اس کی عمر بیس سال تھی،آنکھوں میں خواب سجانے اور انہیں پورا کرنے کی عمر،اپنی تقدیر بدلنے اورقسمت میں لکھے اندھیروں میں روشنی کے چراغ جلانے کی عمر ،یہ وہی عمر ہے جب ارادوں کی پختگی پر یقین اور کچھ کر دکھانے کا جنون ہوتا ہے لیکن اسی عمر میں اسے غلامی کی زنجیریں توڑ کر آزادی کا خواب سجانے کی سزادی گئی اس کے آقاءوں کی جانب سے تیار کئے گئے فردجرم کی فہرست بڑی لمبی تھی اس کی پہلا جرم یہ تھا کہ وہ عورت پیدا ہوئی اس کا دوسرا جرم یہ تھا کہ اس نے پیدا ہونے کے لئے نائجیریا کے بنین سٹی کا انتخاب کیا جو غربت میں اپنا ایک مقام رکھتا تھا اس کا تیسرا جرم یہ تھا کہ اس نے جس خاندان میں آنکھ کھولی وہاں عورت پیدا ہونا خاندان والوں کے لئے کمائی اور اس عورت کے لئے وحشت اور گندگی کے اندھیرے ثابت ہوتے ہیں لیکن وہ بچپن سے یہ سمجھتی تھی کہ یہ سب اس کے جرم نہیں ہیں یہ تو اس کی تقدیر میں لکھے اندھیرے ہیں وہ پڑھ لکھ نہیں سکی لیکن اس نے کہیں سے سنا تھا کہ قسمت میں لکھے دکھ ہمت سے دور کئے جاسکتے ہیں اس نے سنا تھا کہ جن کا عزم پختہ ہو وہ اپنی تقدیر خودبدلتے ہیں وہ ذلت کی زندگی اور غلامی کے اندھیروں سے خود بھی نکل سکتے ہیں اس کا نام” ادنکلے نائیک فیور“ تھا اس کے گھر والوں نے اپنی غریبی دور کرنے کے لیے اسے لڑکپن میں ہی 65ہزار یورو میں جسم فروشوں کے مافیا کے ہاتھ بیچ دیا یوں تو بنین سٹی میں جسموں کی قیمت 60ہزار یورو سے لیکر ایک لاکھ یورو تک بھی لگتی ہے لیکن قیمت کا انحصار لڑکی کے خوبصورت ہونے یا خاندان کی مجبوری پر ہوتا ہے بدلے میں لڑکی کی آزادی بیچی اورروح زخمی کی جاتی ہے اور بنین سٹی سے اٹھا کر اسے یورپ لایا جاتا ہے جہاں وہ آدھی زندگی اس قرض کو اتارنے میں اپناخون پسینہ ایک کرتی ہے لڑکپن کی دہلیز پر ہی اس کے خاندان والوں نے ”ووڈو “ کی رسم کا اہتمام کیا یہ ایک جادوئی سی رسم ہے جس میں لڑکی کے جسم کے مختلف حصوں کے بالوں اور ناخنوں کے ٹکڑے لیکرمرغی کے خون میں بھگویا جاتا ہے اور کالے جادو کی ماہر کو بلا کرایک مذہبی رسم ادا کی جاتی جس کے بعداسے ایک محافظ کے سپردکیا جاتا ہے جو اس کے مستقبل کا فیصلہ کرتی ہے یہ محافظہ ایک عورت ہی ہوتی ہے اسے” میڈم“یا پھر آنٹی کہا جا تا ہے یہ آنٹی لڑکی کو خاندان والوں سے خرید لیتی ہے جو اس کی آزادی ہی نہیں بلکہ اس کے دستاویزات ،اس کا نام ،اس کی پہچان اور اس کی خاموشی خرید کر اسے اپناغلام اور دنیا بھر کی لونڈی بنا لیتی ہے اس کے گھر والے رقم لیکر آنٹی سے وفادار رہنے کی قسم اٹھاتے ہیں ، نائیک فیور کوبھی ایک میڈم خرید کر اٹلی لے آئی جہاں پہنچ کر اسے اس قرض کو اتارنے کے لئے اپنے جسم و جوانی کا خراج ادا کرنا تھا جو اس کے گھر والوں نے میڈم سے لیاتھا اس کے گھر والوں نے بھی رقم لیتے ہی یہ ضمانت دی تھی کہ ساری رقم ادا کرنے تک وہ میڈم سے وفادار رہے گی
نائیک کا سفر نائجیریا سے شروع ہوا اور وہ لیبیا سے ہوتی ہوئی غیرقانونی طریقے سے سمندری راستہ استعمال کرتے ہوئے اٹلی کے شہر پالیرمو پہنچی جہاں ایک بہت بڑا مافیا ہے جو اس سارے سسٹم کو کنٹرول کرتا ہے میڈم تو اس سار ے کاروبار کی ایک ادنیٰ سا ممبر تھی جو اپنی جوانی میں اسی طرح کے کئی خراج ادا کر چکی تھی اور اب ترقی کر کے میڈم کے عہدے پر پہنچی تھی پالیرموکے روڈ ”ویا میسینا“ اور” ویا لنکن ان کے” کام“ کی جگہ تھی اسے پتہ چلا کہ ہر روڈ کی بھی اپنی ایک قیمت ہے جس کے لیے انہیں علیحدہ سے ادائیگی کرنا پڑتی ہے ، اپنا قرضہ اتارنے کے علاوہ اپنی رہائش ، اپنے کھانے پینے ، کپڑوں اور میک اپ کا خرچہ پرداشت کرنے کے لیے بھی محنت انہیں خود ہی کرنا پڑتی ہے اوراس کے بدلے میں انہیں کہیں تنہا جانے کی بھی آزاد ی نصیب نہیں سوائے ان لڑکیوں کے جو میڈم کا بھروسہ جیتنے میں کامیاب ہوجائیں انہیں بھی صرف اتنی آزادی میسر ہے کہ وہ کبھی کبھار اکیلے شاپنگ کر نے جاسکیں یا پھر کسی شام سمندر کنارے ”اپنی مرضی “ سے کوئی ہلکی سی سیر کر سکیں جو لڑکیاں زیادہ نہیں کما سکتی ان پر تشدد کیا جاتا ہے دھمکایا جا تا ہے اور مارا پیٹا جاتا ہے وہ اپنے کام سے بھاگ نہیں سکتیں کیونکہ ان کو کنٹرول کرنے والا مافیابڑا خطرناک ہے جو انہیں اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ کسی قسم کی رپورٹ درج کرائیں 1995ئ سے پالیرمو میں ایک تنظیم کام کررہی ہے جس کانام ”پیلیگرینو دیلا تیرا “ زمین کا حج “ ہے جوانہیں ذلت کے اس اندھے کنویں سے نکالنے میں مددکرتی ہے یہ ایسوسی ایشن ابھی تک 250کے قریب لڑکیوں کو اس مکروہ دھندے سے نکالنے میں کامیاب ہوسکی ہے
نائیک کے ذہن میں کئی بار اس دوزخ سے بھاگ جانے کا خیال پیداہوا لیکن اس نے سنا تھا کہ اس سے پہلے بھاگنے والوں کا انجام بڑا دردناک ہواتھا پھر ا سکی زندگی میں” سالواتورے “آیا جو یوں تو اسکے حسن کا ایک خریدار ہی تھا لیکن اسے نائیک سے محبت ہوگئی نائیک کومحبت کا لفظ سن کر اپنی سماعت پر یقین نہیں آیا اس نے میڈم سے سنا تھا کہ وہ محبت بانٹنے کا کاروبار کرتی ہیں کہ وہ جو زمانے بھر سے ٹھکرا دیئے جاتے ہیں اور جنہیں کہیں سے محبت نہیں ملتی وہ ان کو اپنے دامن میں پناہ دیتی ہے۔کہ وہ زمانے بھر کا گند اپنے دامن میں سما کر سوسائٹی کوصاف رکھتی ہے لیکن ”سالواتورے “اسے کہنے لگا کہ محبت ہوس کے پجاریوں کی بھوک کا نام نہیں ہے محبت تو ایک میٹھا جذبہ اور حرص و ہوس سے کوسوں دور احساس کی دنیا ہے۔محبت محبوب سے خوشی وصول کرنے کا نہیں بلکہ اس کے غم بانٹنے کا نام ہے ، محبت زبانی کلامی شاعری نہیں بلکہ محبوب کیلئے کچھ کردکھانے کاجذبہ ہے محبت مضبوط دل اور بہادر لوگوں کا کام ہے محبت تاریکیوں سے روشنی اور پستی سے بلندیوں کی طرف لیکر جاتی ہے ، محبت دلدل سے نکال کر چمنستانوں کی سیر کراتی ہے محبت بیمار سوچوںکی نہیں بلکہ صاف دماغوں اور روشن ذہنوں کی اختراع ہے اسنے نائیک کو سمجھایا کہ وہ جس کام کو اپنی تقدیر سمجھ رہی ہے وہ گندگی و غلامی ہے اور محبت غلامی سے آزادی تک کا سفر ہے نائیک کو اندازہ ہی نہیں تھی کہ کوئی اس سے بھی ایسی محبت کر سکتا ہے جو پستیوں سے بلندیوں تک اور اندھیروں سے اجالوں تک کا سفر کرائے اس نے کبھی نہیں سوچا تھاپنجر سے مَاس نوچنے والی گِدہوں کی اس دنیا میں کسی کی نظر پنجر کے اندر دھڑکنے والے دل کی جانب بھی جا سکتی ہے جس سے احساس ہو کہ اندر حیات کی رمق باقی ہے وہ سوچ بھی نہیں سکتی کہ اس بازار میں کوئی جذبات کا بھی خریدار تھا اسے یقین ہونے لگا کہ دنیا میں محبت ،احساس و جذبات ابھی مفقود نہیں ہوئے سوچ کی انہی بنیادوں پر اس نے اپنی آزادی کے سپنوں کا محل کھڑا کرنا شروع کیااوراس دلدل سے نکل کر دنیائی حج کا فیصلہ کیا اس نے سوچا انسانیت کو غلام بنانے والی سپر پاوروں کی اس دنیا میں آزادی کی سانس لینے اوراپنی مرضی سے جینے کا حق اسے بھی ہے اسے سالواتورے کی باتوں میں اپنائیت اور لہجے میں مدد کا جذبہ نظر آتا تھا ،اسے پہلے بار احساس ہوا کہ اپنی تقدیر بدلنے او ر اپنی زندگی کی کہانی خود لکھنے کا موقعہ اسے شاید دوبارہ نہ ملے ، سالواتورے نے اس سے شادی کی خواہش ظاہر کی تو اسے لگا کہ بھیڑیوں کی اس بھری دنیااور شہوانے ریچھوں کے اس گھنے جنگل میں اس کی ملاقات کسی انسان سے ہوگئی ہے
دونوں نے کونسل سے شادی کے لئے مطلوبہ دستاویزات کی معلومات لی اور نائیجرین ایمبیسی سے اجازت نامہ لینے کے لئے ٹرین کی ٹکٹ خریدی جب انہوں نے روم جانے کی تیاری شروع کی تو نائیک نے قسم اٹھائی کہ وہ ذلت و گندگی کا یہ راستہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے گی لیکن مافیا کو اس کے ارادے کی خبر ہوگئی انہوں نے اسے ان باقی 500لڑکیوں کے لیے عبرت بنانے کا منصوبہ بنایاجو اسی کے پیشہ سے وابستہ پالیرموکی گلیوں میں کھڑ ی ہوتی تھیں اور اسے اغوا کرکے پالیرمو کے نزدیک ”میسل میری“ کے کھیتوں میں21دسمبر 2011ئ کو زندہ جلادیا اس کی لا ش جل کر کوئلہ بن گئی ”سالواتورے “ ٹکٹ ہاتھ میں پکڑے اپنی نائیک فیور کے راکھ میں اس کی وہ آنکھیںڈھونڈتا رہا جن میں اس نے آزادی کے خواب بھرے تھے نائیک کے نام میں لفظ فیور آتا ہے لیکن اس سے کسی نے اتنی بھی فیور نہیں کی کہ اسے اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینے کا موقع دیا جا تا
اطالوی حکومت نے حال ہی میں یورپین یونین کا قانون سائین کیا ہے کہ اگر کوئی تارک وطن کسی استحصال کا شکار ہوتا ہے تو پولیس کا تعاون کرتے ہوئے اپنے مالک پر کیس کر کے وہ اٹلی کی چھ ماہ کی امیگریشن لے سکتا ہے لیکن اتنے خطرناک مافیا سے کوئی کیا ٹکر لے گاجو پہلے سے زندہ لاش بنے ہوئے جسموں کو بھی آگ لگانے سے باز نہیں آتاجن کا جرم صرف اتنا ہے کہ ان کی پیدائش تیسری دنیا کے ان ممالک میں ہوئی جن کے معدنی ذخائر بھی ان کی قسمت کے اندھیرے دور نہیں کر سکے اٹلی میں غیر قانونی طور پررہنے والے تارکین وطن ستمبر اکتوبر میں نئی کھلنے والی امیگریشن کی خبر کی معلومات لے رہے ہیں بہت سے لوگ یورپ کے دیگر ممالک سے اٹلی آکر امیگریشن لے لیں گے لیکن وہ نہیں جانتے کہ اس امیگریشن کے قانون میں کتنی نائیک فیور کی لاشیں کوئلہ بنی ہیں اور کتنی لاشیں ابھی چل پھر رہی ہیں جن کا کریا کرم ہونا ابھی باقی ہے جنہیں ابھی اس قید حیات سے مکتی نصیب نہیں ہوئی


0 commenti:
Posta un commento