24/02/14

صبر


مکمل تحریر  »

13/02/14

شہر محبت کی ہوا۔۔

پچھلے کئی دنوں سے اس کی ایک ہی بحث تھی کہ ’’ دل کی الگ سے کوئی دنیانہیں ہوتی سائنس کی تعریف کے مطابق دل کا کام پورے جسم کو سوائے خون پہنچانے کے اور کوئی نہیں ہے اس لیے یہ کہنا کہ دل کسی کو چاہنے لگتا ہے لایعنی سی باتیں ہیں۔۔‘‘
وہ دوسری اطالوی لڑکیوں سے بہت مختلف تھی یعنی اسکی گفتگوشاپنگ،نوکری ، فیشن اورگوسپ کے گرد نہیں گھومتی تھی اس نے چند سال پہلے ہی سائیکالوجی کی ڈگری حاصل کی تھی لیکن اسے ایک زعم ہوگیا تھا کہ اسے زندگی کے ہر پہلو کے بارے مکمل آگہی ہوگئی ہے زندگی کی بارے اس کا نظریہ بڑا حقیقت پسندانہ تھاوہ جذبات واحساسات کو دماغی خلل کہتی تھی چونکہ اسے انتھروپالوجی میں بھی دلچسپی تھی اس لیے مختلف ثقافتوں کے تناظر میں وہ میرے ساتھ شاعری فلسفہ اور مذہب کے بارے اکثر بحث میں پڑ جاتی اپنے دلائل پر زور ڈالنے کے لیے اپنے بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پردائیں ہاتھ والی ہتھیلی کھڑی کر لیتی جب کبھی جوابی دلائل سے بحث ہارنے لگتی تو اپنے بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے اپنے نیچے والا ہونٹ رگڑنا شروع کردیتی اس کا کہنا تھا ’’ ویلن ٹائین ڈے جیسا فضول دن سرمایہ داروں نے بزنس کرنے یعنی اپنے گلاب ،پرفیوم اور تحائف بیچنے کے لیے لانچ کیاہے ۔۔ ‘‘
شہر میں نیا نیا چینی ریسٹورنٹ کھلا تھا جس کی آفر تھی کہ مختلف انواع واقسام کے کھانے آپ جتنا چاہیں اور جتنی بار چاہیں ایک مخصوص قیمت میں کھاسکتے تھے لنچ ٹائم کو ہم اکثر اسی ریسٹورنٹ میں جاتے کھانے کے دوران اس کے اندر کی محقق بیدار ہوجاتی ایک دن لنچ ٹیبل پر چھری کانٹے کو فضا میں لہراتے ہوئے کہنے لگی ’’میرا مانناہے کہ صرف ویل ٹائین ڈے ہی نہیں بلکہ محبت کا بھی کوئی وجود نہیں ہے۔انسان زیادہ عرصہ تک کسی ایک کی چاہت میں گرفتار نہیں رہ سکتا۔۔۔ ‘‘ میری استعجابی کیفیت بھاپنتے ہوئے اس نے حسب مامول دلائل دینا شروع کر دیے وہ کہنے لگی
’’تم جانتے ہوکہ سائنس کی زبان میں انسان بھی حیوانات کی ایک قسم ہے اور حیوانات کی جبلت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ اپنی ساری زندگی کسی ایک ساتھی کے ساتھ نہیں گزارسکتے تو پھر انسان کے لیے یہ کیسے ممکن ہے وہ ساری زندگی کسی ایک کی ہی محبت میں گرفتار رہے ‘‘اپنی دھن میں مگن ’’اسپگیٹی‘‘ کو کانٹے کے گرد رول کرتے ہوئے پوچھنے لگی ’’اچھا جانوروںیا پرندوں میں سے کسی ایک قسم کا نام بتاؤ جو ایک ہی ساتھی سے محبت کرتا ہے ؟‘‘میں نے اپنے ’’اورنی تھالوجی‘‘ کے علم پر دماغ کے گھوڑے دوڑاتے ہوئے جواب دیا ’’کبوتر ۔۔۔۔‘‘ جھنجھلا کر کہنے لگی’’ جانوروں کی 8.7ملین اقسام میں سے بمشکل ایک مثال ڈھونڈ سکے ہو‘‘کہنے لگی ’’ اچھا یہ بتاؤ کہ انسانی معاشروں کی کتنی اقسام ہیں‘‘میں نے ابھی دماغ کے کمپیوٹر پر گوگل کرنے کا سوچا ہی تھا کہ گلاس سے پانی پئے بغیر اسے ٹیبل پر رکھتے ہوئے جھٹ سے بولی ’’انسانی معاشروں کی 558اقسام ہیں اور کیا تم جانتے ہواس میں صرف 24فی صد یک زوجیت یعنی مونوگامی پر یقین رکھتے ہیں ‘‘اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’’یہ جو تمہارا مذہب چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے میں اسے انسانی جبلت کے بالکل قریب سمجھتی ہوں کیونکہ انسانی نسل کو بچانے کے لئے ضروری ہے کہ وہ کسی ایک ہی کا دیوانہ نہ بنارہے اور۔۔‘‘میں نے اس فوراً ٹوکتے ہوئے کہا ’’ تم اپنے خود ساختہ فلسفہ کوصحیح ثابت کرنے کے لیے میرے مذہب کا سہارا نہ لو کیونکہ اسلام میں پولوگامی کا فلسفہ مختلف ہے اور اس کا مقصد کہیں بھی محبت سے فرارنہیں ہے ۔۔۔‘‘کہنے لگی ’’اگر ایک مرد چار عورتوں سے شادی کرے گا تو اس کی محبت تقسیم نہیں ہوجائے گی۔۔۔‘‘میں نے اشفاق احمد کی سی سنجیدگی اپناتے ہوئے کہا ’’محبت کو تقسیم نہیں کیا جاتا بلکہ اسے ضرب دی جاتی ہے ۔۔‘‘ نیپکن سے اپنا منہ صاف کرتے اس نے ہار مانتے ہوئے کہا’’ میں تمہارے ساتھ مذہب کے بارے کوئی بحث نہیں کروں گی کیونکہ مجھے یاد ہے پچھلی دفعہ جب میں نے تمہارے ساتھ خدا کے وجود کے بارے میں بحث کی تھی تو اسی رات میری ماں کو ہارٹ اٹیک ہوگیا تھا اور وہ بال بال بچی تھی۔لیکن میں یہ ثابت کر سکتی ہوں کہ محبت کا کوئی وجود نہیں ہے۔۔۔اوریہ چند مہینوں میں خود بخودہی کافورہوجاتی ہے ‘‘
میں نے اس سے پوچھا کیا تمہیں اپنی زندگی میں کسی سے محبت نہیں ہوئی؟ اسنے چاکلیٹ کیک کا ٹکڑا منہ میں رکھتے ہوئے انکار میں سر ہلا دیا تو میں نے حیران ہوکرپوچھا پھر وہ تمہارا جیون ساتھی کون ہے جس کے بچے کی تم ماں ہو، جس کے ساتھ ملکر تم نے مکان خریدا ہے اور ایک اچھی فیملی لائف گزار رہی ہو؟۔۔وہ مسکر اکر کہنے لگی’’ وہ میرے دل کا نہیں بلکہ میرے دماغ کا فیصلہ تھاجوانی میں جن لڑکوں نے میرا ہاتھ مانگا ان میں خوبصورت بھی تھے، ذہین بھی اوراسمارٹ بھی لیکن میں نے یہ لڑکا چنا جو ہسپتا ل میں جاب کرتا ہے اس کے والدین کا اٹلی کے تفریحی مقام سپیسیا پر ایک خوبصورت ہوٹل ہے اوروہ دولتمند والدین کا اکلوتا بیٹا ہے اور میرے خیال میں یہ میرا مستقبل محفوظ بنا سکتا ہے‘‘
ایک دن اسی ریسٹورنٹ میں انناس کی سلائس چباتے ،قہقہہ لگاتے ہوئے اس نے بتایا کہ ایک لڑکے نے اس سے اظہار محبت کیا ہے لیکن وہ نہیں جانتاکہ میں ان باتوں پہ یقین نہیں رکھتی‘‘ کہنے لگی’’بڑا مزہ آیا گا اسے بیوقوف بنانے میں ۔۔‘‘
میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا کہ اگر وہ دل کی دنیا پر یقین نہیں رکھتی تو اس کے ساتھ مذاق بھی نہ کرے۔ ۔کسی کے دل سے جس طرح کے چھیڑ خانی کاوہ ارادہ رکھتی ہے اسے مشرق کے شعراء وادیب ’’دل لگی‘‘ کہتے ہیں اور دل لگی کب دل کی لگی بن جائے پتہ بھی نہیں چلتا۔۔ دل اور درد پر اختیار کھونے میں وقت نہیں لگتا۔۔۔محبت مذاق نہیں ہے بلکہ کبھی کبھی روگ بن کر جوگ لینے پر بھی مجبور کرتی ہے۔۔ میں نے اسے کہا کہ’’ اگر محبت کاوجود سے انکاری ہو تو اس شہر الفت کا پتہ بھی نہ کسی سے پوچھو ۔ اگر تم اپنی جا ن و دل عزیز ہیں تو اس عشق نگرکی گلی میں جھانکو بھی نہیں ۔۔کیونکہ جب اس کا جادو چڑھتا ہے توتاویلیں دلیلیں سب دھری کی دھری رہ جاتی ہیں اور طوفانوں بھرے دریا میں چھلانگ لگاتے ہوئے یہ خیال نہیں رہتا کہ گھڑا کچا ہے یا پکا ؟۔۔ ’’محبت کی اوس جب تمہارے دل پر گرے گی تو یہ جو حقیقت کی عینک اپنی آنکھوں پر چڑھائے پھرتی ہو اس کے شیشوں سے تمہیں مطلع ہر وقت ابر آلودہی نظر آنا شروع ہوجائے گا۔۔تمہیں خو د پہ جتنا غرور ہے کہ تمہارا دل تمہای عقل کے قابو میں ہے غلط ہے کیونکہ محبت اور موت کا کوئی وقت مقررنہیں کہ یہ کب اور کہاں سے آجائیں۔۔۔ ‘‘کہنے لگی ’’تم جانتے ہوکہ میں شاعروں ادیبوں کی تخلیقات کو سرے سے علم ہی نہیں سمجھتی تو پھریہ ٹھنڈی آہوں اور پرنم آنکھوں جیسے مشرقی فلسفہ کو کیا اہمیت دوں گی؟ ‘‘میں نے جواب دیا ’’ فلسفہ مشرقی یا مغربی ہوسکتا ہے لیکن انسانی جذبات اور احساسات مشرق یا مغرب کی تمیز نہیں کرتے۔۔۔‘‘
اسی بحث میں دن گزرتے رہے وہ اس لڑکے کو ’’بے وقوف‘‘ بناتی رہی اور پھر یوں ہوا کہ آہستہ آہستہ اس کی بھوک کم ہونا شروع ہوگئی وہ اپنی پلیٹ میں کھاناچھوڑ دیتی ایک دن بیرے نہ آکر کہا’’ میڈم ہم نے اپنی پالیسی تبدیل کر دی ہے اور اب اگر کوئی اپنی پلیٹ خالی نہ کرے تو ہم اسے دو یورو اضا فی چارج کرتے ہیں‘‘ اس دن وہ مجھے خو دکہنے لگی کسی شاعرکی کوئی کتاب ہی تجویز کرو۔کافی کا کپ میرے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا میں نے ’’اسکو بھی لگ ہی گئی شہر محبت کی ہوا ‘‘کہتے ہوئے چھیڑا اور اسے خلیل جبران پڑھنے کامشورہ دیا۔ اگلے دن وہ آئی تو ا سکی سوجھی ہوئی سرخ آنکھوں سے لگتا تھا’’ وہ سوئی بہت ہے یا روئی بہت ہے ۔۔‘‘اپنے بیگ سے’’بروکن ونگز‘‘نکالی اور کہا کہ تم سچ کہتے تھے یہ تمہارے شاعر لوگوں کے پاس جو انسان شناسی کاعلم ہے وہ بھی کسی سائیکالوجی جیسی سائنس سے کم تر درجے کا علم نہیں ہے ۔۔‘‘کچھ دنوں بعد بتانے لگی کہ وہ اپنے چار سالہ بیٹے کو لیکر اپنے جیون ساتھی سے علیحدہ ہوگئی ہے اوراپنی محبت کے ساتھ زندگی گزارنے کا ارادہ رکھتی ہے
میں نے اسے کہا ’’اب تم نے پہلے سے بھی سنگین غلطی کی ہے ذرا اپنی زندگی کا گوشوارہ بنا کر سوچو تم نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے؟ تم ایک ایسے لڑکے کی محبت میں گرفتار ہوئی ہو جس کے پاس کوئی مستقل نوکری نہیں جس کا اپنا ذاتی مکان اوراپنی گاڑی بھی نہیں ہے سوچو جو تمہارے بیٹے کا باپ بھی نہیں ہے وہ اسے کیا محبت دے گا اور بقول تمہارے محبت زیادہ عرصہ تک باقی نہیں رہتی جب دو تین سال بعد وہ تمہیں چھوڑ کر کسی اور کی چاہت میں فریفتہ ہو جائے گا تو تم کہاں کھڑی ہوگی ؟اور ہاں اب زمانہ تمہیں بے وفا کا لقب دیکر تمہیں مجرم قرار دے گا کہ تم ایک اچھی جیون ساتھی ثابت نہیں ہوئی۔‘‘
وہ کہنے لگی’’ تم ٹھیک کہتے ہو لیکن میں تمہیں کیا بتاؤں میں اپنے د ل کے ہاتھوں کتنی مجبور ہوگئی ہوں اس محبت نے مجھے زندگی کا لطف سمجھایا ہے مجھے پہلی بار اندازہ ہوا ہے کہ سردی کی میٹھی دھوپ کتنی سکون آور، ہلکی بارش میں قوس قزح کے رنگ کتنے سحر انگیز ، بغیر چینی کی کافی کی کڑواہٹ کتنی خوش ذائقہ، موٹر وے پر رات کی ڈرائیونگ کتنی دلنشین اور ساحل سمندر پر ڈوبتا ہوئے سورج کانظارہ کتنا دلفریب ہوتا ہے مجھے پہلی بار محسوس ہوا ہے کہ جم موریسن کے روک میوزک میں کونسا جنون ہے ،لچانو لیگا بوئے کی آواز میں کونسا کرب ہے اور خلیل جبران کے الفاظ جسم میں کیوں چیونٹیاں دوڑاتے ہیں ۔۔۔ ‘‘کہنے لگی ’’چاہت کے احساس میں گزرے ہوئے میرے تین ماہ میری تیس سالہ سابقہ زندگی پر بھاری ہوگئے ہیں مجھے لگتا ہے میں اب کسی اور کے ساتھ رہوں گی تواپنے محبت سے بے وفائی کروں گی۔میں زمانے کے طعنوں کے ڈر سے اپنے ضمیر کی مجرم نہیں ہوسکتی یہ ممکن نہیں ہے کہ میں محبت کسی اور سے کروں اور زندگی کسی اور کے ساتھ گزاروں ۔۔۔‘‘اس نے اپنی اشک بار آنکھوں سے کہا ’’دیکھا میری باتوں میں کتنی شاعری آگئی ہے اورتمہیں تو خوش ہونا چاہیے میں تم سے ایک بار پھر بحث میں ہار گئی۔۔۔‘‘ میں نے اسے کہا نہیں ’’اصل میں تم مجھ سے نہیں ہاری بلکہ تمہارے دل نے تمہیں شکست دی ہے یہ دل کی بازی کھیل نہیں ہے جو بھی اس سے شرط لگا تا ہے ہارنا اس کا مقدر بنتا ہے ‘‘
خصوصی تحریر :محمود اصغر چوہدری

مکمل تحریر  »

13/01/14

زمینیں وفا نہیں کرتیں

اِنہیں میں جیتے اِنہی بستیوں میں مر رہتے یہ چاہتے تھے مگر کِس کے نام پر رہتے

پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں
ہم ایسے کون   تھے، کہ اپنے گھررہتے

پرندے جاتے نہ جاتے پلٹ کے گھر اپنا
پر اپنے ہم شجروں سے تو باخبر رہتے

بس ایک خاک کا احسان ہے، کہ خیر سے ہیں
وگرنہ صورتِ خاشاک در بدر رہتے

مِرے کریم
! جو تیری رضا، مگر اِس بار
برس گزر گئے، شاخوں کو بے ثمر رہتے

مکمل تحریر  »

امت مسلمہ کے خلاف مقدمہ

اچھا سوال آدھا علم ہوتا ہے اور علم اسی کے دامن میں سما سکتا ہے جو اپنے شعورکے برتن کو خالی سمجھ کر جستجو کرتا ہے ورنہ تکبر علم کوکھا جاتا ہے ہمارے ہاں عمومی طور پر علم امتحان میں زیادہ نمبر ز لینے کو سمجھا جاتا ہے اورسوال کوگستاخی سے تعبیر کیا جاتا ہے مذہب کے حوالے سے جن سوالوں کا جواب مشکل ہوان پر سائل کی نیت پر شک کر کے اسے ملحد قرار دے دیا جاتاہے جس کی وجہ سے اب معاشرہ میں عمومی طور پرڈائیلاگ اور برداشت کا کلچر ختم ہورہاہے دین اسلام جو ایک آفاقی اور بین الاقوامی سسٹم ہے اور جس کاتعارف اللہ جل مجدہ نے اپنی پاک کتا ب میں انسانیت کی ہدایت کہہ کر کرایا اب امت مرحومہ کی جانب سے اسکو مذہب نامی ایک محدود سے سانچے میںڈھالنے کی کوشش کی جارہی ہے اسی لیے اس کی جزیات پر تفرقات کی اس طرح تقسیم کی گئی کہ اب اس کی رسومات پر بات تو ہوسکتی ہے لیکن اسلام بحیثیت ایک نظام اور ایک سسٹم کا تذکرہ خال خال ہی نظر آتا ہے بدنصیبی یہ ہے کہ جوگروہ اس کے نفاذ کے دعویٰ کرتے ہیں وہ اپنے فرقے کوہی مکمل نظام بتا کر کشت وخون کاوہ بازار گرم کرتے ہیں کہ ماڈرن تعلیم سے بہرہ ور طالبعلم کے سامنے اس کا جو نقشہ کھنچتا ہے اس میں یہ دین بھی دوسرے مذاہب کی طرح یا تو کچھ عادات واطوار اپنانے کا نام محسوس ہوتا ہے یا پھرفرقہ پرستوں کا ایک ایسا گروہ ذہن میں آتاہے جو اپنانقطہ نظر دوسروں پر جبراً لاگو کرنے کے لیے لاشوں کے انبار کھڑے کرکے معاشرے میں ا نتشارپیدا کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ نے انسانی ذہن کی تخلیق ہی ایسی کی ہے کہ اگر اس میں شعور کی لو موجود ہو تو وہ سوالو ںمیں سر گرداں رہتا ہے اس لیے وہ کفر و الحاد کے فتوی ٰ کے ڈر سے بھلے ہی خاموش رہے لیکن اس کے ذہن میں سوالوں کا جوار بھاٹا ہر وقت موجزن رہتا ہے وہ جاننا چاہتا ہے کہ اگر اللہ کے نزدیک پسندیدہ ترین دین اسلام ہے تواس وقت دنیا بھر میں یہ سسٹم استہزااور تمسخر کانشانہ کیوں ہے ؟اگراللہ تعالی انسان کی تخلیق کا مقصداپنی عبادت بتاتاہے تو کیا عبادت کا مفہوم صرف ارکان اسلام ہی ہیں ؟ اور اگر ایساہے تو ان کی پابندی ایسا سسٹم کیسے وجود میں آسکتا ہے جس سے ساری دنیا کو فلاح اور راحت میسر آئے گی ؟ اسی لیے وہ دیکھتا ہے کہ حاجی صاحب اگر ڈرگ کے دھندے سے منسلک پائے گئے ہیں ، پنج وقتہ نمازی اگر رشوت کو جائز سمجھتا ہے اگر زکواة کا فرض ادا کرنے والا سرمایہ کار اپنے ملازم کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرتا ہے ،کعبةاللہ کی سیڑھیوں سے اترنے والا حاکم وقت اپنی حکومتی ذمہ داریوں سے نبرد آزما نہیں ہورہابلکہ کرپشن اور بددیانتی کا مرتکب ہورہا ہے تو اس کے اندر عبادت کے تصور پر ہزاروں شکوک وشبہات جنم لیتے ہیںتوحید کا دعوی ٰ کرنے والا عالم جب امت میں تقسیم و تفریق کی بات کرتا ہے تو وحدت کا تصورذہنوں میں ڈگمگانے لگتا ہے محبت رسول ﷺمیں آبدید ہوجانےوالا اگر اپنے عمل سے محبت کو ثابت نہیں کرتا تو اس کا دعویٰ بناوٹی لگتا ہے
ایک شعور رکھنے والاذہن یہ سوچتا ہے کہ ترقی یافتہ اقوام تو دنیا کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنا پر زندگی کی ساری آسانیاں فراہم کررہی ہیں لیکن مسلم قوم اپنے تمام تر مادی وانسانی وسائل کی کثرت کے باوجود افلا س و پسماندگی کا نمونہ ،آفاقی ضابطہ اخلاق کی حامل ہونے کے باوجود شخصی وملی کردار میں ننگ آدم اور اپنے کردار کی وجہ سے نصوص ایمانی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں وہ سوچتا ہے کہ جس اسلامی انقلاب کا نعرہ یہاں کی مسلم جماعتیں لگاتی ہیں اگر وہ کامیاب بھی ہوگئی تو ان کے اندر کتنے ہیں جو سیاست ، حکومت، معیشت اور معاشرت کے فنون سے آشنا ہیں کہ دنیا کو ایک نمونہ ریاست بنا کر دکھائیںو ہ سوچتا ہے کہ جس دین میں علم کو فرض قرار دیا گیا ہے اس کے ماننے والوں ممالک میں تعلیم کی شرح کیا ہے؟ سیاسیات ، معاشیات ، آرٹ ،فنون لطیفہ ،میڈیکل ،انجنیئرنگ ،سائنس اورٹیکنالوجی جیسے فنون و علوم جو اس وقت دنیا میں ترقی کے ضامن ہیں ان میں مسلمان کہاں کھڑے ہیں؟ وہ سوچتا ہے کہ دنیا میں کامیابی کی ضمانت سمجھاجانے والے نظام تعلیم میں ” موت کا منظر“اور” قبر کا عذاب“ جیسی کتابیں بیسٹ سیلر کا درجہ اختیار کرتی ہیںتو اس کا ذہن تشکیک کے پگڈنڈیوں میں گم ہوجانا شروع ہوجاتاہے کہ مسلمان جس اخلاقی ، معاشرتی ، سیاسی اور معاشی ابتری کا شکار ہیں کہیں اس کا تعلق وہ ضابطہ حیات تو نہیں جس کے یہ دعوی ٰ دار ہیں ؟
حال ہی میں ایک کتاب کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا جو مجھے ہالینڈ سے صاحبزادہ کلیم الرسول نے تحفے میں بھیجی ہے یہ کتاب ان کے والد محترم پروفیسر ڈاکٹر حجۃ اللہ نے تحریر کی ہے جس کا عنوان ہے مقدمہ ۔ یہ چند ان کتابوں میںشامل ہے جسے ایک ہی نشست میں ختم کرنے کو جی چاہتا ہے تاکہ موضوع سے ربط نہ ٹوٹ جائے سب سے پہلے تو اس کا اندازتحریر جس میں مصنف نے روایتی مصلحانہ رویہ اپنانے کی بجائے جدید ترین مکالمہ نگاری کا اسلوب اپنایا ہے جو کسی بھی مذہبی کتابوں کی ذمرے میں میری نظر میں گزرنے والی پہلی کتاب تھی مصنف نے کتاب میں تین چارکرداروں کے ذریعے دین اسلام بحیثیت نظام کی بحث بڑے دلچسپ انداز میں قاری کے سامنے پیش کی ہے انہوں نے افسانوی انداز میں ایک کمرہ عدالت تیار کیا ہے جس میں جج کی کرسی پردین مبین کا پیغام لانے والے ر وح الامین یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بٹھایا ہے اس عدالت میں مجاہد رمزی نامی ایک کرداربحیثیت مدعی امت مسلمہ کے خلاف پیغام دین اسلام کی امانت میں خیانت کو دعویٰ دائر کرتا ہے اور اپنے دعوی ٰ میں دلائل کا انبار لگا دیتا ہے یہ تمام دلائل قرآن مجید اور احادیث کے حوالوںسے دئے گئے ہیںروح الامین علیہ السلام کی عدالت میں مجاہد رمزی نامی کردار کے سامنے وکیل صفائی کے طور پر پیش کیا گیا ہے ایک ملا ظاہری کو جو اس مدعی پر الحاد، کفر، شرک اور فرقہ بازی جیسے الزامات کی بوچھاڑ کر کے اپنی گلو خلاصی کرانا چاہتا ہے اور یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ علمائے امت ترقی و تنزل کے ہر دور میں دین حق کے پرچم کو ہمیشہ بلند رکھے ہوئے ہیں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ آج دنیا میں تیز ترین پھیلنے والا مذہب اسلام ہی ہے
کتاب کے شروع میںمصنف کی طرف سے امت مسلمہ پر بظاہر یہ الزامات بڑے بھیانک لگتے ہیں لیکن کتاب کی خوبصورتی یہ ہے کہ مصنف نے پیغام اسلام کے حوالے سے امت کے خلاف تنقیص کی بجائے تنقید کا انداز اپنا یا ہے یعنی ایک کم فہم اور باغی رائٹر کی طرح صرف سوالوں کی بوچھاڑ کرکے خوانخواستہ اسلام کو بدنام نہیں کیا بلکہ ایک ماہر حکیم کی طرح بیماری کی تشخیص کرکے اس کا اعلاج بیان کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جو نظام اپنے ابتدائی چالیس سالوں یعنی خلافت راشدہ کے دورمیں اقوام عالم کے لیے نمونہ رہا وہ اگر اس وقت پوری دنیا میںمقہور سمجھا جارہا ہے تو یقینابعد میں آنے والے مسلمانوں نے پچھلی امتوں کی طرح اصول دین میں تحریف کا ارتکاب کیا ہوگا ان کا یہ ایمان ہے کہ قرآن و سنت کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالی ٰ نے اپنی کتاب میں لیا ہے لیکن وہ اس کی تشریحات میں امت کی طرف سے کتمان اور تحریفات کا ببانگ دہل الزام عائد کرتے ہیں
انہوں نے اپنی علمی بحث میں عبادت کے تصورکو صرف ارکان اسلام سے نتھی کرنے کی نفی کی ہے ان کا ماننا ہے کہ اگر امت کو خلافت ارضی کے لیے چنا گیا ہے توانفرادی و معاشرتی طور پر وہ تمام اعمال عبادت تصور ہوں گے جوپوری دنیا کو لیڈ کرنے کے لیے لازمی ہیں وہ نماز کو اصل میں اپنے خالق حقیقی کے سامنے جاکر اپنی کارگزاریوں کی رپورٹ بیان کرنا سمجھتے ہیں وہ علم کے تصور کو صرف اخلاقیات سے نتھی کرنے کی نفی کرتے ہیں اور قرآن مجید کی سورة العنکبوت ،سورةالبقرہ ،سورة النحل الغرض بیسیوں مقامات سے یہ ثابت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ علم کا معنی ومفہوم میں سائنس ،ٹیکنالوجی اور کائنات کے بھیدوں کو جاننا اور نئی دنیائیں دریافت کرنا سر فہرست ہیں ، ان کاماننا ہے کہ خلافت راشدہ کے بعد ملوکیت نے احکام قرآنی کو سریعاً چھپایا ہے اور ایسی تحریفات کی ہیں جو آج اس مقام پر امت کو لے آئی ہیں کہ ذلت و بدنامی اس کا مقدر ٹھہر گئی ہے مثلاًاتباع رسول ﷺ سے مراد محض وضع قطع میں شارعﷺسے مماثلت اورسیرت و کردار اپنانے سے دوری ، معروف ومنکر سے مراد ارکان اسلام کی ادائیگی اور عدام ادائیگی کی تبلیغ لیکن ملی و سماجی امور سے پہلو تہی ، تحصیل علم سے مراد صرف و نحو فقہ و اصول ،کسب ثواب سے مراد چند مروی کلمات کا دہرانا،جہاد سے مراد قتال الکافرون چاہے ایجنڈا عالمی سازشیوں کا ہی کیوں نہ ہو اور جہاد بالنفس کا تصور خارج از بحث۔۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ صالحون سے مراد صرف مخصوص قسم کے عادات واطواریا حلیہ اپنانے والے لوگ نہیں ہے بلکہ صلاحیت والے لوگ ہیںیا وہ لوگ جنہوں نے فطرت کے پوشیدہ قوتوں کو دریافت کر کے ان کو اشرف المخلوقات کی خدمت میں لگا دیا ہے
یورپ میں رہنے والے قاری کے لیے یہ کتاب ایک خزانے سے کم نہیں ہے اگر آپ کے ذہن میں بھی دین اسلام ایک آفاقی نظام کے حوالے سے ایسے ہی سوالات سر اٹھاتے رہتے ہیں جن کا جواب کسی ملاظاہری کے پاس نہیں مل سکا تو میں آپ کو پروفیسر ڈاکٹر حجة اللہ کی یہ کتاب پڑھنے کی دعوت ضرور دو ں گا
تحریر محمود اصغر چوہدری

مکمل تحریر  »

30/09/13

مذاق رات

ایک سروے کے مطابق پاکستانی اپنے قریبی ہمسایہ ممالک کے شہریوں سے زیادہ ہشاش بشاش اور خوش باش رہنے والی قوم ہیں یہ بات حیران کن ضرور ہے کہ جس ملک میں ہرقت بم دھماکے ، دہشت گردی ، قتل وغارت گری ، چوری، ڈکیتی اور بھتہ مافیا کا بازار سر گرم ہو وہاں کے لوگ خوش وخرم رہنے والوں میں سر فہرست ہیں میرا نائر کی ہالی وڈ کی حالیہ فلم ”ریلکٹنٹ فنڈامنٹلسٹ “میں میشا شافی سے ایک گانا گوایا گیا ہے کہ بجلی آئے نہ آئے ڈھول بجے گا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ پاکستانی جن معاملات میں‌ رونا ہے ان میں‌ بھی ناچتے گاتے رہتے ہیں ویسے میرے ایک بہت ہی خوش رہنے والے دانشور دوست کا خیال ہے کہ خوش رہنا کوئی مشکل کام نہیں بس آدمی کو تھوڑا بے وقوف ہونا پڑتا ہے ویسے اس سروے کی حقیقت کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ گزشتہ دنوں ملک میں سیلاب نے تباہی مچائی لوگ بے گھر ہوگئے تو عوام کی اکثریت اس میں پریشان ہونے کی بجائے ایک جم غفیر کی صورت میں موٹر سائیکل اور گاڑیاں لیکردریاﺅں کے پل پر بچوں سمیت پہنچ گئے اور انہیں پل کے نیچے سے گزرنے والا سیلابی ریلہ دکھانا شروع کردیا بلوچستان میں آنے والے حالیہ زلزلہ میں اڑھائی سوافراد لقمہ اجل بن گئے ہیں لیکن پاکستانیوں کے لیے یہ خبراہم نہیں ہے بلکہ ان کے لیے خوشی کی خبر یہ ہے کہ اس زلزلہ کے نتیجے میں گوادر کے نزدیک سمندر میں ایک جزیرہ نمودار ہوگیاہے قوم زلزلہ کی تباہ کاریوں کا افسوس کرنے کی بجائے جزیرہ پرپہنچ کر سجدہ شکر بجا لارہی ہے اور اس کا نظارہ کررہی ہے سوشل میڈیا میں ”پراکسی تھیوری“ کے دانشور وں نے تو یہ شور بھی مچانا شروع کردیا کہ امریکہ اور مغربی ممالک اتنے سالوں سے پاکستان کے پیچھے اسی لیے پڑے ہوئے ہیں کہ یہاں یہ جزیرہ نکلنے والا تھا
عمران خان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ طالبان کو دفتر کھولنے کی اجازت دی جائے مولانا فضل الرحمان کو یہ مطالبہ جتنا بھی بچگانہ کیوں نہ لگے میرے خیا ل میں قابل غور ہے ہوسکتا ہو کہ خا ن صاحب نے سوچا ہو کہ تحریک طالبان ودیگر دہشت گرد جمعہ کو بھی چھٹی نہیں کرتے اگر انہیں دفتر کھول دیا جائے تو کم از کم وہ اپنی دفتری اوقات کا خیال رکھیں گے اورعوام کو ان دھماکوں سے ریلیف ملے گی کہتے ہیں کہ دفتر ی کام کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ جو کام آپ ایک دن میں کر سکتے ہیں وہ داخل دفتر ہوتے ہی کئی کئی مہینے میں بھی نہیں ہوپاتا کیونکہ دفتر میں فائل ورک اور پراجیکٹ بنانے میں کئی کئی مہینے لگ جاتے ہیں اس طرح اگر دہشت گردوں کو دفتر کی عادت پڑگئی تو شاید ان کے خون آشام پنجوں سے عوام کو کچھ دیر کے لیے آرام مل سکے اور دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ آئے دن جوطالبان کے ساتھی بعض طلباءتنظیموں کے ہوسٹل سے ملتے ہیں وہ اپنے دفتر میں ملا کریں گے اگر تو خان صاحب کی نیت یہ ہے تو ا س میں حکومت کو سیخ پا نہیں ہونا چاہیے اور ان کے مطالبہ پر غور ضرور کرنا چاہیے لیکن میرے ایک دانشوردوست کا خیال ہے کہ صرف عمران خان ہی نہیں بلکہ کوئی بھی خا ن جو بیان جوش میں دے وہ اپنے دل کی صفائی سے دیتے ہیں اس لیے ان کی نیت پر شک نہیں کرنا چاہیے پٹھان تواپنی بیوی کی تعریف بھی کرنا چاہیں تو جوش محبت میں بغیر سوچے سمجھے یہ کہہ دے گا ” خدا کی قسم اتنا خوبصورت ہے کہ جی چاہتا ہے گولی مار دوں۔۔“
جہاں تک مذاکرات کی بات ہے اس میں پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو پچاس فیصد کامیابی ہوچکی ہے وہ یہ کہ حکومت” مذاق رات“ کے لیے تیار ہے لیکن دہشت گر د تنظیمیں ابھی تیار نہیں ہیں اسی لیے وہ مسجدوں ، مزاروں ، مارکیٹوں اور چرچ جیسی مذہبی عبادت گاہوں کے بعد اب سرکاری ملازمین کی بسوں تک کو نشانہ بنا رہے ہیں اور حکومت کے جانب سے ان کے قیدی رہا کرنے کے باوجود وہ اپنی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ہر جنگ کا اختتام بھی ڈائیلاگ کی ٹیبل پر ہوتا ہے میری ذاتی خیال میں مذاکرات ہی کسی مسئلہ کا سب سے بہتر حل ہوسکتے ہیں لیکن امن قائم کرنے میں جوبات سب سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر آپ کا مخالف آپکی امن کی خواہش کو آپکی کمزوری سمجھ لے تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جوحالیہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کے ساتھ ہوا نواز شریف تواپنے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ کے ساتھ محبت کی پینگیں ڈال کر” ککلی کلیر دی“ کھیلنے کی تیاری میں تھے لیکن ان کے مذاکرات میں پہل کی خواہش کا جواب من موہن سنگھ نے یہ دیا کہ پاکستان کو دہشت گردوں کا مرکز قرار دے دیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ خطے کو جن مشکلات کا سا منا ہے اس کی وجہ بھی پاکستان ہے وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم لگتا ہے دیہاتی عورتوں کی طرح میری شکایتیں لگانے گئے تھے ۔۔۔
سکھوں کے عقل و شعو ر کے معاملے میں کسی کو شک وشبہ نہیں ہونا چاہیے کہتے ہیں ایک سکھ کتابوں کی دوکان پر گیا اور کہنے لگا مجھے سکھوں کے بارے لطیفوں والی کتاب چاہیے دوکاندار نے حیران ہوکر کہا کہ وہ لطیفے نہیں سچے واقعات والی کتاب ہے من موہن کو پاکستان کی نیت پر شک اس لیے بھی ہے کہ سکھ عموماًشقی القلب ہونے کے ساتھ ساتھ شکی المزاج بھی ہوتے ہیں کہتے ہی ایک سکھ گھر آیا اور اپنی بھابھی کو پیٹنا شروع کر دیا اس کے بھائی نے پوچھا بھابھی کو کیوں مار رہے ہو کہنے لگا اس کا کریکٹر ٹھیک نہیں اس کے بھائی نے پوچھا وہ کیسے؟ کہنے لگا میرے جتنے بھی دوست ہیں وہ شادی شدہ ہیں وہ جب بھی فون کر رہے ہوں میں ان سے پوچھوں کہ کس کو فون کر رہے ہو تو وہ ہنس کر کہتے ہیں یار تیری بھابھی کو فون کر رہا ہوں ۔۔
اصل میں میاں صاحب کو سمجھ جانا چاہیے کہ من موہن سنگھ ہمارے پڑوسی ملک کا نحیف سا وزیر اعظم ہے جو اپنے ملک کی سیاسی پارٹیوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتا رہتا ہے پڑوسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ آپکے گھر کے حالات کو آپ سے بہتر جانتا ہوتا ہے بھارت کا پاکستان بارے جو جارہانہ رویہ گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہے اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ اسے ہمارے ملک کے اندرونی حالات کا پتہ چل گیا ہے کہ ریاست اتنی کمزور ہوچکی ہے کہ اس میں پانچ سال تک کی بچیوں کی عزت محفوظ نہیں ہے بچیوں کی عزت تار تار ہونے کے واقعات کا حل تو ہمارے مذہبی طبقہ نے یہ نکالا ہے کہ بعض علماءکے بقول اگر چار گواہ نہ ملیں جنہوں نے اس واقعہ کو دیکھا ہو تو اس خبر کو پھیلایا نہ جائے بعض کا خیال ہے کہ یہ واقعات دین سے دوری کا نتیجہ ہیں اس لیے چار ما ہ کی بچیوں کو بھی پردہ کرایا جائے یعنی ان کے خیال میں دین سے اس دوری میں بھی پانچ سال کی بچیوں کا قصور ہی ہے
حالیہ حکومت کی کار کردگی دیکھ کر ٹیپو سلطان کا مشہور جملہ ذہن میں آتا ہے کہ شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہتر ہے حالیہ حکومت نے بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ شیر کی سو دن کی حکومت دیگر حکومتوں سے بہتر ہے سو دنوں کے اندر پٹرول کی قیمت 98سے 110روپے لیٹر تک پہنچا دی گئی ہے توانائی کے ذرائع کی قیمتوں اور جی ایس ٹی میں اضافہ سے ضروریات زندگی کی قیمتوں میں شیر کی رفتار جیسی تیزی لائی گئی ہے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 10سے 15فیصد تک اضافہ ہواہے ، آٹے کی فی کلو قیمت 37سے یکبار 46 پرپہنچائی گئی ہے حالانکہ شیر تو آٹا کھاتا بھی نہیں ہے ۔۔۔سو دن کی کارکردگی یہ ہے کہ ڈالر 98 روپے سے بڑھا کر 105روپے تک پہنچادیا ہے اس طرح مسلم لیگی دوستوں کا کہناہے کہ یہ الزام غلط ہے کہ مہنگائی بڑھ گئی ہے کیونکہ ہرچیز مہنگی نہیں ہوئی غیر ملکی کرنسی کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں بے انتہا کمی کر کے مسلم لیگ کی حکومت نے ثابت کیا ہے وہ چیزیں سستی بھی کر سکتی ہے
مسلم لیگ حکومت بچت کی پالیسی پر اس حد تک سختی سے کار بند ہے کہ بلوچستان میں وزیر اعلیٰ تو بنوا دیا ہے لیکن اس کی کابینہ ہی نہیں بن سکی کہتے ہیں ایک شخص سے کسی نے پوچھا تم کیا جاب کرتے ہو وہ کہنے لگا میں ہیڈ ماسٹر ہوں تو پوچھنے والے نے پوچھا تمہارے سکول میں کتنے ماسٹر ہیں وہ کہنے لگا میں اکیلا ہی ہوں ویسے شریف برادارن کا یہ خاصہ ہے کہ یہ بہت ساری عہدے اور وزارتیں اپنے پاس ہی رکھتے ہیں لیکن اب اضافی کام یہ کیا جارہاہے کہ اس میں تبدیلی کر کے پنجاب کے سارے اختیارات اپنے بیٹے حمزہ شہباز کو دے دیے گئے ہیں صحافیوں کا شور و غوغہ ہے کہ بہت سے حکومتی و سرکاری عہدے اور سیٹیں بھی ابھی خالی ہیں لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں عہدے بہت زیادہ ہیں اور شریف بردران کے رشتہ دار کم۔۔ ویسے اگر بہت سے عہدے خالی ہیں توبھی کوئی بات نہیں حکومت کی سو دن کی کارکردگی دیکھ کر مجھے ہمارے کالج کا وہ پروفیسر یاد آگیا جس کی کلاس کے سارے طلباءاس کے مضمون میں فیل ہوگئے پرنسپل نے اسے اپنے آفس میں بلایا اور اسے کہا ”ویسے پروفیسر صاحب اگر آپ سارا سال بھی کلاس میں نہ آتے ۔۔۔تو ایسا رزلٹ پھر بھی آہی جانا تھا “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر محمود اصغر چوہدری اٹلی مورخہ 29ستمبر 2013ء

مکمل تحریر  »

29/09/13

Politeness


مکمل تحریر  »

01/08/13

deserve


مکمل تحریر  »

27/06/13

ho messo via

ho messo via un bel pò di cose ma non mi spiego mai il perchè io non riesca a metter via te

مکمل تحریر  »

27/05/13

Tutto Passa. . . Tutto Cambia. . . Ma Niente si Dimentica...

Tutto Passa. . . Tutto Cambia. . . Ma Niente si Dimentica...

مکمل تحریر  »

اٹلی کی پہلی سیاہ فام منسٹر




  یہ ہفتہ کی سہ پہر تھی پورے یورپ میں ہفتہ کے دن کو” ویک اینڈ “قرار دیا جاتا ہے اورلوگ سارا ہفتہ کام کی تھکن کے بعد شاپنگ کرتے ہیں یا پھر گھومنے کے لئے باہر نکلتے ہیں وہ بھی اپنی ایک دوست کے ساتھ بلونیا سٹی میں چہل قدمی کر رہی تھی تین بجے کے قریب اس کے فون کی گھنٹی بجی فون کی دوسری جانب اٹلی کے نئے منتخب شدہ وزیر اعظم ”این ریکو لیتا“ تھے انہوں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ حالیہ اطالوی حکومتی کابینہ میں وزیر بننا چاہیں گی وہ ایسی آفرکیسے ٹھکرا سکتی تھی اسے اپنے کانوں ، ٹیلی فون پرسنی جانے والی آوازاور اس کے نتیجے میں کئے گئے سوال پر یقین نہیں آرہا تھا اسے تو یہ سب کچھ خواب سا لگ رہا تھا ابھی دو تین سال بھی نہیں گزرے تھے کہ اطالوی سیاسی پارٹیاں سیاہ فام باشندوں کے لیے بسوں میں علیحدہ سیٹوں کا مطالبہ کر رہی تھیں کہ ان سے بو آتی ہے ابھی چند سال ہی گزرے تھے کہ اٹلی کے سیاستدان سمندری راستہ سے غیرقانونی طور پر اٹلی داخل ہونے والے امیگرنٹس کو توپوں سے اڑانے کی بات کر رہے تھے ابھی کچھ سال پہلے ہی اٹلی میں امیگرنٹس کو ایک بوجھ اور حالیہ معاشی کساد بازاری کی وجہ قرار دیا جا رہا تھا کیا وقت اتنی جلدی بدل سکتا ہے؟ کیا جمہوریت واقعی اس دور کا سب سے بہترین نظام ہے جو نفرت زدہ پسے ہوئے لوگوں کو بھی سرفرا ز کر سکتا ہے ؟کیا یہ ڈیمو کریسی ہے جس کے نتیجہ میں سیاہ فاموں سے اتنی نفرت کے بعد اٹلی اپنی تاریخ بدلنے جا رہا ہے وہ جو انہیں ووٹ کا حق دینے کا روادار بھی نہیںتھا اب اپنی حکومتی کابینہ میںان کے لئے جگہ بنا رہا ہے ابھی چند دن پہلے ہے 25اپریل کو اٹلی والوں نے اپنا یوم جمہوریہ منایا ہے کیا 68سالوں میں ہی یہ قوم اس طرح تیار ہوگئی ہے کہ اس نے جمہور میں ہر اس شخص کو بھی مقام دینا ضروری سمجھ لیا جو اس ملک میں پیدا بھی نہیں ہوا اور جس نے یہاں آکررہائش اختیار کر نے کی درخواست دی تھی اور اب اسے اطالوی حکومت میں وزیربنا لیا گیا ہے جہاں وہ نہ صرف اپنے جیسے سیاہ فام باشندوں کے حقوق کی آواز اٹھائے گی بلکہ اس ملک کے باسیوں کی تقدیر کا فیصلہ بھی کرے گی
  وہ اٹلی کی پہلی سیاہ فام وزیر بنی ہیں لیکن یہ کامیابی اسے اس لیے نہیں ملی کہ کوئی ہما نام کا پرندہ اس کے سر پر آبیٹھا تھا بلکہ اس نے اس کامیابی کے لیے جدد جہد کی تھی ”چیچیلے کنگے“ کا تعلق رپبلک آف کونگو سے ہے ان کی عمر 49سال ہے شادی شدہ ہیں اور وہ دو بچیوں کی ماں ہےں انہوں نے اطالوی شہریت لی ہوئی ہے ان کے پاس آئی اسپیشلائزیشن کی ڈگری ہے اور وہ پیشہ کے اعتبار سے بھی اٹلی میں بطور ڈاکٹر برائے امرا ض چشم کے فرائض سر انجام دے رہی ہیںسن 2004ءمیں وہ اٹلی کے شہر مودنہ کی ایک چھوٹی سے وارڈ سے بائیں بازو کی پارٹی کی جانب سے کونسل کی ممبر منتخب ہوئی تھیں اور اپنی سیاسی جد وجہد کا آغاز کیا تھا اس کے بعد صوبائی سطح پر امیگریشن فورم کی ذمہ دار نامزہ ہوئیں مورخہ 7جون 2009ءکو ڈیمو کریٹک پارٹی کی جانب سے مودنہ صوبائی اسمبلی کی ممبر منتخب ہوئیں اور پھر 2010ءسے وہ ہر سال منائے جانے والے امیگرنٹس کے یکم مارچ والے احتجاجی نیشنل ڈے کی روح رواں ثابت ہوئی اور اٹلی کی جمہوری پارٹی ”پی ڈی“کی جانب سے اس احتجاجی یوم کی ترجمان بھی نامز د کی گئی اس طرح وہ امیگرنٹس کے حقوق کے لئے جدو جہد کرتے کرتے آخر کار 25فروری 2013ءکو ایمیلیا رومانیا میںڈیمو کریٹک پارٹی کے پلیٹ فارم سے اطالوی پارلیمنٹرین منتخب ہوئی ہیںاور اب اٹلی کی حالیہ حکومت نے ان کے ہاتھ میں وزیر برائے انٹی گریشن کا قلم دان تھما دیا ہے
 وزیر منتخب ہونے کے بعد پریس کو دئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ”ان کی پہلی ترجیح اٹلی میں پیدا ہونے والے امیگرنٹس کے بچوں کے لیے اطالوی شہریت دیئے جانے کے قانون پر ہوگی“ ان کا کہنا ہے کہ” اس سلسلے میں انہیںسخت مزاحمت کا سامنا ہوگا لیکن وہ اپنی کوشش جاری رکھیں گی “اپنے انٹرویو میں انہوں نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ اٹلی میں موجود تارکین وطن شہریوں کے حقوق کے لئے ان کے ارادے بہت بڑی تبدیلیوں کے ہیں جن میں سرفہرست غیرقانونی داخل ہونے والے تارکین وطن کے لئے قائم شناختی جیلوں کا خاتمہ ،اٹلی میں غیرقانونی رہائش کو جرم قرار نہ دیے جانے کے لیے قانون سازی ، کام کے ویزہ پر اٹلی انٹر ہونے کے ویزہ میں ایسی تبدیلی کہ تارکین وطن ورکر کا استحصال اور بلیک میلنگ کا خاتمہ ہواور اٹلی میں فیملی منگوانے کو آسان بنانے کے قوانین شامل ہیں اس کے علاوہ ان کے ارادوں میں ایسے قوانین بھی شامل ہیں جو جنس ، رنگ اور نسل کی بنا پر امتیازی سلوک کا راستہ روکےںوہ چونکہ ایک ماں بھی ہیں اس لیے ان کے پروگرام میں یہ بھی شامل ہیں کہ اٹلی میں بچوں کے لیے مزید نرسری سکولوں کا بندوبست کیا جائے اورتمام ہاﺅسنگ سوسائٹیوں میں بچوں کی دیکھ بھال کے لئے مشترکہ نرسری کا قیام بھی لانا ہے تاکہ کام پر جانے والی عورتوں کے لیے آسانی پیدا ہو سکے
  اٹلی کی حالیہ سیاسی صورت حال کا اگر بغور جائزہ لیں تو جہاں تک اپنے انٹرویو میں وہ مزاحمتوں کا تذکرہ کر رہی ہیں تو اس میں واقعی ان کا وزیر برائے انٹی گریشن بن جانے ان کے لئے اور اٹلی میں موجود تمام امیگرنٹس کے لئے خوش آئند اور باعث اعزاز تو قرار دیا جا سکتا ہے لیکن ان کے وزیر بن جانے سے اٹلی میں مو جود تارکین وطن شہریوں کو کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہو جانا چاہیے کیونکہ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اٹلی میں بننے والی حالیہ حکومت دو ماہ کے طویل اکھاڑ بچھاڑ اور سیاسی بحرانوں کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے یہ حکومت اکثریتی پارٹی اور اپوزیشن کے اشتراک سے بنی ہے جس میں دائیں اور بائیں بازو کی سیاسی پارٹیاں شامل ہیںان میں ان کی پارٹی بھی ہے اور وہ پارٹیاں بھی ہیں جو گزشتہ سالو ں میں تارکین وطن شہریوں کے لئے سخت ترین قوانین بنواتی رہی ہیں اور اتنی متضاد پروگرام والی پارٹیاں چند باتوں پر تو مشترکہ قانون سازی کر سکتی ہیں لیکن یہ طویل المدت حکومت ثابت نہیں ہوگی کیونکہ یہاں مفاہمت کا مطلب مک مکا نہیں ہے
  اٹلی میں امیگرنٹس کے رہائشی امورسے متعلقہ تمام کام وزارت داخلہ کے زیر انتظام آتے ہیں لیکن اس کرسی پر آکر بیٹھنے والے ”انجیلیو آلفانو“کا تعلق امیگرنٹس مخالف پارٹی پی ڈی ایل سے ہے اور وہ اٹلی کے نائب وزیر اعظم کا عہدہ بھی سنبھالے ہوئے ہیں ان کی وزارت کے نیچے ہی اٹلی کی سوجورنو کی تجدید ، اطالوی زبان کا ٹیسٹ ، فیملی منگوانے کے معاملات اور اطالوی شہریت کے شعبہ جات آتے ہیں اس لیے اٹلی کے تارکین وطن شہریوں کے لئے مستقبل قریب میں کوئی بڑی آسانی پید ا کرنے سے پہلے اس وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالے وزیر کی رضاہی ضروری ہو گی دوسری جانب منسٹری آف لیبر ہے جن کی مرضی کے بغیر کوٹہ امیگریشن اور دوسرے ممالک سے امیگرنٹ ورکر کو لانا اور ایسے قوانین میں کوئی تبدیلی کروانا نا ممکن ہوگا اور اس کے ساتھ ہی وزارت خارجہ کا شعبہ آتاہے جودنیا بھر میں موجود اطالوی سفارت خانوں اور دیگر ممالک سے تعلقات کی ضمانت ہوتی ہے اس کرسی پر براجمان خاتون ایما بونیونو کا تعلق بھی ڈیمو کریٹک پارٹی سے نہیں ہے
ایسی چومکھی لڑائی میں چیچیلے کنگے اکیلی ہیں آنے والے دنوں میں ان کے کام کا تعین ضرور ہوجائے گا اور اٹلی میں رہائش پذیر امیگرنٹس کے حقوق کے حصول کے لیے انہیں بڑی محنت درکارہو گی لیکن بہر حال وہ اٹلی میں موجود تارکین وطن شہریوں کے لیے امید کی ایک کرن ضرور ثابت ہوئی ہیں ان کا وزارت برائے ”ادغام“ کی کرسی پر بیٹھ جانا ،پارلیمنٹ میں اسپیکر قومی اسمبلی لاﺅرا بولدینی کا منتخب ہوجاناجنہوں نے پناہ گزین امیگرنٹس کے حقوق کے لئے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی اور مراقشی نژاد خالد شوکی کاپارلیمنٹرین منتخب ہوجانا جس نے اٹلی میں پیدا ہونے والے تارکین وطن شہریوں کے بچوں کے لیے اطالوی شہریت کا مطالبہ ایک مہم کی صورت میں چلایا تھاان کی اطالوی پارلیمنٹ میں موجودگی تارکین وطن شہریوں کے لئے تازہ ہوا کاجھونکا ثابت ہوگی اور یہ سب باتیں اس بات کی ضمانت بھی ہیں کہ اٹلی کی سیاسی پارٹیوں نے اٹلی میں موجود تارکین وطن شہریوں کو سنجیدگی سے لینا اور انہیں اس معاشرہ کا ایک حصہ سمجھنا شروع کرد یا ہے




مکمل تحریر  »

17/04/13

As you can




مکمل تحریر  »

13/04/13

اسے غلط لڑکی سے پیار ہوگیا تھا

 
کیسا بے موقع، بے محل ، بے سود سا اظہار ہوگیا تھا
اسے غلط لڑکی سے پیار ہوگیا تھا

مکمل تحریر  »

باسٹھ تریسٹھ کا لفڑا



  آئین پاکستان کی شق نمبرباسٹھ اور تریسٹھ ان دنوں سیاستدانوں کے لئے ایک ڈراﺅنا خواب بن گئی ہیں وہ اب اگر اپنے بچوں کو گنتی بھی سکھانا شروع کرتے ہیں تو اکسٹھ کے فوراً بعد تریسٹھ چونسٹھ پڑھانا شروع کر دیتے ہیں ان کا دل ہے کہ سو تک کی گنتی میں سے یہ دو نمبر نکال ہی دئے جائیںجس سیاست دان کی عمر باسٹھ سال ہوگئی ہے وہ خود ہی اپنی عمر سٹھیانے والی بتاتا ہے تا کہ لفظ باسٹھ نہ کہنا پڑھے کرکٹ میچ میں کوئی سکور بتادے کہ باسٹھ ہوگیا ہے تو سیاستدانوں کو پسینہ آجاتا ہے ان سے پوچھیں یہ باسٹھ تریسٹھ شقیں ہے کیا ؟ تو وہ سارا الزام طاہر القادری پر ڈال دیتے ہیں کہ ساری شرارت انہی کی ہے شرارت سے یاد آیا کہ ایک دفعہ سکھوں کے ایک گاﺅں میں مسلمان نماز ادا کر رہے تھے تو سکھوں کا ایک گروہ بڑے دھیان سے ان کی عبادت دیکھ رہا تھا انہیں سمجھ نہیں آرہی تھی کیا ہو رہا ہے آخر جب انہوں نے دیکھا کہ سارے نمازی وہی کر رہے ہیں جو امام کر رہا تھا تو ایک بزرگ سکھ کہنے لگا ”یہ ساری شرارت اس کی ہے جو آگے کھڑا ہے“لیکن خود طاہر القادری کا کہنا ہے کہ باسٹھ تریسٹھ کی ذد میں کرپشن اور بدعنوانی کرنے والے آنے چاہیے دعائیں یاد کرنے والے نہیںان کاکہنا ہے کہ اس طرح کی کاروائی سے فخرو بھائی ہوائی فائرنگ کر رہے ہیں حالانکہ چیف الیکشن کمیشن فخرو بھائی کی عمر ایسی ہے کہ اس میں ہوائی فائرنگ کی تو آوازبھی خوفناک لگتی ہے لیکن وہ ایک لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ اس عمر کے کسی شخص کو کوئی انکل بھی نہیں کہتا لیکن انہیں پورا پاکستان بھائی کہہ رہا ہے
  الیکشن کمیشن نے صادق اور امین کی جانچ کے لیے جو طریقہ اپنا یا ہے اس کے بعد ان کی امتحانی چھاننی سے صرف وہی سرخرو ہو سکے گا جس کاصرف نام ہی صادق یا امین ہو گا ان کے سوالات ایسے ہیں کہ لگتا ہے کہ سیاستدانوں کو انتخابات کی تیاری نہیں بلکہ آخرت کی تیاری کرنی ہے سیاستدانوں سے دعائے قنوت سننا ایسے ہی ہے جیسے ایک دیہاتی کو ایک ادبی پولیس والے نے روکا ادب اور پولیس کا کوئی تعلق ویسے تو بنتا نہیں ہے لیکن اس پولیس والے کو گاڑھی ار دو بولنے کا شوق تھا اس لیے اس نے دیہاتی کو روک کر کہا کہ” اسم شریف بتائیں “ تو دیہاتی نے معصومیت سے جواب دیا ”سرکار اس وقت اسم شریف تو یاد نہیں اگر آپ کہیں تو میں درود شریف سنا سکتا ہوں “ یہ دعائے قنو ت اور سورة اخلاص سننے کا امتحان اس لیے لیا جا رہاہے کہ ماضی میں ایک وزیر کو تلاوت کرنے کے لیے کہا گیا تو اسے سورة اخلاص بھی دو تین بار دھرانے کے باوجود نہیں آئی تو موصوف نے نہایت” اخلاص “سے کہا کہ وہ وزیر ہیں کوئی مردے نہلانا والا نہیں۔خیر ان کے اس بیان سے مردے نہلانے والی کی توقیر میں اضافہ ہوا کہ وہ کم از کم مردے کو عزت و احترام بخشتے ہیں وہ اس وزیر کی طرح نہیں جن کے عہد میںہزاروں لوگ لا ءاینڈ آرڈر کی خراب صورت حال کے باعث لقمہ اجل بن جاتے ہیں
 بعض سیاستدانوں سے دوسری شادی کے بارے سوال وجواب بھی کئے جارہے ہیںمیرے خیال میں یہ بہت بڑی زیادتی ہے کیونکہ الیکشن کمیشن کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ بعض سیاستدانوں کو اپنے ووٹ بڑھانے کے لیے اپنی” ووہٹیوں “کی تعداد بڑھانا پڑتی ہے بعض سیاستدان زیادہ شادیاں اس لیے بھی کر لیتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ جوعورتوں کی چالاکیاں سمجھ جاتا ہے اسے سیاست کے داﺅ پیچ سمجھ آجاتے ہیں بعض خواتین سیاستدانوں سے یہ پوچھا جا رہا ہے کہ اگر آپ سیاست میں آگئی تو بچوں کا خیال کون رکھے گا یہ سوال میرے خیال میں خواتین سے امتیازی سلوک کی عکا سی کرتے ہیں کیونکہ سیاست کرنا عورتوں کے لیے ویسے بھی زیادہ آسان ہے کیونکہ الیکشن باتوں اور طعنوں سے لڑا جاتا ہے اور خواتین اس فن میں مردوں سے آگے ہیں کیونکہ مردوں کی لڑائی باتوں سے ہاتھوں لاتوں میں تبدیل ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتااس لیے وہ اچھے سیاستدان ثابت نہیں ہوسکتے خاتون سیاستدان سے یاد آیا کہ مسرت شاہین نے ثابت کیا کہ الیکشن کمیشن کے بنائے ہوئے پیمانے میں وہ ہی سب سے زیادہ نیک مسلمان ثابت ہوتی ہیں اس طرح بہت سے ایسے انتہا پسندوں کو خاموش ہوجانا چاہیے جو انہیں اچھا مسلمان نہیں سمجھتے تھے ویسے مسرت شاہین اچھی سیاستدان ثابت ہو سکتی ہیں کیونکہ ان کی ذات میں منافقت نہیں انہوں نے عوام سے اپنا” کچھ “نہیں چھپایااکثرلوگ ان کا ”اگلا پچھلا “یعنی ماضی و حال سب جانتے ہیں
 اس بار خواجہ سرا ﺅں نے بھی الیکشن میں حصہ لینے کی ٹھان لی ہے بعض خواجہ سراﺅں کی آمد سے” ک لچر “میں بہتری آنے کے امکان ہوسکتاہے خواجہ سرا بھی بڑے اچھے سیاستدان ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ سیاستدان کو اکثریت تالی اور گالی کے عادی ہوجاتی ہے اور عوام ان سے یہ کہتے بھی نظر آتے ہیں کہ ان سے” کچھ“ نہیں ہوگا 
 نظریہ پاکستان کی بحث میں مشروب ِلطیف کے ذائقہ پر کالم لکھنے والے صحافی بھی دھر لیے گئے اور ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئے گئے موصوف کا کہنا ہے کہ ان کے کالم انگلش میں تھے اس لیے ترجمان کو سمجھ نہیں آئی ہوگی یہ بات سچ بھی ہے کہ کسی ان پڑھ کومینگو جوس بھی دینے سے پہلے انگریزی میںپوچھیں کہ” ڈرنک “لیں گے تو اس کی آنکھوں کی چمک بڑھ جاتی ہے جعلی ڈگری کیس میں جمشید دستی کو تین سال جیل کی سزا سنائی گئی تو ان کے آنسو نکل آئے سیاستدان اور وکیل اپنے پیشہ سے توبہ بھی کرلیں تو بعد میں بھی لوگ انہیں اسی نام سے پکارتے ہیں سیاستدان کسی سے دلی ہمدردی بھی کرے تو کہتے ہیں ”بڑا سیاسی ہے“ اگر وہ کسی کی دل سے مدد بھی کر دیں تو کہتے ہیں اس میں بھی اس کی کوئی نہ کوئی سیاست ضرور ہوگی
 الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپر میں ایک خانہ خالی رکھنے کا بھی بندوبست کرلیا ہے یہ خبر سن کر مجھے وہ سردار جی یاد آگئے جنہوں نے نیا گھر تعمیر کروایا تو اپنے دوستوں کوگھر دکھانے کی دعوت دی جس میں انہوں نے تین سوئمنگ پول بنوائے تھے یہ سوئمنگ پول دکھاتے ہوئے کہنے لگے کہ” ایک سوئمنگ پول میں گرم پانی ہے اوردوسرے میں ٹھنڈا جبکہ تیسرامیں نے خالی رکھا ہے “ کسی نے پوچھا ”سردار جی اس خالی سوئمنگ پول کا کیا مقصد ہے “ توبڑے فخر سے کہنے لگے ”اوبادشاہو ! کبھی کبھی انسان کا دل نہانے کو نہیں بھی چاہتا “ اسی طرح بیلٹ پیپر میں اس خالی خانہ کا مقصد بھی یہی ہے کہ اگر آپ کا دل کسی بھی امیدوارکو ووٹ دینے کا نہیں کر رہا تو آپ اس خالی خانہ پر ٹھپہ لگائیں اور سب کومسترد کرد یں
 بعض دانشوروں کا کہنا ہے کہ ملک میں ووٹ ڈالنے والوں کا تناسب پہلے ہی بہت کم ہے کیونکہ لوگوں کا جمہوریت پر اعتبار متزلزل ہے اور اس طرح کا خانہ خالی رکھنے سے غیر جمہوری سوچ کو ترویج ملے گی اوروہ انتہا پسند طبقہ جو جمہوریت کے خلاف ہے وہ اپنے پیروکاروں کا یہی سبق دے گا کہ خالی خانہ پر مہر لگا دیں اور اس طرح ملک میں وہ قوتیں سرگرم ہو جائیں گی جو جمہوریت کی مخالف ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ اگر بہت سارے لوگ اس الیکشن میں ووٹ کاسٹ کرکے سسٹم کی تبدیلی کی خواہش کا اظہار کریں گے توبھی الیکشن پراسس کی فتح ہے بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ جو کسی کو ووٹ نہیں دینا چاہتا وہ گھر سے ہی نہ آئے لیکن میرا خیال ہے کہ جو سیاسی لیڈر ووٹ کے لالچ میں اتنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں انہیں نقصان پہنچانے کا سب سے زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ ان کی گاڑیوں میں مزے سے بیٹھ کرپولنگ بوتھ میں جائیں اوران کی دعوتیں بھی اڑائیںلیکن اگراس حلقہ میں الیکشن لڑنے والے کسی بھی امیدوار کو رہبری کے قابل نہیں سمجھتے تو خالی خانہ پر مہر لگا دیں
ایک گھر کی دہلیز پر ایک بھکاری نے صدا لگائی کہ اسے بھیک میں کچھ دیا جائے تو گھر کی نئی نویلی دلہن نے اس سے کہا ”معاف کرو بابا“ وہ بھکاری جانے لگا تو اس نئی نویلی دلہن کی ساس نے بھکاری کو آواز دے کر بلایا اور کہا کیا بات ہے تو وہ کہنے لگا ”مجھے بھیک چاہیے “ وہ عورت کہنے لگی ”معاف کرو بابا “ وہ بھکاری کہنے لگا یہ بات تو آپ کی بہو نے بھی کہہ دی تھی تو وہ عورت کہنے لگی ” اس گھر کی مالکن میں ہوں اسے کس نے یہ حق دیا کہ وہ تم پر حکم چلائے ابھی سارے اختیارات میرے ہاتھ میں ہے “ اس لیے جب تک یہ سیاستدان منتخب نہیں ہوجاتے سارے اختیارات عوام کے ہاتھ میں ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنے اختیارات اپنی مرضی سے استعمال کریں ورنہ بعد میں یہی سیاستدان بقول پروین شاکر
میں سچ بولوں گی مگر پھر بھی ہار جاﺅں گی  وہ جھوٹ بولے گا اور مجھے لاجواب کر دے گا

مکمل تحریر  »

06/04/13

Tornano tutti

Chi tornerà per ribadirti semplicemente che se n'è andato dalla tua vita.
Chi tornerà da te per riconsumarti ancora un pò il cuore e poi riandarsene.
Chi tornerà per rubarti un ultimo sorriso o un ultima lacrima.
Chi tornerà per dirti che senza di te sta meglio, per il troppo orgloglio, anche se in realtà muore dentro.
Chi tornerà per dirti che ti ha amato, ma che ora non ti ama più.
Chi tornerà da te per un ultimo abbraccio, perchè ha capito che quel calore che emani lo emani solo tu.
Chi tornerà solo per insultarti, e tu con molta tranquilla e l'indifferenza di sempre incasserai senza problemi.
Chi tornerà da te per chiedere perdono, per chiederti di riaprirgli di nuovo le porte del tuo cuore, perchè ha capito che senza di te non può andare avanti, che senza di te la vita è nuvolosa, e tu, allora, che farai?
 

مکمل تحریر  »

گستاخ

ذرا گستاخ تھا اے شمع ، تو نے جان ہی لے لی ،
پتنگا تھا ، کہاں سے سیکھتا آداب محفل کے ،


مکمل تحریر  »

01/04/13

Jim Morrison

Nessuno ti capisce meglio di te stesso,ma se qualcuno cerca di farlo è perchè ti ama...

Jim Morrison

مکمل تحریر  »

31/03/13

adjustment ایڈجسٹمنٹ

  بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ٹی وی نیوز دیکھتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید پاکستانیوں میں برداشت نہیں ہے اور وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑ پڑتے ہوں گے لیکن جب پاکستان جائیں تو یہ دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے کہ پاکستانی کسی بھی بات پر ناراض نہیں ہوتے اور وہ بڑی بڑی سے بڑی غلطی اور زیادتی کو بھی ایک لفظ” ایڈجسٹ “کر لینے پر ختم کر لیتے ہیں مثلاً اگر ایک موٹر سائیکل پر دو آدمی بیٹھ سکتے ہیں تو اسی موٹر سائیکل پردو میاں بیوی اور پانچ بچے ایڈجسٹ کر لیتے ہیں اور کسی پولیس والے کو ،کسی قانون نافذ کرنے والے کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا پانچ سیٹوں والی سوزکی کار میں بار ہ آدمی بیٹھ جاتے ہیں اور لوگ ایڈجسٹ کر لیتے ہیں لاہو رکے رنگ روڈ پر لوگ پیدل اتنے آرام سے سڑک پار کر رے ہوں گے جیسے انا ر کلی ہوجی ٹی روڈ پرلوگ بھینسیںلیکر روڈ پار کر لیں گے اور چلتے ٹرک سے گنے اتار لیں گے گاڑیوں والے رات کو فل لائٹ آن رکھیں گے ، چار میٹر کی ٹرالی کے باہر بار ہ میٹر تک کی سریا کی تاریں ہوں گی لیکن کسی کو کوئی غصہ نہیں آئے گا کوئی کسی کو روکے گا نہیں لوگ ایڈجسٹ کر لیں گے آ پ گاڑی لیکر روڈ پر نکلےں تو گدھا گاڑی والا سکون سے بیچ سڑک میں سبزی فروخت کر رہا ہوگا آپ کی گاڑی دیکھ کر وہ گاہک کے ساتھ پورا حساب کتاب کرے گا اور آپ کو ہاتھ کے اشارہ سے انتظار کرنے کا کہے گاآپ کو ایڈجسٹ کرنا ہوگا چھوٹے بچوں کے سکول کے باہر جا کر منظر دیکھ لیں تین آدمیوں کے رکشہ میں دس دس بچے ٹھسے ہوئے بلکہ لٹکے ہوئے ہوں گے ، چنگ چی نامی رکشہ پر ڈرائیور دس بچے پیچھے اور تین بچے اپنے موٹر سائیکل پر ایڈجسٹ کرلے گا لیکن کسی والد کسی والدہ کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا پبلک مقام پرعورتوں اور بچوں کی موجودگی میں لوگ سگریٹ پینا شروع کردیں گے لیکن کوئی غصہ نہیں کرے گا بلکہ ایڈجسٹ کر لیں گے گاڑیوں کے اندر کوئی سیٹ بیلٹ نہیں مسافر ایڈجسٹ کر لے گا راستہ لینے کے لیے گاڑیوں والے بار بار ہارن بجائیں گے ون وے ٹریفک میں ڈرائیور یو ٹرن لیکر مڑنے کی بجائے دو دو کلومیٹر تک بیک گئیر میں آجائے گا بڑی بڑی گاڑیاں اورموٹر سائیکل اس کے دائیں بائیں سے آسانی سے گزر جائیں گے کوئی اس حرکت پر غصہ نہیں کرے گا اور ایڈجسٹ کر لے گا ٹریفک سنتری اگر دیکھ لے تودو چار سو روپیہ لیکر ایڈجسٹ کر لے گا،کوئی بھی سیاستدان اپنے کارکن کو کسی سرکاری نوکری پر رکھوانا چاہے گا تو چاہے ا س محکمہ میں گنجائش نہ بھی ہوتوسفارش کرتے ہوئے کہے گا ”یار اسے کہیں ایڈجسٹ کرلیں “
   پاکستان جا کر کسی بھی گھر میں داخل ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ گھر کے باسیوں نے بھی پاکستان کے ماحول کو ایڈجسٹ کرلیا ہے انہیں بھی حکمرانوں سے ، سیاستدانوں سے اورسرکاری محکموں سے کوئی شکایت نہیں گھر کے اندر اندھیرے ہیں بجلی بائیس بائیس گھنٹے نہیں آتی ہے لیکن انہوں نے یوپی ایس سے ایڈجسٹ کر لیا ہوا ہے یو پی ایس سے صرف ایک بلب آن ہوسکتا ہے ، ٹی وی نہیں دیکھ سکتے،فون کی بیڑی چارج نہیں کر سکتے تو بعض لوگوں نے اس مسئلہ کو جنریٹر سے ایڈجسٹ کر لیا ہواہے کسی کو شکایت نہیں ہے حکومت نے رینٹل پاور پراجیکٹ سے مسئلہ حل کرنا چاہا تو اس میں کرپشن ہوگئی عدالت نے اس معاملہ کو ایڈجسٹ نہ ہونے دیا تو حکومت نے اسی وزیر برائے بجلی و پانی کووزیر اعظم بنا دیالیکن عوام نے اس کرپشن والے معاملہ کو بھی ایڈجسٹ کرلیا
میں پاکستان پہنچا تو پتہ چلا کہ اب جمہوری حکومت نے چھوٹے چھوٹے قصبوں میں بھی گیس کا کنکشن پہنچا دیا ہے لیکن ان کنکشنوں کی حالت وہی ہے جیسے کوئی نلکا لگا جائے لیکن اس سے پانی کی بجائے شوں شوں کی آواز آتی رہے گیس یا تو کئی کئی دن آتی نہیں اور اگر آتی ہے تواس کا پریشر پورا نہیں ہے جس کی وجہ سے کمروں میں ہیٹر آن نہیں ہوسکتے ، بڑے بڑے مہنگے گیزر ہیں لیکن ان کا پانی گرم نہیں ہوسکتا،چولہے پرروٹی نہیں پکائی جاسکتی کہ پریشر کم ہے یہ پریشر کیا ہوتا ہے ؟میرا کیمسٹری کا علم بھی اس نئی گیسی اصطلاح کا احاطہ نہیں کر سکتا تھابہرحال لوگوں نے گھریلو گیس کے ساتھ ساتھ گیس سلنڈروں کا بھی انتظام کیا ہوا ہے تاکہ گیس کے پریشر والا معاملہ بھی ایڈجسٹ کر لیا جائے پکوڑے سموسے بیچنے والوں نے ریڑھیوں پرتازہ پکوڑوں کو گرد وغبار اور مٹی کے ساتھ ساتھ تلنے کے لئے ریڑھی کے اوپر ہی جگہ بناکر چھوٹے چھوٹے گیسی سلنڈر وں کوبھی ایڈجسٹ کیا ہوا ہے چولہے کے اتنے نزدیک سلنڈروں کی ایڈجسٹمنٹ موت کو دعوت دینا ہے لیکن کوئی بات نہیں وہاں تو گھروں میں ہیٹر کے ساتھ بھی وہ والے گیس کے پائپ استعمال ہوتے ہیں جو یورپ میں پانی کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں یعنی اگر ہیٹراٹھا کر دوسرے کمروں میںلے جانا پڑے تو دوسرے کمرے کی سردی کو بھی ایڈجسٹ کیا جا سکے
  پاکستان میں لوگوں کے پاس اب بڑی بڑی مہنگی گاڑیاں ہیں لیکن پتہ چلا کہ اگران میں سی این جی گیس ڈلوانی ہو تو ضرور ی ہے کہ آپ کی اولاد زیادہ ہو تاکہ آپ سی این جی لینے کے لیے باریاں لگا لیں ایک بیٹا گاڑی لے جائے اور لائین میں لگ جائے پھر دو گھنٹے بعد دوسرا بیٹا پہنچ جائے اور وہ باری کا انتظار کرے اس طرح چوبیس گھنٹوں کے اندر اندرباریاں بدلتے بدلتے آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ آپ کی گاڑی میں گیس بھرنے کی باری آجائے گی اگر باری آبھی گئی توگیس اسٹیشن کا ملازم آپ سے کہے گا کہ پریشر پورا نہیں ہے لیکن آپ ایڈجسٹ کر لیں میں نے اٹلی میں چار سال تک گیس والی گاڑی رکھی ہے لیکن یہ پریشر والی گیس کا علم مجھے نہیں تھا سی این جی اسٹیشن پاکستان میں فیس بک اور ٹوئیٹر سے بھی بڑاسوشل نیٹ ورک ہے یہاں کھڑے کھڑے آپ کی دوستیاں ہوسکتی ہیں آپ دیگر ڈرائیوروں سے پوری دنیا کی سیاست ،مذہب اور ثقافت پر دل کھول کر تبصر ہ وتجزیہ اور حالات حاضرہ پر گفتگو کر سکتے ہیں
 جن دنوں میں پاکستان گیا تھا ملک میں ان دنوں انقلاب کی ہوائیں چل رہی تھیں جنوری کے مہینے میں لانگ مارچ ہورہا تھا حکومت کو کلینڈر تبدیل کرنے کی ایڈجسٹمنٹ بالکل نہ بھائی اس لیے انہوں نے میدان میں وہ مرد مجاہد اتاراجس کے پاس ہر مسئلہ کا ایک ہی حل ہے جو نوکیا موبائل فون کے اشتہار  کونیکٹنگ پیپل کواپنے ایک ہی حکم سے غلط ثابت کرسکتا ہے اس مجاہد کا نام رحمان ملک تھا اس نے ”ڈس کو نیکٹنگ پیپل “کا نعرہ بلند کیا اور موبائل سروس معطل کر دی لوگوں کے ہاتھوں میں مہنگے مہنگے موبائل فون تھے لیکن ان میں سروس سگنل غائب تھے یعنی اب پورے ملک میں کسی کا کسی سے کوئی رابطہ نہیںرہا تھا پاکستانیوں کے پاس جو فون تھے ان کا ایک مصرف تو بہرحال تھا کہ رات کو جب بجلی چلی جاتی تھی تو ان موبائل فونز میںایک لائیٹ تھی جس سے وہ رات کو روشنی کر لیتے تھے اور اقبال کی نظم جگنو کے تحت ایک دوسرے کو رستہ دکھا لیتے تھے لیکن میرے پاس چونکہ اٹلی والا فون تھا اور اس میں اضافی لائٹ نہیں تھے اس لیے مجھے حسرت ہی تھی کہ میں اپنے ہم وطن شہریوں کو روشنی نہیں دے سکتا تھا
یہی ایڈجسٹ کر لینے والا کلچر ہی پاکستان جیسے ملک میں تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے یہ اتنی زیادہ برداشت کر لینے کی سکت ہی ہے جو سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی عوام کو اپنی حالت بدلنے نہیں دیتا یہی کلچر این آر او کراتا ہے میثاق جمہوریت کے نام پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے کا موقع دیتا ہے چاہے اخلاقیات کا جنازہ نکل جائے حکومت پر مشکل وقت آتے ہی اپوزیشن اس کے ساتھ مک مکا کر کے ایڈجسٹ کر لیتی ہے اپنے اپنے مفاد کے لیے اٹھارویں ،انیسویں ، بیسویں اور اکیسویں ترمیم پاس کرا لیتی ہیںلیکن عوام کو زندگی کی بنیادی ضروریات سے بھی محروم رکھتی ہیں مفاہمت کے نام پر اصولوں کو قربان کر دیا جاتا ہے ، لوٹوں کی ادھر ادھر بولیاں لگ جاتی ہیں، ڈکٹیٹر کی کابینہ کے سارے پرانے چہرے جمہوری پارٹیوں کے ماتھے کا سہر ا بن جاتے ہے بلکہ خود ڈکٹیٹربھی ملک میں آجائے تو اس سے بھی ایڈجسٹ کر لیا جاتا ہے ، جعلی ڈگری کا معاملہ ہویا کسی خاتو ن ٹیچر کو تھپڑ مارنے کی سزا ایڈجسٹ کر کے پرانے قصے بلا دیے جاتے ہیں ، نئی سوچ نئے وژن اور نوجوان نسل کو پس پشت ڈال کر پھر سے پرانے چہروں کوگھسی پٹی سیاسی نظام میں ایڈجسٹ کر لیا جاتا ہے ملک میں روپے کی قیمت روزانہ کی بنیاد پر ڈی ویلیو ہو جائے، لاقانونیت کا راج ہوجائے ، بھتہ مافیا عروج پکڑ جائے، کراچی سے لیکر کوئٹہ تک خون کی ندیاں بہا دی جائیں نہ کوئی ایف آئی آر نہ کوئی کاروائی ، نہ تعلیم ،نہ صحت ، نہ نوکری ،نہ میرٹ ، نہ بجلی، نہ گیس اور نہ ہی انسانی بنیادی سہولتیں لیکن عوام ہیں کہ ایڈجسٹ پہ ایڈجسٹ کیے جاتے ہیں ملک میں نیچے سے لیکر اوپر تک یہ ایڈجسٹ کر لینے والا کلچر پروان چڑھ گیا ہے اب الیکشن آنے کو ہیں لیکن مختلف نظریات رکھنے والی جماعتیں ایک دوسرے سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر رہی ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایک بار پھر عوام” آوے ای آوے ، دیکھو دیکھو کون آیا ، زندہ ہے زندہ ہے اور بدلیں گے پاکستان “کے صرف نعروں پراکتفا کرتے ہوئے ایڈجسٹ کرتے ہیں یا اپنی حالت بدلنے کی سعی کرتے ہیں
 




مکمل تحریر  »

لوٹ آنا

عرصہ ء خواب میں رہنا کہ لوٹ آنا ہے
 
 
فیصلہ کرنے کی اس بار ہے باری اس کی 

مکمل تحریر  »

19/03/13

Risate


مکمل تحریر  »

17/03/13

ہار

باباجی کہنے لگے ۔۔۔محبت ایک ایسا کھیل ہے جس کا انجام ہی ہار ہے تو ایسے کھیل کھیلنے میں کیا دلچسپی لینا جسکا پہلے ہی پتہ ہو کہ ہارنا ہی مقدر بنے گا۔۔۔۔ کہنے لگے محبت کسی کے سامنے اپنے آپ کو سرنڈر کرنے کانام ہے اس لیے انسان کبھی بھی اپنے محبوب سے جیت نہیں سکتا کہ جس کے سامنے اپنی انا کو ذلیل کر لیا اس سے یہ امید رکھنا کہ وہ عزت دے گا یہ خام خیال ہی ہے ۔۔۔۔۔ میں نے کہا بابا جی یہ محبت میں کسی کو بھلانا اتنا مشکل کیوں ہوجا تا ہے وہ مسکرا پڑے کہنے لگے یہ بھی عجیب ہی معمہ ہے کہ جن کو ہم ساری زندگی بے وفا کہتے ہیں اور ان سے دوری کا شکوہ کرتے رہتے ہیں وہی تو ہر پل ہمارے ساتھ رہتے ہیں ہر وقت ہماری یادوں میں اپنی صحبت سے محظوظ کراتے رہتے ہیں 

مکمل تحریر  »