”کلا میں منصور“
تحریر محمود اصغر چوہدری ایڈیٹر جذبہ اٹلی
www.mahmoodch.com mahmoodch1@gmail.com
انسان دنیا کے بڑے سے بڑے ریستوران میں کھانا کھالے ،بڑے اسٹائل اور مہذبانہ طریقہ سے ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے چھری کو دائیں اور کانٹے کو بائیں ہاتھ سے پکڑنے کا ہنر بھلے ہی سیکھ لے لیکن جو مزہ اسے ماں کی ہاتھ سے بنے ہوئے ”پھلکوں“ میں آتا ہے وہ دنیا کی کسی ڈش میں نہیں آسکتا اور جولطف کسی پنجابی دیہاتی کو ”بینڈے “ پر بیٹھ کر ماں کے چولہے کے ساتھ پڑی ہوئی ”چنگیر “سے” پراٹھا“ چراتے اورماں سے ”چمٹے “کی ما رکھاتے ہوئے آئے گا وہ کسی فائیو اسٹار ریستوران میں ساتھ کھڑے آرڈر لیتے اور ہماری دائیں طرف سے پلیٹیں رکھتے ”جی سرجی سر“ کہتے بیرے کے عزت واحترام کے جملوں میں بھی محسوس نہیں ہوسکتا کیونکہ ان روٹیوں کے آٹے میں ماں اپنی محنت ہی نہیںاپنی محبت بھی گوندھ دیتی ہے ماں سے جڑی ہر شے اور ہریاد سے محبت ہوجانا اک فطری امر ہے یہی وجہ ہے کہ انسان کو دنیا جہاں کی زبانوں پر عبور حاصل ہوجائے اس کے باوجود جو مزہ اسے اپنی مادری زبان بولنے اور سننے میں آتا ہے وہ ا سے کسی بھی زبان میں نہیں آسکتا کسی بھی زبان میں شاعری اور ادب ایک ایسا فن ہوتا ہے جو تخیلات و احساسات کو مادی شکل دے دیتا ہے شاعرکی دی ہوئی سوچ اکثر ہمارے ذہن ودل کے نہاں خانوں میںپہلے سے ہی پنہاں ہوتی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے فن کی مددسے ان تخیلات کو تحریک دیتا ہے اورتصویر بنا کر ہماری آنکھوں کے سامنے لے آتاہے
یورپ میں جہاں انسان مشینوں کے ساتھ مشین بنتا چلا جاتا ہے اور خواہشا ت کے پزل حل کرتے کرتے اس کا تعلق جذبات واحساسات سے ٹوٹتا جاتا ہے وہاں کچھ لوگ ابھی ایسے بھی ہیں جن کی خلوتوں کے آنگن میںجذبات کی ایسی برسات ہوتی ہے جو انہیں کسی مشین کاپیچ بننے کی بجائے انسان ہونے کا کامل یقین دلاتی رہتی ہے اور وہ اپنے فن کی مدد سے اس برسات کی بوندوں کو پھوار بنا کر اپنے اردگرد بسنے والوں کے ذہنوں پر ٹپ ٹپ دستک دیتے رہتے ہیں جو سارا سچ بول کر منصورکی رسم سچائی نبھانے کی کوشش کرتے ہیں انہیں ذہنوں کو دستک دینے والوں میں رضا شاہ بھی شامل ہے جو اٹلی میں ایک ایسا شاعرثابت ہوئے ہیں جن کی سوچ میں انقلاب اور اپنے وطن کی مٹی سے محبت شامل ہے ان کی کتاب ”اکلا میں منصور“(اکیلا میںمنصور)ظلم وجبر اور ناانصافی کو نامنظور کرتے ہوئے دنیا بھر میں رہنے والے پنجابیوں کو نہ صرف سرسوں کا ساگ اور مکئی کی روٹی کی مہک سے محظوظ کراتی ہے بلکہ ڈکٹیٹرشپ اور آمریت کو ”دھونا ں توں پھڑنے “ (گردنوں سے پکڑنے )کا عزم دلاتی ہے ، جو ایک طرف تو اپنی دھرتی اپنے ”پنڈ “سے محبت کراتی ہے اور ”زندہ پاکستان رہوے دا “ کا ولولہ دلوں میں جاگزیں کرتی ہے تو دوسری جانب اپنے قاری پر حیرتوں کے دروازے کھولتے جاتی ہے کہ پردیس میں ڈالرز،یوروز ، تنخواہ ، امیگریشن اور نفسا نفسی کے چکر سے نکل کر کیسے کوئی اتنی اچھی سوچ تخلیق کر سکتا ہے رضا شاہ ایسا درد دل رکھنے والاشاعر ہے جو اپنی کتاب میں برملا ”جنگاں تو ں نفرت “کا اعلان کرتا ہے اور ان کی نظم ”ونڈ“ برصغیر پاک وہند میں تقسیم کے موضوع پر لکھی جانی والی نظموں میں اپنا ایک مقام پیدا کرے گی جوایک طرف تو دل کو ہلا دینے والی”راوی تے جھنا دے پانیاں دے وین“کا قصہ سناتی ہے اور ساتھ ہی ان لوگوںکوپیغام بھی دیتی ہے جو محض زبان کے بت کی پوجا کرتے ہیں کہ کیسے ایک ہی بولی بولنے والے بعض دفعہ صرف نظریہ کے اختلاف پرظلم وستم کی وہ داستانیں رقم کرتے ہیں کہ تاریخ شرم سے اپنا منہ چھپاتی ہے اس کتاب کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس میں الفت و چاہت کے نغمے تو ہیں لیکن یہ نغمے کسی ظالم محبوب کے در پر بھکاری بناکر بٹھانے کی بجائے ”اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا “کے تحت اپنے قاری کو ”اسی تاریخ لکھنے آں “کی نئی انقلابی سوچ پیدا کرتی ہے جابر اور استحصالی طبقے کو ”تیرے ساڈڑ ے کائیں دے رشتے نیں “اور ”میرے ٹھگاں نال مقابلے ، میری چوراں دے نال جنگ “کہتے ہوئے کلمہ حق بیان کرتی ہے
مورخہ دس اپریل2011ءکومیلان کے ایک ریسٹورنٹ میں اس کتاب کی تقریب رونمائی ہوئی جس میں اٹلی بھر سے شعر وادب کی دنیا سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ دیگر پاکستانیوں نے شرکت کی اس کتاب کی رسم رونمائی برطانیہ میں ہاﺅس آف لارڈ کے ممبر لارڈ نذیر احمدکے ہاتھوں انجام پائی مہمان خصوصی سویڈن میں پہلے ایشیائی جج جسٹس آصف شاہکار اور میلان قونصلیٹ میں ویلفئیر اتاشی جناب سید محمد فاروق تھے اس تقریب کی نقابت کے فرائض انجام دئے میلان کے معروف شاعر چودھری شاہد نذیر صاحب نے جنہوں نے کتاب کی مختلف نظمیں ترنم کے ساتھ پڑھ کرمحفل کا سماں باندھ دیا کتاب کے بارے تعریفی و تنقیدی مقالہ جات میں راقم الحروف کے علاوہ جناب جیم فے غوری،محمد شریف چیمہ ، امتیاز گلیانوی، انوار الحق، لیاقت علی شفقت اور ملک نصیر احمد نے حصہ لیا
جناب جیم فے غوری نے رضا شاہ کو ایک باغی شاعر قرار دیتے ہوئے کہا ”اس کتاب کی شاعری میں فلسفہ مزاحمت پوشیدہ ہے جس میں امن محبت اور انصاف کا پرچار ملتا ہے اوراس میں روایت پسندی کے ساتھ ساتھ مقصدیت شامل کر دی گئی ہے“ پوٹھوہاری ادیب وشاعر امتیاز گلیانوی نے کہا ”رضا شاہ کی اس کتاب میں روزمرہ کے معاملات کو اپنی شاعری کا موضوع بنایاگیا ہے جن میں سیاسی ،علاقائی، ملکی و قومی رومانوی و افسانوی مسائل کو شاعر نے بڑے احسن طریقے سے بیان کیا ہے اس کتاب میں غم جاناں کے ساتھ ساتھ غم دوراں کو جوڑ کر کتاب کا لطف دوبالا کیا گیا ہے “اٹلی میں پنجابی شاعر محمد شریف چیمہ نے کہا کہ ”اس کتاب میں رضا شاہ نے مظلوموں ، محکوموں ، مجبوروںاور پسے ہوئے لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے استحصالی نظام کو للکارا ہے “حلقہ ادب وثقافت کے صدر ملک نصیر احمد نے کتاب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں اٹلی میں پیدا ہونی والی ہماری نئی نسل اگر ان سے کبھی ان کے دیس کے بارے پوچھے گی تو وہ انہیں صرف ایک یہی کتاب پیش کردیں گے جس میں ساراپنجاب اور اسکی روایات بستی ہیں“تحریک منہاج القرآن یورپ کے سابق صدر سید ارشد شاہ صاحب جو صاحب کتاب کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں نے اپنے خطاب میں کہا کہ شاعر نے نہ صرف اپنی تحریرمیں امن کاخوبصورت پیغام دیا ہے بلکہ اپنی جوانی سے ہی عملی طور پر بھی رضا شاہ تشدداور ظلم کی روایات کے مخالف تھے
کتاب پر تنقیدی مقالہ پیش کرتے ہوئے ادیب و شاعر جناب انوار الحق صاحب نے کہا کہ کتاب کا نام ”اک ہور منصور “ہونا چاہیے تھا کہ سچ بولنے کی ریت ڈالنی چاہیے اور ماضی میں سچ بولنے والوں کے کام کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے معروف کالم نگارلیاقت علی شفقت نے کہا کہ ”کتاب میں ترقی پسندوں ، دہریہ اور کمیونزم کے ہامیوں کے فلسفہ کا پرچار بھی ملتا ہے حالانکہ دنیا میں یہ سارے فلسفے اپنی موت آپ مر چکے ہیں انہوں نے کہا کہ رضا شاہ کی کتاب میں رانجھا کا تذکرہ تو بار بار آتا ہے لیکن صاحب کتاب نے گجرات کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہوئے بھی کہیں بھی گجرات کی مشہور داستان سوہنی مہینوال کی داستان کو اپنی شاعری کا حصہ نہیں بنایا “واقعی گجرات والوں کے سر اس بات کا سہرا توضرور جاتا ہے کہ جن کا عزم پکا ہوان کا گھڑا چاہے کچا ہی کیوں نہ ہووہ تاریخ کا حصہ ضرور بنتے ہیں
میلان قونصلیٹ میں ویلفئیر اتاشی جناب سید محمد فارق نے شاعری میں نئے وژن اور نئی سوچ کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں مزاحمتی رویہ کی بجائے مسائل کے حل کافلسفہ بھی اپنی تحریروں میں لانا ہوگا مہمان خصوصی جسٹس آصف شاہکارصاحب نے اپنے تقریر میںپنجابی زبان کے فروغ اور اس کو پاکستان کی قومی زبان بنانے کا مطالبہ کیا ان کا خیال تھا کہ پنجابی کے ساتھ بڑی زیادتی ہو رہی ہے اور پنجابی بولنے والوں کو غیر مہذب اور ان پڑھ تصور کیا جاتا ہے انہوں نے کلا میں منصور کو پنجابی زبان کے فروغ کے لیے بہترین ذریعہ کہا اور شاعر کو ایک سچااور باکمال انسان قرار دیا لارڈ نذیر احمدصاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستانیوں کو جب بھی ٹیلنٹ استعمال کرنے کا موقع ملا انہوں نے زندگی کے ہر شعبہ میں کمال کر دکھا یا یہ کتاب اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ ایک پاکستانی پردیس میں فکر معاش کے ساتھ ساتھ دنیا کواتنی اچھی سوچ بھی دے سکتا ہے انہوں نے رضا شاہ کورسم سچائی نبھانے والے منصور کی بجائے ٹیپوسلطان سے تشبیہہ دی کہ ان کی شاعری میں انقلابی سوچ پوشیدہ ہے انہوں نے کہا کہ وہ بہت جلد اس کتاب کی تقریب رونمائی برطانیہ میں ہاﺅ س آف لا رڈ میں کرائیں گے
”کلا میں منصور“ پنجابی ادب میں ایک خوبصورت اضافہ ثابت ہوگی اور یورپ میں رہنے والے پاکستانیوں کے لیے یہ بات باعث فخر ہوگی کہ اس کتاب کا شاعر اٹلی میں رہتا ہے احساس برتری کے مریض لوگ تہذیب کا تعلق مخصوص زبانوں کے ساتھ جوڑتے ہیں حالانکہ تہذیب کا تعلق کسی زبان سے نہیں بلکہ افراد کی تربیت سے ہوتا ہے زبان کوئی بھی ہو اہم بات یہ ہے کہ آپ کی سوچ کتنی عظیم ہے اور آپ کاگفتگو کتنی پاکیزہ ہے آپ دنیا کی کوئی سی بھی زبان بول لیں ایک بات کا اندازہ آپ کے لہجہ سے ہوجائے گا اور وہ ہے محبت ۔۔۔۔ رضا شاہ صاحب اپنی کتاب کلا میں منصور میں لکھتے ہیں
جنہوں اپنی دنیا دا سلطان بنا کے رکھیا اے اوہنے دل دی نگری نوں ویران بنا کے رکھیا اے
من جدوی کنڈے چبھے نیں اصلی دے کولوں چبھے نیں ایسے لئی نقلی پھلاں دا گلدان بنا کے رکھیا اے
تحریر محمود اصغر چوہدری ایڈیٹر جذبہ اٹلی
www.mahmoodch.com mahmoodch1@gmail.com
انسان دنیا کے بڑے سے بڑے ریستوران میں کھانا کھالے ،بڑے اسٹائل اور مہذبانہ طریقہ سے ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے چھری کو دائیں اور کانٹے کو بائیں ہاتھ سے پکڑنے کا ہنر بھلے ہی سیکھ لے لیکن جو مزہ اسے ماں کی ہاتھ سے بنے ہوئے ”پھلکوں“ میں آتا ہے وہ دنیا کی کسی ڈش میں نہیں آسکتا اور جولطف کسی پنجابی دیہاتی کو ”بینڈے “ پر بیٹھ کر ماں کے چولہے کے ساتھ پڑی ہوئی ”چنگیر “سے” پراٹھا“ چراتے اورماں سے ”چمٹے “کی ما رکھاتے ہوئے آئے گا وہ کسی فائیو اسٹار ریستوران میں ساتھ کھڑے آرڈر لیتے اور ہماری دائیں طرف سے پلیٹیں رکھتے ”جی سرجی سر“ کہتے بیرے کے عزت واحترام کے جملوں میں بھی محسوس نہیں ہوسکتا کیونکہ ان روٹیوں کے آٹے میں ماں اپنی محنت ہی نہیںاپنی محبت بھی گوندھ دیتی ہے ماں سے جڑی ہر شے اور ہریاد سے محبت ہوجانا اک فطری امر ہے یہی وجہ ہے کہ انسان کو دنیا جہاں کی زبانوں پر عبور حاصل ہوجائے اس کے باوجود جو مزہ اسے اپنی مادری زبان بولنے اور سننے میں آتا ہے وہ ا سے کسی بھی زبان میں نہیں آسکتا کسی بھی زبان میں شاعری اور ادب ایک ایسا فن ہوتا ہے جو تخیلات و احساسات کو مادی شکل دے دیتا ہے شاعرکی دی ہوئی سوچ اکثر ہمارے ذہن ودل کے نہاں خانوں میںپہلے سے ہی پنہاں ہوتی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے فن کی مددسے ان تخیلات کو تحریک دیتا ہے اورتصویر بنا کر ہماری آنکھوں کے سامنے لے آتاہے
یورپ میں جہاں انسان مشینوں کے ساتھ مشین بنتا چلا جاتا ہے اور خواہشا ت کے پزل حل کرتے کرتے اس کا تعلق جذبات واحساسات سے ٹوٹتا جاتا ہے وہاں کچھ لوگ ابھی ایسے بھی ہیں جن کی خلوتوں کے آنگن میںجذبات کی ایسی برسات ہوتی ہے جو انہیں کسی مشین کاپیچ بننے کی بجائے انسان ہونے کا کامل یقین دلاتی رہتی ہے اور وہ اپنے فن کی مدد سے اس برسات کی بوندوں کو پھوار بنا کر اپنے اردگرد بسنے والوں کے ذہنوں پر ٹپ ٹپ دستک دیتے رہتے ہیں جو سارا سچ بول کر منصورکی رسم سچائی نبھانے کی کوشش کرتے ہیں انہیں ذہنوں کو دستک دینے والوں میں رضا شاہ بھی شامل ہے جو اٹلی میں ایک ایسا شاعرثابت ہوئے ہیں جن کی سوچ میں انقلاب اور اپنے وطن کی مٹی سے محبت شامل ہے ان کی کتاب ”اکلا میں منصور“(اکیلا میںمنصور)ظلم وجبر اور ناانصافی کو نامنظور کرتے ہوئے دنیا بھر میں رہنے والے پنجابیوں کو نہ صرف سرسوں کا ساگ اور مکئی کی روٹی کی مہک سے محظوظ کراتی ہے بلکہ ڈکٹیٹرشپ اور آمریت کو ”دھونا ں توں پھڑنے “ (گردنوں سے پکڑنے )کا عزم دلاتی ہے ، جو ایک طرف تو اپنی دھرتی اپنے ”پنڈ “سے محبت کراتی ہے اور ”زندہ پاکستان رہوے دا “ کا ولولہ دلوں میں جاگزیں کرتی ہے تو دوسری جانب اپنے قاری پر حیرتوں کے دروازے کھولتے جاتی ہے کہ پردیس میں ڈالرز،یوروز ، تنخواہ ، امیگریشن اور نفسا نفسی کے چکر سے نکل کر کیسے کوئی اتنی اچھی سوچ تخلیق کر سکتا ہے رضا شاہ ایسا درد دل رکھنے والاشاعر ہے جو اپنی کتاب میں برملا ”جنگاں تو ں نفرت “کا اعلان کرتا ہے اور ان کی نظم ”ونڈ“ برصغیر پاک وہند میں تقسیم کے موضوع پر لکھی جانی والی نظموں میں اپنا ایک مقام پیدا کرے گی جوایک طرف تو دل کو ہلا دینے والی”راوی تے جھنا دے پانیاں دے وین“کا قصہ سناتی ہے اور ساتھ ہی ان لوگوںکوپیغام بھی دیتی ہے جو محض زبان کے بت کی پوجا کرتے ہیں کہ کیسے ایک ہی بولی بولنے والے بعض دفعہ صرف نظریہ کے اختلاف پرظلم وستم کی وہ داستانیں رقم کرتے ہیں کہ تاریخ شرم سے اپنا منہ چھپاتی ہے اس کتاب کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس میں الفت و چاہت کے نغمے تو ہیں لیکن یہ نغمے کسی ظالم محبوب کے در پر بھکاری بناکر بٹھانے کی بجائے ”اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا “کے تحت اپنے قاری کو ”اسی تاریخ لکھنے آں “کی نئی انقلابی سوچ پیدا کرتی ہے جابر اور استحصالی طبقے کو ”تیرے ساڈڑ ے کائیں دے رشتے نیں “اور ”میرے ٹھگاں نال مقابلے ، میری چوراں دے نال جنگ “کہتے ہوئے کلمہ حق بیان کرتی ہے
مورخہ دس اپریل2011ءکومیلان کے ایک ریسٹورنٹ میں اس کتاب کی تقریب رونمائی ہوئی جس میں اٹلی بھر سے شعر وادب کی دنیا سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ دیگر پاکستانیوں نے شرکت کی اس کتاب کی رسم رونمائی برطانیہ میں ہاﺅس آف لارڈ کے ممبر لارڈ نذیر احمدکے ہاتھوں انجام پائی مہمان خصوصی سویڈن میں پہلے ایشیائی جج جسٹس آصف شاہکار اور میلان قونصلیٹ میں ویلفئیر اتاشی جناب سید محمد فاروق تھے اس تقریب کی نقابت کے فرائض انجام دئے میلان کے معروف شاعر چودھری شاہد نذیر صاحب نے جنہوں نے کتاب کی مختلف نظمیں ترنم کے ساتھ پڑھ کرمحفل کا سماں باندھ دیا کتاب کے بارے تعریفی و تنقیدی مقالہ جات میں راقم الحروف کے علاوہ جناب جیم فے غوری،محمد شریف چیمہ ، امتیاز گلیانوی، انوار الحق، لیاقت علی شفقت اور ملک نصیر احمد نے حصہ لیا
جناب جیم فے غوری نے رضا شاہ کو ایک باغی شاعر قرار دیتے ہوئے کہا ”اس کتاب کی شاعری میں فلسفہ مزاحمت پوشیدہ ہے جس میں امن محبت اور انصاف کا پرچار ملتا ہے اوراس میں روایت پسندی کے ساتھ ساتھ مقصدیت شامل کر دی گئی ہے“ پوٹھوہاری ادیب وشاعر امتیاز گلیانوی نے کہا ”رضا شاہ کی اس کتاب میں روزمرہ کے معاملات کو اپنی شاعری کا موضوع بنایاگیا ہے جن میں سیاسی ،علاقائی، ملکی و قومی رومانوی و افسانوی مسائل کو شاعر نے بڑے احسن طریقے سے بیان کیا ہے اس کتاب میں غم جاناں کے ساتھ ساتھ غم دوراں کو جوڑ کر کتاب کا لطف دوبالا کیا گیا ہے “اٹلی میں پنجابی شاعر محمد شریف چیمہ نے کہا کہ ”اس کتاب میں رضا شاہ نے مظلوموں ، محکوموں ، مجبوروںاور پسے ہوئے لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے استحصالی نظام کو للکارا ہے “حلقہ ادب وثقافت کے صدر ملک نصیر احمد نے کتاب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں اٹلی میں پیدا ہونی والی ہماری نئی نسل اگر ان سے کبھی ان کے دیس کے بارے پوچھے گی تو وہ انہیں صرف ایک یہی کتاب پیش کردیں گے جس میں ساراپنجاب اور اسکی روایات بستی ہیں“تحریک منہاج القرآن یورپ کے سابق صدر سید ارشد شاہ صاحب جو صاحب کتاب کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں نے اپنے خطاب میں کہا کہ شاعر نے نہ صرف اپنی تحریرمیں امن کاخوبصورت پیغام دیا ہے بلکہ اپنی جوانی سے ہی عملی طور پر بھی رضا شاہ تشدداور ظلم کی روایات کے مخالف تھے
کتاب پر تنقیدی مقالہ پیش کرتے ہوئے ادیب و شاعر جناب انوار الحق صاحب نے کہا کہ کتاب کا نام ”اک ہور منصور “ہونا چاہیے تھا کہ سچ بولنے کی ریت ڈالنی چاہیے اور ماضی میں سچ بولنے والوں کے کام کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے معروف کالم نگارلیاقت علی شفقت نے کہا کہ ”کتاب میں ترقی پسندوں ، دہریہ اور کمیونزم کے ہامیوں کے فلسفہ کا پرچار بھی ملتا ہے حالانکہ دنیا میں یہ سارے فلسفے اپنی موت آپ مر چکے ہیں انہوں نے کہا کہ رضا شاہ کی کتاب میں رانجھا کا تذکرہ تو بار بار آتا ہے لیکن صاحب کتاب نے گجرات کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہوئے بھی کہیں بھی گجرات کی مشہور داستان سوہنی مہینوال کی داستان کو اپنی شاعری کا حصہ نہیں بنایا “واقعی گجرات والوں کے سر اس بات کا سہرا توضرور جاتا ہے کہ جن کا عزم پکا ہوان کا گھڑا چاہے کچا ہی کیوں نہ ہووہ تاریخ کا حصہ ضرور بنتے ہیں
میلان قونصلیٹ میں ویلفئیر اتاشی جناب سید محمد فارق نے شاعری میں نئے وژن اور نئی سوچ کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں مزاحمتی رویہ کی بجائے مسائل کے حل کافلسفہ بھی اپنی تحریروں میں لانا ہوگا مہمان خصوصی جسٹس آصف شاہکارصاحب نے اپنے تقریر میںپنجابی زبان کے فروغ اور اس کو پاکستان کی قومی زبان بنانے کا مطالبہ کیا ان کا خیال تھا کہ پنجابی کے ساتھ بڑی زیادتی ہو رہی ہے اور پنجابی بولنے والوں کو غیر مہذب اور ان پڑھ تصور کیا جاتا ہے انہوں نے کلا میں منصور کو پنجابی زبان کے فروغ کے لیے بہترین ذریعہ کہا اور شاعر کو ایک سچااور باکمال انسان قرار دیا لارڈ نذیر احمدصاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستانیوں کو جب بھی ٹیلنٹ استعمال کرنے کا موقع ملا انہوں نے زندگی کے ہر شعبہ میں کمال کر دکھا یا یہ کتاب اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ ایک پاکستانی پردیس میں فکر معاش کے ساتھ ساتھ دنیا کواتنی اچھی سوچ بھی دے سکتا ہے انہوں نے رضا شاہ کورسم سچائی نبھانے والے منصور کی بجائے ٹیپوسلطان سے تشبیہہ دی کہ ان کی شاعری میں انقلابی سوچ پوشیدہ ہے انہوں نے کہا کہ وہ بہت جلد اس کتاب کی تقریب رونمائی برطانیہ میں ہاﺅ س آف لا رڈ میں کرائیں گے
”کلا میں منصور“ پنجابی ادب میں ایک خوبصورت اضافہ ثابت ہوگی اور یورپ میں رہنے والے پاکستانیوں کے لیے یہ بات باعث فخر ہوگی کہ اس کتاب کا شاعر اٹلی میں رہتا ہے احساس برتری کے مریض لوگ تہذیب کا تعلق مخصوص زبانوں کے ساتھ جوڑتے ہیں حالانکہ تہذیب کا تعلق کسی زبان سے نہیں بلکہ افراد کی تربیت سے ہوتا ہے زبان کوئی بھی ہو اہم بات یہ ہے کہ آپ کی سوچ کتنی عظیم ہے اور آپ کاگفتگو کتنی پاکیزہ ہے آپ دنیا کی کوئی سی بھی زبان بول لیں ایک بات کا اندازہ آپ کے لہجہ سے ہوجائے گا اور وہ ہے محبت ۔۔۔۔ رضا شاہ صاحب اپنی کتاب کلا میں منصور میں لکھتے ہیں
جنہوں اپنی دنیا دا سلطان بنا کے رکھیا اے اوہنے دل دی نگری نوں ویران بنا کے رکھیا اے
من جدوی کنڈے چبھے نیں اصلی دے کولوں چبھے نیں ایسے لئی نقلی پھلاں دا گلدان بنا کے رکھیا اے

0 commenti:
Posta un commento