11/10/10

TREE

شام ڈھلتے ہی میں اسی درخت کے پاس جا بیٹھتا ہوں جس کے تنے میں تم نے کرید کرید کر میرا اور اپنا نام لکھا تھا تمہیں شاید یاد نہیں اس درخت پر میں نے تمھارا نام سراب لکھنا چاہا تھا اور تم غصہ میں پاگل ہوءے ، تمھارا کہنا تھآ کہ تم ہمیشہ کے یے ہو اور سراب نہیں ہوں میں نے مسکرا کر تمہاری بات مان لی تھی اور یقین بھی کر لیا تھا مگر میرے سادگی پہ  وہ درخت بڑے ذور سے ہنسا تھآ کہ اسی کے تنے میں جانے کتنے ہی نام لکھنے والوں نے یہی قسم کھاءی  تھی کہ ان کا نام ہمیشہ ساتھ رہے گا ، وہ جانے کے لیے نہیں آءے اور ان کا ساتھ ساون اور گھٹا کا سا ہےلیکن وہ ایسے بچھڑے کے دوبارہ
یہ دیکھنے بھی نہیں آءے کہ ان کا نام اس درخت کے تنے پہ ہے بھی یا وہ درخت ہی جاتا رہا
 
sò gia' che il ''x sempre'' NON ESiSTE,ma per il momento preferisco giocarmelo..

0 commenti: