا ہے“ اب کوئی پوچھے کافی میں دودھ کا کیا کام؟کھانے میں سنا تھا کہ اب روایتی بریانی کی بجائے گوشت روٹی بھی دی جاتی ہے لیکن ائیرہوسٹس کسی سے پوچھنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتی کہ” آپ کی چوائس کیا ہے “ بس ایسے ہی کھانا تقسیم کیا جاتا ہے جیسے کسی درگاہ پر سب کو ایک ہی حلیم بانٹی جاتی ہے
ایک مسافر کو سردی لگ رہی تھی اس نے اسی آنٹی ائیر ہوسٹس سے کمبل مانگا تو وہ کہنے لگی کہ کمبل ختم ہوگئے ہیں “ختم ہونے والی بات میری سمجھ سے باہر تھی کیا میلان اترنے والے مسافر اپنے ساتھ کمبل اٹھا کر لے گئے تھے کہ ختم ہوگئے؟ خیروہ مسافر بھی بڑا دلیر ثابت ہوا اس نے اپنے لہجے میں کرختگی لائی ہی تھی کہ موصوفہ دوڑتی ہوئی گئی اورتین چارکمبل اٹھا لائی ایسے لگتا تھا کہ کسی سوئے ہوئے مسافر کے اوپرسے اٹھا لائی ہو پی آئی اے کی خواتین ائیر ہوسٹس کا رویہ کسی بھی مسافر سے اتنا روکھا ہوتا ہے کہ وہ شعر یاد آجاتا ہے کہ
اسے اب کسی کی محبت کا اعتبار نہیں رہا
اسے شاید زمانے نے ستا یا بہت ہے
پی آئی اے کے بعض ”بیوڑے“ مسافروں کی ایک شکایت یہ بھی ہے کہ ہر سیٹ کے پیچھے لکھا ہوا ہے کہ پی آئی اے یعنی کہیں باہر سے ہی پی آئیں جہاز کے اندر پینے پلانے کا کوئی انتظا م نہیں ہے جب بھی جہاز ڈولنا شروع ہوتا ہے مسافر یا اللہ خیر کی صدائیں لگا نا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ ہر فلائیٹ کا نمبر ہی ”پی کے “ہوتا ہے جب اس طرح کی باتیں ہوں گی تو خوف آنا ظاہری سی بات ہے اکانومی کلاس کے چارمیں سے 2واش روم صرف تین گھنٹوں میں ہی ناقابل استعما ل ہوچکے تھے سمجھ نہیں آئی کہ قصور عملہ کا تھا یا ان مسافروں کا جو صرف آٹھ گھنٹوں کے سفرمیں ہی پیٹ کے ہلکے ثابت ہوئے اور انہوں نے اپنی ٹکٹ کا پورا پورا استعمال کرنا ضروری سمجھا ۔۔۔سب سے خوبصورت منظر وہ ہوتا ہے جب پی آئی اے کی فلائٹ لینڈ کر تی ہے تو جہاز کے عملہ کے بار بارہدایت کے برخلاف پاکستانی مسافر کھڑے ہوجاتے ہیں اوراپنا اپنا سامان کندھوں پر لٹکا لیتے ہیں پھر چاہے انہیں آدھا گھنٹہ کھڑا رہنا پڑے وہ بیٹھیں گے نہیں دروازہ اوپن ہوتے ہیں ایسی دوڑ لگاتے ہیںجیسے بچے سکول سے بھاگتے ہوئے نکلتے ہیں
پی آئی اے کے مقابلے میں دوسری فلائیٹں سستی ہیں اور سہولیات کے لحاظ سے کافی بہتر بھی ہیں لیکن لاکھ شکایتوں کے باوجود پاکستانی تقریباً 80سے لیکر 100یورو مہنگی ٹکٹ صرف اس لئے خریدتے ہیں کہ انہیں اس قومی ائیر لائین سے محبت ہے اور محبت میں جفا تو برداشت کرنا ہی پڑتی ہے


0 commenti:
Posta un commento